صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 18

غزل شمارهٔ 18

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

مانند صبا خیز و وزیدن دگر آموز

دامان گل و لاله کشیدن دگر آموز

(اے مسلمان) تو صبح کی تازہ و نرم و لطیف ہوا کی طرح اٹھ اور چلنا سیکھ لے ۔ گلاب و لالہ کے پھولوں کو پھر کھلانا شروع کر دے (اپنے آپ کو بیدار کر اور دوسروں کو بھی بیداری کا پیغام دے) ۔ اپنے دل کے غنچے میں پھر سے زندگی کی خلش پیدا کرنا سیکھ لے ۔

Rise like the morning air and learn to blow again; tulip and rose are fair; play gently with their train, deep in the rosebud’s heart learn how to stab thy dart.

بند 2
اندر دلک غنچه خزیدن دگر آموز
Toggle stanza 2
2

موئینه به بر کردی و بی ذوق تپیدی

آنگونه تپیدی که بجائی نرسیدی

تو نے موٹا لباس زیب تن کیا تا کہ تو صوفی کہلائے اور بے ذوق ہی تڑپتا رہا اورر اس طرح تڑپتا رہا کہ کوئی مقام بھی حاصل نہ کر سکا (کیونکہ تیری تڑپ میں بناوٹ تھی) اہل عشق کی محفل میں نئے انداز سے تڑپنا سیکھ ۔

You put on a hair-shirt and throbbed without taste; you throbbed in such a way that you arrived nowhere. Learn to throb in the assembly of longing.

بند 3
در انجمن شوق تپیدن دگر آموز
Toggle stanza 3
3

کافر دل آواره دگر باره به او بند

بر خویش گشا دیده و از غیر فروبند

خدا کی معرفت سے نا آشنا اے انسان! تو اپنے دل کو دوبارہ اس (محبوب حقیقی) سے لگا لے ۔ اپنے آپ کا جائزہ لے کر اس کی معرفت حاصل کر اور غیروں کی طرف سے آنکھیں بند کر لے ۔ نئے انداز سے دیکھنے اور نہ دیکھنے کے طریقے سیکھ ۔

Bind again your wandering heart to Him; open your eyes to yourself and close them to others. Learn again how to see and not to see.

بند 4
دیدن دگر آموز و ندیدن دگر آموز
Toggle stanza 4
4

دم چیست پیام است شنیدی نشنیدی

در خاک تو یک جلوهٔ عام است ندیدی

سانس کیا ہے (محبوب کا ) پیام ہے ۔ چاہے تو اسے سنا یا نہ سنااصل میں تیرے جسم میں (جلوہَ محبوب) تو عام ہے ۔ (اب یہ تیری نظروں کا کمال ہے) تو نے دیکھا یا نہ دیکھا (محبوب کے جلوے تو ہر سانس کے ساتھ تیرے جسم خاکی میں موجود ہیں ۔ انہیں دیکھنے کے لیے چشم بینا کی ضرورت ہے) ۔ اس لیے پھر سے دیکھنا اور پھر سے سننا سیکھ ۔

What is breath? It is a message. Did you hear it or not? In your dust there is a universal manifestation; did you see it or not? Learn again to see and hear.

بند 5
دیدن دگر آموز شنیدن دگر آموز
Toggle stanza 5
5

ما چشم عقاب و دل شهباز نداریم

چون مرغ سرا لذت پرواز نداریم

ہم (بے ہمت لوگ) عقاب کی آنکھ اور شبہاز کا دل نہیں رکھتے ۔ گھر کے (قیدی) پرندے کی طرح ہم لذت پرواز سے بھی محروم ہیں ( بے عمل ہو گئے ہیں ) ۔

We have not the eye of an eagle and the heart of a falcon; like a house-bird we do not know the delight of flight. O house-bird, rise and learn to fly again.

بند 6
ای مرغ سرا، خیز و پریدن دگر آموز
Toggle stanza 6
6

تخت جم و دارا سر راهی نفروشند

این کوه گران است به کاهی نفروشند

دارا اور جمشید کے تخت راہ چلتے یونہی فروخت نہیں ہوتے (تخت حکومت تگ و دو کے بغیر حاصل نہیں ہوتے) یہ بھاری پہاڑ ہیں جو تنکوں کے عوض نہیں بیچتے (ان کے حصول میں جان کی بازی لگانا پڑتی ہے) اپنے خون دل سے پھر سے خریدنے کا فن سیکھ ۔

The throne of Jamshid and Darius is not sold by the roadside; this heavy mountain is not sold for a straw. Learn again to buy it with your heart’s blood.

بند 7
با خون دل خویش خریدن دگر آموز
Toggle stanza 7
7

نالیدی و تقدیر همان است که بودست

آن حلقهٔ زنجیر همان است که بودست

رونے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ اس سے تقدیر نہیں بدلتی ۔ تیری زنجیر کا حلقہ جس نے تجھے تقدیر کے قفس میں قید کر رکھا ہے وہی ہے جو پہلے سے موجود ہے ۔ اس لیے نا امید ہونے کی ضرورت نہیں ۔ نئے انداز سے نالہ و شیون کے انداز سیکھ لے ۔

You lamented and destiny remained as it was; that ring of chain remained as it was. Do not despair; make another attempt.

بند 8
نومید مشو ناله کشیدن دگر آموز
Toggle stanza 8
8

وا سوخته‌ای یک شرر از داغ جگر گیر

یک چند به خود پیچ و نیستان همه در گیر

کیا تو جل کر راکھ ہو گیا ہے(بے عمل ہو گیا ہے)اگر ایسا ہے تو اپنے اس جلے ہوئے جگر سے ایک چنگاری لے ۔ اس چنگاری کو اپنے گرد لپیٹ کر پھیلا دے اور سرکنڈے کے سارے جنگل میں آگ لگا دے ۔ شعلہ کی طرح خشک گھاس پھونس میں دوڑنا پھر سے سیکھ ۔ (اب بھی تجھ میں عمل کی چنگاری موجود ہے ۔ اسے بروئے کار لا کر منزل مقصود حاصل کر لے) ۔

Burnt-out one, take another spark from the scar of the liver; twist within yourself awhile and set the whole reed-bed aflame. Become a flame and burn the chaff again.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عرب که باز دهد محفل شبانه کجاست

عجم که زنده کند رود عاشقانه کجاست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 17

اگلی نظم

ای غنچهٔ خوابیده، چو نرگس نگران خیز

کاشانهٔ ما رفت به تاراج غمان خیز

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 19

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور