صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 19

غزل شمارهٔ 19

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ین

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 23

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر
بند 1
Toggle stanza 1
1

یا مسلمان را مده فرمان که جان بر کف بنه

یا درین فرسوده پیکر تازه جانی آفرین

اے خدا! تو اس وقت مسلمانوں کو جان ہتھیلی پر رکھنے کا حکم مت دے (کیونکہ ان کے جسم جہاد کے قابل نہیں ہیں ) یا ان کے ناتواں جسموں میں طاقت وہمت بھر دے ۔ یعنی تیرے راستے میں لڑنے کا حوصلہ عطا کر دے یا ویسا کر دے یا ایسا کر دے ۔

Either do not tell the Muslim to put his life at risk, or else breathe a new soul into this worn-out frame. Do one thing or the other!

بند 2
یا چنان کن یا چنین
Toggle stanza 2
2

یا برهمن را بفرما نو خداوندی تراش

یا خود اندر سینهٔ زناریان خلوت گزین

یا تو ہندووَں کے پیشوا برہمن کو حکم دے کہ وہ پرانے خداؤں کی جگہ کوئی نیا خدا تراش لے یا تو خود زناریوں کے سینے میں اپنی ربوبیت کو جگہ دے ۔ مطلب یہ کہ ہندووَں میں بھی اپنے دیوتاؤں سے خلوص کم ہو چکا ہے یا تو انہیں پکا برہمن بنا دے یا ان کے دلوں میں اتر کر انہیں اپنا پرستار بنا لے ۔ یا ویسا کر یا ایسا کر ۔

Either tell the Brahmin to carve a new idol, or go and dwell in zunnar-wearers’ hearts yourself. Do one thing or the other!

بند 3
یا چنان کن یا چنین
Toggle stanza 3
3

یا دگر آدم که از ابلیس باشد کمترک

یا دگر ابلیس بهر امتحان عقل و دین

اے خدا یا کوئی اور آدم پیدا کر جو شیطان سے مکر و چال کے لحاظ سے کمتر ہو یا دین اور عقل کے امتحان کے لیے ایک اور شیطان پیدا کر لے ۔ مطلب یہ کہ آج کے عہد کا انسان شیطانی سوچ کے لحاظ سے شیطان سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے اب تیری مرضی ہے ۔ یا ویسا کر یا ایسا کر ۔

Either a new Adam, a little less evil than Iblis or another Iblis to challenge faith and reason! Do one thing or the other!

بند 4
یا چنان کن یا چنین
Toggle stanza 4
4

یا جهانی تازه ئی یا امتحانی تازه ئی

می کنی تا چند با ما آنچه کردی پیش ازین

یا کوئی نیا جہان پیدا کر یا اس جہان کے لیے کوئی نیا امتحان لے ۔ تو ہمارے ساتھ کب تک وہی پرانا کھیل کھیلتا رہے گا ۔ چنانچہ، یا ویسا کر یا ایسا کر ۔

Either a new world or a new test! For how long will you go on treating us like this? Do one thing or the other!

بند 5
یا چنان کن یا چنین
Toggle stanza 5
5

فقر بخشی؟ باشکوه خسرو پرویز بخش

یا عطا فرما خرد با فطرت روح الامین

اے خدا! اگر تو نے مجھے فقر بخشا ہے تو خسرو پرویز جیسے بادشاہ کی شان و شوکت میں عطا کر ۔ یا مجھے وہ عقل عطا کر جس کی فطرت حضرت روح الا میں فرشتہ جیسی ہو ۔ یا ویسا کر یا ایسا کر ۔

Give us poverty? Do it, but gives us Chosroe’s glory as well! Or give us reason together with Gabriel’s disposition. Do one thing or the other!

بند 6
یا چنان کن یا چنین
Toggle stanza 6
6

یا بکش در سینهٔ من آرزوی انقلاب

یا دگرگون کن نهاد این زمان و این زمین

یا تو (اے خدا) میرے دل سے انقلاب کی تمنا ہی ختم کر لے یا پھر اس زمانے کی طبیعت بدل دے ۔ یا ویسا کر یا ایسا کر ۔

Either kill the desire for revolution that stirs in my heart, or completely change these heavens and the earth. Do one thing or the other!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بر عقل فلک پیما ترکانه شبیخون به

یک ذره درد دل از علم فلاطون به

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 18

اگلی نظم

عقل هم عشق است و از ذوق نگه بیگانه نیست

لیکن این بیچاره را آن جرأت رندانه نیست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 20

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای اثرهای خرامت چشم حیران درکمین

هرکجا پا می‌نهی آیینه می‌بوسد زمین

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2556

بی‌سراغی نیست ‌گرد هستی وحشت ‌کمین

نقش پای جلوه‌ای داریم در خط جبین

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2558

نیست ممکن واژگونیهای طالع بیش ازین

سرنوشت ماست نام دیگران ‌همچون نگین

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2560

گفت دانایی چو پرسیدم که قلب العبد این

از سر بینش که قلب العبد بین الاصبعین

جامی»دیوان اشعار»اشعار پراکنده»شمارهٔ 2

برتر آمد در علو این منزل از چرخ برین

نیست با این منزلت یک خانه در روی زمین

جامی»دیوان اشعار»قصاید»شمارهٔ 21

جامی ارباب کرم نایاب چون عنقا شدند

اهل همت را بود قاف قناعت فرض عین

جامی»دیوان اشعار»قطعات»شمارهٔ 37

ای ز خورشید رخت تا ماه بعد المشرقین

اهل بینش را تماشای جمالت فرض عین

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 739

ترک شهر آشوب من زینسان که شد صحرانشین

خواهم از شوقش به صحرا رو نهادن بعد ازین

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 742

هر خوشی که فوت شد از تو مباش اندوهگین

کو به نقشی دیگر آید سوی تو، می‌دان یقین

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1937

نازنینی را رها کن با شهان نازنین

ناز گازر برنتابد آفتاب راستین

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1938

مزید تلاش کریں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور