شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
قافیہ: ونبه
صنف: غزل/قصیده/قطعه
بر عقل فلک پیما ترکانه شبیخون به
یک ذره درد دل از علم فلاطون به
آسمان تک رسائی حاصل کرنے والی عقل پر ترکوں کی طرح شبخون مارنا ہی اچھا ہے یعنی اسے عشق کے آگے سرنگوں کرنا ضروری ہے کیونکہ دردِ عشق کا ایک ذرہ عظیم فلسفی افلاطون کے علم سے کہیں بڑھ کر ہے ۔
Better is the robbers’ train than the heaven-pacing brain, better one distress of heart than all Plato’s learned art.
دی مغبچه ئی با من اسرار محبت گفت
اشکی که فرو خوردی از بادهٔ گلگون به
کل مے خانے میں ایک کم سن ساقی نے مجھے محبت کے راز بتائے ۔ اس نے مجھ سے کہا کہ جو آنسو تو غم عشق میں پیتا ہے وہ گلابی رنگ کی شراب سے کہیں بہتر ہے ۔
Yesterday the Magian boy told me of love’s secret joy: ‘Better that salt tear of thine than the sweet and ruby wine.’
آن فقر که بی تیغی صد کشور دل گیرد
از شوکت دارا به از فر فریدون به
ایسا فقر جو تلوار اٹھائے بغیر سینکڑوں دلوں پر فتح پا لیتا ہے وہ ایران کے بادشاہ دارا کی شوکت اور فریدون کی عظمت سے بہتر ہے ۔
Better poverty that gains bloodlessly the heart’s domains, than the realm Darius won, Feridun’s dominion.
در دیر مغان آئی مضمون بلند آور
در خانقه صوفی افسانه و افسون به
اگر تو شراب کشید کرنے والے مندر میں آئے (یعنی کسی صاحب فکر کی محفل میں اگر تو آئے) تو اپنے مقاصد اور حوصلے بلند رکھنا کیونکہ نام نہاد صوفیوں کی خانقاہوں میں تو خیالی باتیں اور جادوگری کے کمال ہوتے ہیں جبکہ مردِ حق کی بارگاہ میں حق پرستی کا ذکر ہوتا ہے ۔
In the Magian temple cry; let Thy voice be heard on high! But within the Sufi cell better is the whispered spell.
در جوی روان ما بی منت طوفانی
یک موج اگر خیزد آن موج ز جیحون به
ہماری اس بہتی ہوئی ندی میں طوفان کے احسان کے بغیر اگر ایک موج بھی بلند ہو جائے تو وہ موج دریائے جیحوں کی موج سے بہتر ہے ۔ مطلب یہ کہ دوسرے کے زیر بار احسان ہونے سے خودی پر ضرب آتی ہے ۔ دوسروں کے احسان اٹھا کر ندی کو سمندر بنانے سے بہتر ہے اپنی ہمت سے اس میں ہلکی پھلکی لہریں پیدا کی جائیں ۔
With our river of heart’s blood need is none of Noah’s flood; better there one swelling wave than where Oxus’ waters lave.
سیلی که تو آوردی در شهر نمی گنجد
این خانه بر اندازی در خلوت هامون به
وہ سیلاب (عشق کا طوفان) جسے تو لے کر آیا ہے اس کی شہر میں گنجائش نہیں ہے ۔ جس عشق کا تذکرہ تو کر رہا ہے یہ گھر برباد کرنے والا ہے اس سے صحرا ہی بہتر ہے ۔ جس شاعری کا تو تذکرہ کر رہا ہے اسے دنیا دار سمجھنے سے قاصر ہیں ۔
Lo, Thy torrent sweeping down threatens to engulf the town! Better let Thy havoc be in the desert’s privacy.
اقبال غزل خوان را کافر نتوان گفتن
سودا بدماغش زد از مدرسه بیرون به
غزل گو اقبال کو کافر نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کے پیغام میں کوئی ایسی بات نہیں کہ اس پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے ۔ پھر بھی یہی بہتر ہے کہ وہ مدرسے سے باہر ہی رہے ۔ کیونکہ اس کے دماغ میں عشق کا جنون بھرا ہوا ہے اور عشق کی بات اہل ِ مدرسہ کیا جانیں ۔
Singer Iqbal, sooth to tell, call him not an infidel: Better he were out of school till his fevered brain shall cool!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور