شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: انهکجاست
صنف: غزل/قصیده/قطعه
عرب که باز دهد محفل شبانه کجاست
عجم که زنده کند رود عاشقانه کجاست
وہ عرب جو رات کے وقت محفلیں سجاتے تھے اب کہاں ہیں ۔ وہ عجم جو عاشقانہ نغمے زندہ کرے وہ کہاں ہیں ۔ نہ تو اب عربوں میں ایمان کی حرارت باقی ہے اور نہ ہی عجمیوں میں ذوق نغمہ گری زندہ ہے ۔
Where is the Arab, to revive the old night-revelry, and where the Persian, to bring alive the love-lute’s minstrelsy?
بزیر خرقهٔ پیران سبوها چه خالی است
فغان که کس نشناسد می جوانه کجاست
پیرانِ وقت کے لبادوں کے نیچے ان کی صراحیاں (شراب معرفت) سے خالی ہیں ۔ دہائی ہے کہ یہاں کوئی نہیں جانتا ہے کہ جو کی شراب کس کے پاس ہے ۔
Under the Sufi elder’s gown the flagon is bare and dry: Alas, for none can tell in the town where young red wine’s to buy.
درین چمنکده هر کس نشیمنی سازد
کسی که سازد و وا سوزد آشیانه کجاست
اس دنیا کے چمن میں ہر کوئی بڑے شوق سے اپنا آشیانہ تعمیر کرتا ہے لیکن ایسا شخص کہاں ملے گا جو آشیانہ بنا کر اسے جلا ڈالے (اللہ کی راہ میں اپنی متاع عزیز قربان کرنے والے بہت کم ہیں ) ۔
Every man in this grassy mead fashions and takes his rest, but where is he, ah, where indeed, who will make, and burn, his nest?
هزار قافله بیگانه وار دید و گذشت
دلی که دید به انداز محرمانه کجاست
دنیا میں ابتدائے آفرینش سے لے کر اب تک ہزاروں قافلے آئے انھوں نے اس دنیا کو اجنبیوں کی طرح دیکھا ۔ اور روانہ ہو گئے ۔ لیکن ایسا قافلہ کہاں ہے جس نے اس دنیا پر محرمانہ نظر ڈالی ہو (دنیا میں لوگ بلا مقصد زندگی گزار کر چلے جاتے ہیں ۔ )
A thousand caravan-trains have stared like a stranger, and then passed on, but he that close as a lover dared to gaze – is there anyone?
چو موج خیز و به یم جاودانه می آویز
کرانه می طلبی؟ بی خبر کرانه کجاست
ایک لہر کی طرح اٹھ کر پھر سمندر کی آغوش میں گم ہو جا ۔ اے بے خبر! تو کنارے کا خواہش مند ہے لیکن کنارہ کہاں ہے (سمندر کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا ۔ حیاتِ جاوداں حاصل کرنے کے لیے موج کی طرف سمندر کا ایک حصہ بن جا ۔ )
Rise like a wave, and surging flow in the ocean eternally? Thou seek’st the shore, and dost not know where ever the shore may be.
بیا که در رگ تاک تو خون تازه دوید
دگر مگوی که آن بادهٔ مغانه کجاست
(اے دوست) میری بزمِ معرفت میں آ کہ تیری انگور کی بیل میں نیا خون (افکار تازہ) دوڑنے لگے ۔ بعد میں یہ نہ کہنا کہ وہ مے فروش (معرفت کی شراب پلانے والا) کہاں گیا (خود شناس اور معرفتِ حسن کے شراب میری محفل کے سوا کہیں اور نہ ملے گی) ۔
Hither (for in thy tendril’s vein the fresh young blood doth bound) hither hasten, nor ask again where the Magian wine is found.
بیک نورد فرو پیچ روزگاران را
ز دیر و زود گذشتی دگر زمانه کجاست
صرف ایک چھلانگ میں زمانے کی (مسافت) طے کر لے ۔ اس طرح جب تو دیر یا جلدی یعنی زمانہَ ظاہری کی تقسیم سے گزر جائے گا تو یہ زمانہ تیرے قبضہ و قدرت میں ہو گا ۔
Twist into one vast war-array all ages that ever were; later and sooner are passed away; where now is Time, ah, where?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور