صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات

باب

غزلیات

نظمیں

غزلیات

  1. زندہ رود
  2. »علامہ اقبال
  3. »زبور عجم
  4. »حصهٔ اول (غزلیات)
  5. »غزلیات

غزل شمارهٔ 51–بحرفی می توان گفتن تمنای جهانی را

اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔

A single word sufficeth well the passion of a world to tell: The joy to view thee night to me moved me to this long history.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 51

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 52–چند بروی خودکشی پردهٔ صبح و شام را

(اے خالق کائنات) تو کب تک اپنے رُخ روشن پر صبح و شام کا پردہ کھینچتا رہے گا ۔ اپنی صورت مجھے دکھا اور اپنے نامکمل جلووَں کو مکمل کر دے ۔

How long the veil of eve and dawn about Thy beauty shall be drawn? Thy cheek display: make whole to me this incomplete epiphany.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 52

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 53–نفس شمار به پیچاک روزگار خودیم

میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں ۔ میں سمندر کی طرح شور کر رہا ہوں لیکن اپنے کناروں کے اندر ہی اندر بہہ رہا ہوں ۔ (انسان جتنی بھی ترقی کر لے اسے اپنی حدود میں ہی رہنا پڑتا ہے) ۔

One by one we count our breath on the narrow road to death; like a raging sea we roar as we walk along the shore.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 53

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 54–به فغان نه لب گشودم که فغان اثر ندارد

میں نے آہ و زاری کے لیے لبوں کو وا نہیں کیا ۔ کیونکہ یہاں آہ و زاری کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لیے دل کا غم نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص کے پاس اس کے سننے کا حوصلہ بھی تو نہیں ہوتا ۔

No lament, no sigh I uttered; naught avail laments and sighs; best unspoken, the heart’s sorrow; there be few to sympathize.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 54

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 55–ما که افتنده‌تر از پرتو ماه آمده‌ایم

(ہماری حالت یہ کہ) ہم تو چاند کی چاندنی سے بھی زیادہ عاجزی کے ساتھ اس زمین پر آئے ہوئے ہیں ۔ کسے خبر ہے ہم نے یہ سارا سفر کس طرح طے کیا ہےہم عالمِ ارواح سے (جہاں ہمیں دیدارِ خداوندی نصیب ہوتا تھا ) زمین پر آ گئے اور جسم میں قید ہونے کے سبب ہماری ساری قوتیں سلب ہو کر رہ گئیں ۔ اس شعر میں عالم علوی سے عالم سفلی کی طرف سفر کا ذکر ملتا ہے ۔

Tremulous as the moon-light to our far abode we came; and no man knoweth how we trod this road.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 55

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 56–ای خدای مهر و مه خاک پریشانی نگر

اے سورج و چاند کے خدا! میری پریشان خاک کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ خاک کے اس چھوٹے سے ذرے میں ایک (وسیع و عریض) بیاباں سمایا ہوا ہے (عشق نے اس خاک کے بنے ہوئے پتلے میں خدائی صفات پیدا کر دی ہیں ) ۔

Lord, who didst bring the stars to birth, look down upon my scattered earth; the atom doth itself enfold; this boundless wilderness behold.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 56

اردوEn
5 اشعار
  1. 1
  2. 2
پچھلا صفحہ