تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔
A single word sufficeth well the passion of a world to tell: The joy to view thee night to me moved me to this long history.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 51
(اے خالق کائنات) تو کب تک اپنے رُخ روشن پر صبح و شام کا پردہ کھینچتا رہے گا ۔ اپنی صورت مجھے دکھا اور اپنے نامکمل جلووَں کو مکمل کر دے ۔
How long the veil of eve and dawn about Thy beauty shall be drawn? Thy cheek display: make whole to me this incomplete epiphany.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 52
میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں ۔ میں سمندر کی طرح شور کر رہا ہوں لیکن اپنے کناروں کے اندر ہی اندر بہہ رہا ہوں ۔ (انسان جتنی بھی ترقی کر لے اسے اپنی حدود میں ہی رہنا پڑتا ہے) ۔
One by one we count our breath on the narrow road to death; like a raging sea we roar as we walk along the shore.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 53
میں نے آہ و زاری کے لیے لبوں کو وا نہیں کیا ۔ کیونکہ یہاں آہ و زاری کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لیے دل کا غم نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص کے پاس اس کے سننے کا حوصلہ بھی تو نہیں ہوتا ۔
No lament, no sigh I uttered; naught avail laments and sighs; best unspoken, the heart’s sorrow; there be few to sympathize.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 54
(ہماری حالت یہ کہ) ہم تو چاند کی چاندنی سے بھی زیادہ عاجزی کے ساتھ اس زمین پر آئے ہوئے ہیں ۔ کسے خبر ہے ہم نے یہ سارا سفر کس طرح طے کیا ہےہم عالمِ ارواح سے (جہاں ہمیں دیدارِ خداوندی نصیب ہوتا تھا ) زمین پر آ گئے اور جسم میں قید ہونے کے سبب ہماری ساری قوتیں سلب ہو کر رہ گئیں ۔ اس شعر میں عالم علوی سے عالم سفلی کی طرف سفر کا ذکر ملتا ہے ۔
Tremulous as the moon-light to our far abode we came; and no man knoweth how we trod this road.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 55
اے سورج و چاند کے خدا! میری پریشان خاک کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ خاک کے اس چھوٹے سے ذرے میں ایک (وسیع و عریض) بیاباں سمایا ہوا ہے (عشق نے اس خاک کے بنے ہوئے پتلے میں خدائی صفات پیدا کر دی ہیں ) ۔
Lord, who didst bring the stars to birth, look down upon my scattered earth; the atom doth itself enfold; this boundless wilderness behold.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 56
علامہ اقبال » زبور عجم » «شاخ نهال سدرهای خار و خس چمن مشو»
زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)
علامہ اقبال » زبور عجم » دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم
(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔
Rise up, for Adam’s hour of manifestation has come; the stars bow down before this handful of dust.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 1
چاند اور ستارے جو راہِ شوق (عشق) میں اکھٹے محوِ سفر ہیں وہ (حسن) کی اشارہ بازیوں کو پرکھنے ، اس کی دلفریب اداؤں کو سمجھنے اور حقیقت شناس نظر رکھنے والے ہیں (چاند اور ستارے منشاے فطرت کے مطابق مصروف سفر ہیں ) ۔
Moon and star, travelling together on the road of desire, are measuring graces and understanding gestures and are possessed of insight.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 2
لالہ کے پھولوں کے اندر نرم و لطیف ہو اکی طرح گزرا جا سکتا ہے ۔ ایک شگفتہ اور نرم سانس سے غنچہ کھلایا جا سکتا ہے ۔ (اسی طرح غم زدہ دلوں کی مسرتیں بھی تلاش کی جا سکتی ہے) ۔
Thou canst pass, like morning’s breeze, deep into the anemones, with a single breath disclose the locked secrets of the rose.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 3
یہ جہاں اس دل کو قرار پہنچانے والے محبوب (خالق کائنات) کا ایسا پیغام رساں ہے جو کبھی ایک جگہ ٹھہرتا نہیں ۔ ہر وقت سرگرمِ سفر رہتا ہے ۔ یہ جہاں کیسا زبردست قاصد ہے کہ جو سر تا پا پیغام ہی پیغام ہے (زمانہ ہر لمحہ نئے پیغامات لے کر آتا ہے) ۔
Time is the winged messenger of the Heart’s Desire; wondrous herald! Tidings fair is his life entire.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 5
میں اپنے محبوب کی سادہ دلی سے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر یہ کہتا ہے کہ (میرے غمِ عشق ) کا کوئی علاج نہیں ۔
Of the Friend’s ingenuous wit I can relate no more: By my pillow He did sit, and spoke upon the cure!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 6
عقل اگر کائنات کی حقیقتوں کی تلاش میں سرگرم عمل ہے تو یہ سب سرگرمی اس میں ذوقِ نظر کی وجہ سے ہے ۔ عقل کائنات میں موجود ہر شے کی متلاشی ہے اور حاصل کرنے کی جستجو میں رہتی ہے (ذوق نظر عشق ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے) ۔
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 7
میں ان زندہ دل لوگوں کا غلام ہوں جو سچے عاشق ہیں ۔ ان خانقاہ نشینوں نام نہاد دنیا دار صوفیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں جو کسی کو دل نہیں دیتے ۔
I am the slave of each living heart whose love is pure, refined; not cloistered monks who dwell apart, their hearts to none resigned.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 8
(حق پھیلانے اور اس کی مدافعت کے لیے) کبھی کبھی دلیل اور اعجاز بیان پر بھی بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی حق کا قیام تلوار اور نیزے کی طاقت سے بھی لیا جاتا ہے ۔
Faith depends on arguments and on magic eloquence; yet anon men serve the Lord with the lance and fearless sword.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 10
(دریا کی ) موج کی طرح خودی میں مست ہو کر طوفان سے ٹکرانے کی ہمت پیدا کر ۔ تجھے کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ خاموشی سے بیٹھ جا اور دامن میں پاؤں سمیٹ لے (با عمل زندگی بسر کرنا شروع کر دے) ۔
Drunk with self hood like a wave plunge into the stormy lave; who commanded thee to sit with thy skirts about thy feet?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 11
میں تو (صرف حقیقی مالک) سلطا ن سے نگاہِ کرم کی امید رکھتا ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچا مسلمان ہوں اور مسلمان کبھی مٹی کے معبود نہیں بناتا(مٹی کے معبودوں کی پوجا نہیں کرتا) ۔
Of the Sultan I would take one gaze, if so I may; Muslim I; I do not make a god of clay.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 13
(بڑی قوتوں سے ٹکرانے کے لیے) تو درویشی کا نشہ (شراب) برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر اور پھر اس نشہ کو مسلسل پینا شروع کر دے ۔ جب یہ نشہ تجھ میں جراَت و ہمت پیدا کر دے تو پھر ایران کے بادشاہ جمشید کی سلطنت سے ٹکر لے (یہ فقیری نشہ کر کے تو وقت کے جابر حکمرانوں سے ٹکرانے کی ہمت حاصل کرے گا) ۔
Like the dervish drunken be quaff the winecup instantly, and, when thou art bolder grown, hurl thyself on Jamshid’s throne.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 14
فرشتہ اگرچہ (انسانوں کی طرح) آسمانوں کے جادو (قوانینِ فطرت) سے آزاد ہے اس کے باوجود اس کی نظر مٹھی بھر خاک کے پتلے پر ہے ۔ یعنی وہ انسان کی رفعت کی طرف دیکھتا ہے جو اسے عشق کے سوز و گداز کی بدولت حاصل ہے ۔
Although the Angel dwells beyond the talisman of the skies, yet on this hand of dust in fond affection rest his eyes.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 16
وہ عرب جو رات کے وقت محفلیں سجاتے تھے اب کہاں ہیں ۔ وہ عجم جو عاشقانہ نغمے زندہ کرے وہ کہاں ہیں ۔ نہ تو اب عربوں میں ایمان کی حرارت باقی ہے اور نہ ہی عجمیوں میں ذوق نغمہ گری زندہ ہے ۔
Where is the Arab, to revive the old night-revelry, and where the Persian, to bring alive the love-lute’s minstrelsy?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 17
(اے مسلمان) تو صبح کی تازہ و نرم و لطیف ہوا کی طرح اٹھ اور چلنا سیکھ لے ۔ گلاب و لالہ کے پھولوں کو پھر کھلانا شروع کر دے (اپنے آپ کو بیدار کر اور دوسروں کو بھی بیداری کا پیغام دے) ۔ اپنے دل کے غنچے میں پھر سے زندگی کی خلش پیدا کرنا سیکھ لے ۔
Rise like the morning air and learn to blow again; tulip and rose are fair; play gently with their train, deep in the rosebud’s heart learn how to stab thy dart.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 18
اے سوئے ہوئے نوخیز پھول، نرگس کی طرح آنکھیں کھولتے ہوئے اٹھ (جاگ) کیونکہ ہمارا گھر غموں (بے عملی) نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 19
ہماری دنیا جو کہ سب کی سب مٹی ہے اور یہ مٹی ایک دن بے سپر ہو جائے گی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ جو سانسیں جا چکی ہیں وہ واپس آئیں گی یا نہیں (مرنے کے بعد کیا ہو گا، میں اس سے بے خبر ہوں ) ۔
Our world is dusty clay trampled upon the way; I do not think our breath returneth out of death.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 20
(اے انسان) تجھے از سر نو اپنی گذشتہ زندگی اور آنے والی زندگی پر نظر دوڑانی چاہیے ۔ وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے اٹھ ۔ اور پھر سے سوچ کہہ تجھے کیا کرنا ہے ۔
Sleeper, rise thou up, and fast! Once again upon the past and the future fix thy gaze; Thou must think on other ways.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 21
میرا (مردِ مومن) خیال آسمانوں ( میں ہونے والی تبدیلیوں ) کا مشاہدہ کر رہا ہے اور چاند کے شانوں پر اور کہکشاں کی گود میں رہ رہا ہے (زمین کا رہنے والا آسمان سے بھی پرے ہونے والے واقعات کا علم رکھتا ہے) ۔
My mind awhile was gone about the heavens to pace, high on the back of the moon, fast in the stars’ embrace.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 22
میری نوا سے تو مجھ پر قیامت کا سماں گزر گیا ہے ۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ( میں نے اپنے نغمات خون جگر سے تحریر کیے ہیں ۔ اور انہیں عشق کی موسیقی سے سجایا ہے ۔ لیکن اہل بزم ان نغمات کے ظاہری پہلووَں سے تو با خبر ہیں لیکن انہیں ان نغمات میں پوشیدہ پیغام کی خبر نہیں ہے) ۔
A melody swept me through and through and nobody knew; the air and the note is all they know: The high and low.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 23
میرے میکدے کی شراب میں ایرانی افکار و خیالات نہیں پائے جاتے ۔ میری اس عجمی صراحی یعنی فارسی شاعری میں جو شراب ہے وہ میرے جگر کا لہو ہے ( میں نے یہ خیالات کسی سے مستعار نہیں لیے) ۔
No Jamshid’s memory, the wine that fioweth in this inn of mine, it is the pressing of my soul that sparkleth in my Persian bowl.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 24
میں تو صحرا میں کھلنے والا لالہ ہوں (میرا باغ سے کیا کام) مجھے باغ سے لے جاوَ اور جنگل ، پہاڑ اور بیابان کی ہواؤں میں لے جاوَ ۔ (میری اصل عالم علوی ہے ۔ وہاں سے مجھے عالم دنیا میں لایا گیا ۔ اب مجھے پھر سے اسی عالم میں پہنچا دو ۔ اس شعر میں صحرا کنایہ ہے عالم علوی اور باغ کنایہ ہے عالم دنیا کا) ۔
I am a blossom of the plain; carry me back from the avenue to mountain and wilderness again where air’s to breathe, and the vast to view.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 25
میں نے اپنی شاعری میں (روایت سے ہٹ کر) باتیں کی ہیں ۔ کوئی بھی یہ باتیں پسند نہیں کرتا ۔ میرے جلوے یعنی مضامین کا خون بہہ گیا اور ایک بھی نگاہ اس کے نظارے کے لیے نہ پہنچی ( میں نے ایسے ایسے نئے مضامین پیدا کئے ہیں جنھیں لوگ پڑھنا گوارا نہیں کرتے) ۔
I uttered a new word, but there was none that heard; vision to rapture grew, but glance was none to view.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 26
اسے عاشق نہیں کہتے جو اپنے لبوں سے نالہ و شیون کرتا ہے ۔ بلکہ عاشق تو وہ ہے جو دونوں جہان اپنی ہتھیلی پر رکھتا ہے (سچا عاشق نالہ و فریاد نہیں کرتا بلکہ وہ تو اپنے عشق سے دنیا پر حکمرانی کرتا ہے) ۔
Never lover true is he who lamenteth dolefully; lover he, who in his bold hath the double world controlled.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 27
اس چمن میں رہنے والے پرندوں کا دل لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے ۔ پرندہ اگر شاخ پر بیٹھا ہو تو اس کا دل اور ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے گھونسلے میں ہو تو پھر دل اور ہوتا ہے ۔ اہلِ دنیا کے دل حرص و ہوس کے تابع ہوتے ہیں جبکہ مردانِ حق اللہ کے طالب ہوتے ہیں ) ۔
In the heart of the birds, that range this garden, is ever change; ‘Tis one with the rose at breast, an other within the nest.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 28
ہم خدا کے پاس سے گم ہو چکے ہیں ۔ اور وہ ہماری تلاش میں ہے ۔ ہماری طرح وہ بھی ملنے کا نیازمند ہے ۔ اور خواہشوں کا قیدی ہے ۔
We are gone astray from God; he is searching upon the road, for like us, He is need entire and the prisoner of desire.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 29
سرمایہ دار مزدوروں کی سخت محنت سے خالص ہیرا بنا رہا ہے (مزدور کا خون چوس چوس کر دولت مند ہوتا جا رہا ہے ) گاؤں کے خداؤں کے جبر سے کسانوں کے کھیت اُجڑ گئے ہیں (وہ خود وڈیرے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ) اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
Of the hirelings’s blood outpoured, lustrous rubies makes the lord; tyrant squire to swell his wealth desolates the peasant’s tillth.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 30
اگرچہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو (اے محبوب) ایک روز بے نقاب میرے سامنے آ جائے گا ۔ لیکن تو یہ نہ سمجھ کہ اس طرح میری جان اضطراب و بے چینی سے نجات حاصل کر لے گی ۔ (کیونکہ عشق میں ہجر و وصال دونوں ہی بے قراری کا سبب بنے رہتے ہیں ) ۔
Although the soul, I know, one day unveiled shall be, think not it shall be so by writhing endlessly.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 31
میں نے اس بند دروازے کے گنبد میں ایک راستہ ڈھونڈ لیا ہے ۔ کیونکہ میری صبح صادق کی آہ میرے خیال سے بھی زیادہ بلند پرواز ہے ۔
Beyond heaven’s shuttered dome I have found a way to come where swifter than thought may fly the breath of a morning sigh.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 34
میں گناہگار تو ہوں لیکن غیور ہوں ۔ محنت کے بغیر مزدوری لینا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ میرے سینے میں اس بات کا داغ ہے کہ قدرت نے اس کی (ابلیس) کی تقدیر سے میری تقصیر وابستہ کر دی ہے (آدمی گناہ کرنے کے بعد اسے ابلیس کی کارستانی قرار دیتا ہے اور خود جنت کا حقدار بن جاتا ہے) ۔
A sinner proud am I; no need I take, except I work for it; I rage, because men say He writ predestinate my wilful deed.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 35
تو اس دنیا میں اپنے سوا کوئی ایسا دوست نہیں پائے گا جو تیرے دل کی ناز برداری کرنا جانتا ہو ۔ اس لیے تو اپنے آپ میں گم ہو کر بازی عشق کے ناموس کی رکھوالی کر ۔
No friend in the world entire thou wilt find sincere in solicitude go, lose thyself in thy self, and mind the honour of loverhood.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 37
جو علم تو سیکھ رہا ہے وہ نگاہِ باطن کا شیدائی نہیں ۔ وہ راہ میں تھکن سے چور ہو کر بیٹھ جانے والا ہے راستہ طے نہیں کر سکتا ۔ اس علم میں خود کو یا خدا کو پہچاننے والی آنکھ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔
The fine science thou dost learn after vision does not yearn; ‘tis no wanderer far astray, but a straggler on the way.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 38
صبح کے سورج کی مانند نگاہِ حق شناس پیدا کی جا سکتی ہے اور اسی جسم خاکی کو محبوب کی جلوہ گاہ بنایا جا سکتا ہے ۔ نگاہِ حق شناس جب جسم خاکی میں پیدا ہو جائے تو اس کے نور سے دنیا کو بھی منور کیا جا سکتا ہے ۔
Vision can be won as of morning sun, making this dark clay radiant as day.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 39
تو نے اے مسلمان غیروں کی صحبت اختیار کر کے ان کے افکار و خیالات کی متواتر شراب پی ہے ۔ تو نے غیروں کے نور سے مسلسل اپنے دل کے پیالے کو روشن کیا ہے ۔ غیروں کے افکار چھوڑ کر اپنے دین کی طرف لوٹ جا ۔
Too oft was thy light with strangers to take wine, to suffer others’ light within the bowl to shine.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 40
عشق جستجو کرتا رہا اور اس کی اس جستجو کا حاصل آدم ہے ۔ اس لیے عشق نے اپنا جلوہ آب و گل یعنی جسم خاکی کے پردے سے ظاہر کیا ۔
Love went searching thro’ the earth until Adam came to birth; out of water, out of clay manifested his display.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 41
مجھے عشق پر ناز ہے کہ اس کی ہستی کو زوال نہیں (عشق فانی نہیں ، بلکہ ابدی حقیقت ہے) وہ ایک ایسا کفر ہے جو حاضر و موجود کا زنار پہننے والا نہیں ۔
I boast a love that is not grieved by being of To Be bereaved, whose infidelity doth ne’er the girdle of existence wear.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 43
میرے بے قرار دل پر ساقی عشق کی خالص شراب ڈالتا ہے وہ کیمیا ساز ہے ، پارے پر اکسیر ڈالتا ہے تاکہ سونے میں تبدیل ہو جائے ۔
The Saqi, pouring his pure wine upon my restless heart converts this quicksilver of mine to gold, by magic art.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 44
میں نے اس بارے میں شریعت کی رو سے تحقیق نہیں کی ۔ سوائے اس کے کہ عشق سے انکار کرنے والا کافر اور آتش پرست ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق کے بغیر مسلمان صحیح مسلمان نہیں بن سکتا ۔ صرف عقل پر بھروسہ کر کے سچائی کی پہچان ممکن نہیں ۔ عشق کے بغیر شریعت کی بہت سے باتیں ایک معمہ نظر آتی ہیں ۔
I have never discovered well law’s way, and the wont thereof, but know him an infidel who denieth the power of Love.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 46
ہر کسی کی دوستی سے علیحدگی اختیار کر لے اور صرف آشنائے خدا کی صحبت اختیار کر ۔ کیونکہ اس کے سوا تیرا کوئی دوست نہیں ہو سکتا ۔ خدا سے خودی طلب کر اور خودی کے ذریعے خدا طلب کر ۔
Far, far from every other go with the One Friend upon the road; seek thou of God thy self to know, and seek in selfhood for thy God.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 47
تو دنیا کی طرف دیکھتا ہے لیکن اپنی معرفت حاصل نہیں کرتا ۔ اے نادان تو اپنی پہچان سے کب تک غفلت برتتا رہے گا ۔
The world, but not selfhood, thou canst see; how long in thy ignorance wilt thou sit?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 48
میں راتوں کو رونما ہونے والے حادثات سے نہیں ڈرتا، کیونکہ راتیں آخر کار ستاروں کی گردش کے باعث صبح کے اجالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔
In the accidents of night there is naught can me affright, seeing that the night is borne by the wheeling stars to morn.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 49
تو کون ہےتو کہاں سے آیا ہےکہ نیلے آسمان نے تیرے استقبال میں تیری راہ میں ستاروں کی ہزاروں آنکھیں کھول رکھی ہیں (تیری عظمت و نشان یہ ہے کہ ساری کائنات تیرے جلووں کی منتظر ہے) ۔
What man art thou, and where thy home? In the blue skies the stars have opened, to see thee come, a thousand eyes!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 50
پرانی شراب جس میں نشہ زیادہ ہوتا ہے اور جوان معشوق اہل نظر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے (اللہ کے ولیوں کی نظر میں حور اور جنت کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ ان باتوں سے بے نیاز ہوتے ہیں ) ۔
The young beloved, the ancient wine, the maids of Paradise; these joys men reckon rare and fine charm not the truly wise.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 52