باب
اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔
A single word sufficeth well the passion of a world to tell: The joy to view thee night to me moved me to this long history.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 51
(اے خالق کائنات) تو کب تک اپنے رُخ روشن پر صبح و شام کا پردہ کھینچتا رہے گا ۔ اپنی صورت مجھے دکھا اور اپنے نامکمل جلووَں کو مکمل کر دے ۔
How long the veil of eve and dawn about Thy beauty shall be drawn? Thy cheek display: make whole to me this incomplete epiphany.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 52
میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں ۔ میں سمندر کی طرح شور کر رہا ہوں لیکن اپنے کناروں کے اندر ہی اندر بہہ رہا ہوں ۔ (انسان جتنی بھی ترقی کر لے اسے اپنی حدود میں ہی رہنا پڑتا ہے) ۔
One by one we count our breath on the narrow road to death; like a raging sea we roar as we walk along the shore.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 53
میں نے آہ و زاری کے لیے لبوں کو وا نہیں کیا ۔ کیونکہ یہاں آہ و زاری کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لیے دل کا غم نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص کے پاس اس کے سننے کا حوصلہ بھی تو نہیں ہوتا ۔
No lament, no sigh I uttered; naught avail laments and sighs; best unspoken, the heart’s sorrow; there be few to sympathize.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 54
(ہماری حالت یہ کہ) ہم تو چاند کی چاندنی سے بھی زیادہ عاجزی کے ساتھ اس زمین پر آئے ہوئے ہیں ۔ کسے خبر ہے ہم نے یہ سارا سفر کس طرح طے کیا ہےہم عالمِ ارواح سے (جہاں ہمیں دیدارِ خداوندی نصیب ہوتا تھا ) زمین پر آ گئے اور جسم میں قید ہونے کے سبب ہماری ساری قوتیں سلب ہو کر رہ گئیں ۔ اس شعر میں عالم علوی سے عالم سفلی کی طرف سفر کا ذکر ملتا ہے ۔
Tremulous as the moon-light to our far abode we came; and no man knoweth how we trod this road.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 55
اے سورج و چاند کے خدا! میری پریشان خاک کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ خاک کے اس چھوٹے سے ذرے میں ایک (وسیع و عریض) بیاباں سمایا ہوا ہے (عشق نے اس خاک کے بنے ہوئے پتلے میں خدائی صفات پیدا کر دی ہیں ) ۔
Lord, who didst bring the stars to birth, look down upon my scattered earth; the atom doth itself enfold; this boundless wilderness behold.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 56