صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 19

غزل شمارهٔ 19

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

ای غنچهٔ خوابیده، چو نرگس نگران خیز

کاشانهٔ ما رفت به تاراج غمان خیز

اے سوئے ہوئے نوخیز پھول، نرگس کی طرح آنکھیں کھولتے ہوئے اٹھ (جاگ) کیونکہ ہمارا گھر غموں (بے عملی) نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔

2

از نالهٔ مرغ چمن از بانگ اذان خیز

از گرمی هنگامهٔ آتش‌نفسان خیز

(اپنی آنکھیں کھول) چاہے چمن کے پرندے کی فریاد سے یا اذان کی آواز سے جاگ ۔ اور چاہے آگ جیسی گرم سانسیں رکھنے والوں کی گرمی کے شور سے جاگ ۔ کچھ نہ کچھ عمل کرنے کے لیے اپنی آنکھیں کھول ۔ غفلت کی گہری نیند سے جاگ، گہری نیند، گہری نیند سے جاگ، گہری نیند سے جاگ ۔

Little flower fast asleep, rise narcissus-like, and peep; Lo, the bower droops and dies wasted by cold griefs; arise! Now that birdsong fills the air and muezzins call to prayer, listen to the burning sighs of the passionate hearts, and rise!

3

از خواب گران خواب گران خواب گران خیز

از خواب گران خیز

بند 2
Toggle stanza 2
4

خورشید که پیرایه به سیمای سحر بست

آویزه به گوش سحر از خون جگر بست

سورج نے طلوع ہو کر اپنے ماتھے کو صبح کے زیور سے سجا لیا ہے ۔ اور اس نے صبح کے کانوں میں اپنے خونِ جگر کا بند لٹکا دیا ہے (صبح ہو گئی ہے) ۔

5

از دشت و جبل قافله‌ها رخت سفر بست

ای چشم جهان‌بین به تماشای جهان خیز

بیابان اور پہاڑوں سے کاروانوں نے سامان سفر باندھ لیا ہے (سفر کے لیے تیار ہیں ) دنیا کو دیکھنے والی اے آنکھ تو بھی دنیا کے تماشے کے لیے اٹھ (سرگرم عمل ہو جا) ۔ غفلت کی گہری نیند سے جاگ، گہری نیند، گہری نیند سے جاگ، گہری نیند سے جاگ ۔

Now the sun, that doth adorn with his rays the brow of morn, doth suffuse the cheeks thereof with the crimson blush of love. Over mountain, over plain caravans take route again; bright and world-beholding eyes, gaze upon the world, and rise!

6

از خواب گران خواب گران خواب گران خیز

از خواب گران خیز

بند 3
Toggle stanza 3
7

خاور همه مانند غبار سر راهی است

یک نالهٔ خاموش و اثر باخته آهی است

اہل مشرق سب کے سب راہ غبار (گرد) کی مانند ہیں ۔ پسماندہ ہیں وہ ایک خاموش فریاد اور بے اثر آہ کی مانند ہیں ۔

8

هر ذرهٔ این خاک گره‌خورده نگاهی است

از هند و سمرقند و عراق و همدان خیز

اس اہل مشرق کی مٹی کا ہر ذرہ ایسی آنکھ کی طرح ہے جس پر گرہ باندھ دی گئی ہو(اور اہل مغرب کی مکاری سمجھنے سے قاصر ہے) ۔ اہل مشرق ہندوستان، سمرقند، عراق اور ہمدان جہاں بھی ہیں اپنے حقوق اور اپنی روایات کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ۔ غفلت کی گہری نیند سے جاگ، گہری نیند، گہری نیند سدے جاگ، گہری نیند سے جاگ ۔

All the Orient doth lie like strewn dust, the roadway by; or a still and bushed lament and a wasted sigh and spent: Yet each atom of this earth is a gaze of tortured birth. Under Ind’s and Persia’s skies, through Arabia’s plains, O rise!

9

از خواب گران خواب گران خواب گران خیز

از خواب گران خیز

بند 4
Toggle stanza 4
10

دریای تو دریاست که آسوده چو صحراست؟

دریای تو دریاست که افزون نشد و کاست؟

اے مشرق کے باسی تیری زندگی کا دریا وہ دریا ہے جس میں صحراؤں کی خاموشی اور سکون پایا جاتا ہے (تجھ میں عمل کی کوئی تحریک نہیں ) تیرا دریا، وہ دریا ہے جس کے پانیوں میں اضافہ تو نہیں ہوا، کمی ضرور ہوئی ہے ۔

11

بیگانهٔ آشوب و نهنگ است! چه دریاست؟

از سینهٔ چاکش صفت موج روان خیز

تیرا دریا، طوفان، تلاطم اور خطرناک مگر مچھوں سے بے خبر ہے (تیری زندگی عمل کے طوفان سے خالی ہو چکی ہے)اس کے باوجود دریا کے پھٹے ہوئے سینے میں بہتی ہوئی لہر کی مانند اٹھ (متحرک ہو جا) گہری نیند، گہری نیند ، گہری نیند سے جاگ، گہری نیند سے جاگ ۔ (اے گہری نیند کے مزے لوٹنے والے آنکھیں کھول عمل کا وقت آ پہنچا) ۔

See, thy ocean is at rest, slumbrous as a desert waste; yea, no waxing or increase e’er disturbs thy ocean’s peace. Ne’er thy ocean knoweth storm or Leviathan’s dread swarm; rend its breast and, billow-wise swelling into tumult, rise!

12

از خواب گران خواب گران خواب گران خیز

از خواب گران خیز

بند 5
Toggle stanza 5
13

این نکته گشایندهٔ اسرار نهان است

ملک است تن خاکی و دین روح روان است

یہ باریک بات پوشیدہ رازوں کو کھولنے والی ہے کہ ملک اگر مٹی کا جسم ہے تو دین اس کی روح رواں ہے (دین اس کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے زندہ رکھتا ہے) ۔

14

تن زنده و جان زنده ز ربط تن و جان است

با خرقه و سجاده و شمشیر و سِنان خیز

اگر جسم زندہ ہے اور روح بھی زندہ ہے تو پھر جسم اور روح میں تعلق قائم رہتا ہے جس طرح جسم کے بغیر روح اور روح کے بغیر جسم بے کار ہے ملک اور دین کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ اس لیے دین کے نفاذ کے لیے خرقہ ، سجادہ اور شمشیر و سناں کے ساتھ کوشش کرنا ہو گی ۔ دینی اور روحانی ترقی کے لیے جہاں سادگی و فقر درکار ہیں وہاں کبھی کبھی تلوار کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لیے گہری نیند ، گہری نیند، گہری نیند سے جاگ، گہری نیند سے جاگ، گہری نیند سے جاگ ۔

Listen to this subtlety that reveals all mystery: Empire is the body’s dust; spirit, true Religion’s trust; body lives and spirit lives by the life their union gives. Lance in hand, and sword at thighs, cloaked, and with thy prayer mat, rise!

15

از خواب گران خواب گران خواب گران خیز

از خواب گران خیز

بند 6
Toggle stanza 6
16

ناموس ازل را تو امانی، تو امینی

دارای جهان را تو یساری، تو یمینی

اے مسلمان تو قانونِ فطرت کا امانتدار ہے تیرے پاس اللہ کی امانت (اس کا قانون ازل قرآن کی صورت میں موجود ہے) تو اس قانون فطرت کا دایاں بازو ہے ۔

17

ای بندهٔ خاکی تو زمانی، تو زمینی

صهبای یقین دَرکش و از دیر گمان خیز

تو اپنے اس امانت داری کے منصب کو بھول کر محض ایک خاکی جسم رہ گیا ہے ۔ اور زمان و مکان کی قید میں پھنس گیا ہے (اگر و اس قید سے رہائی حاصل کرنا چاہتا ہے تو یقین کی شراب پی لے اور وہم کے مندر کو خیر باد کہہ دے ۔ زندگی کی حقیقت تیرے ہاتھ آ جائے گی ۔ گہری نیند، گہری نیند، گہری نیند سے جاگ، گہری نیند سے جاگ

Thou art true and worshipful guardian of eternal Rule; thou the left hand and the right of the World-possessor’s might. Shackled slave of earthy race, thou art Time, and thou art Space: Wine of faith that fear defies, drink, and from doubt’s prison rise!

18

از خواب گران خواب گران خواب گران خیز

از خواب گران خیز

بند 7
Toggle stanza 7
19

فریاد ز افرنگ و دلآویزی افرنگ

فریاد ز شیرینی و پرویزی افرنگ

یورپ سے اور اس کی دل لبھانے والی رنگین فضاؤں سے خدا بچائے ۔ یورپ کے شیریں (فرہاد کی محبوبہ) کے حسنِ جہاں سوز اور پرویز کی طرح کی مکارانہ چالوں سے بھی خدا محفوظ رکھے ۔ (اہل یورپ اپنی مکارانہ تہذیب و ثقافت اور دین فروش علوم و فنون کے ذریعے اہلِ اسلام کو اپنی ظاہری چمک میں پھنسا چکے ہیں ) ۔

Against Europe I protest, and the attraction of the West: Woe for Europe and her charm, swift to capture and disarm! Europe’s hordes with flame and fire, desolate the world entire; architect of Sanctuaries, Earth awaits rebuilding; rise.

20

عالم همه ویرانه ز چنگیزی افرنگ

معمار حرم باز به تعمیر جهان خیز

ساراجہاں فرنگیوں کی (فکری و سیاسی بورش) کی وجہ سے ویرانہ بن چکا ہے ۔ (چنگیز خان نے تو قتل عام کیا تھا اور شہر برباد کیے تھے) یورپ نے تو قلب و روح کی دنیا کو ویران کر دیا ہے ۔ ان کی تباہی و بربادی چنگیز خان کی بربریت سے کہیں بڑھ کر ہے (اے مسلمان) تو معمار حرم ہے اس لیے اب تیرے عمل کا وقت ہے ۔ تو اس جہان خراب کی از سر نو تعمیر کے لیے آگے بڑھ کیونکہ تیرے سوا جسم و روح کی تعمیر کوئی نہیں کر سکتا ۔ اس لیے گہری نیند، گہری نیند، گہری نیند سے جاگ، گہری نیند سے جاگ ۔

Out of leaden sleep, out of slumber deep: Arise! Out of slumber deep: Arise!

21

از خواب گران خواب گران خواب گران خیز

از خواب گران خیز

Out of leaden sleep, out of slumber deep: Arise! Out of slumber deep: Arise!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مانند صبا خیز و وزیدن دگر آموز

دامان گل و لاله کشیدن دگر آموز

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 18

اگلی نظم

جهان ما همه خاک است و پی سپر گردد

ندانم اینکه نفسهای رفته بر گردد

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 20

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور