جهان ما همه خاک است و پی سپر گردد
ندانم اینکه نفسهای رفته بر گردد
ہماری دنیا جو کہ سب کی سب مٹی ہے اور یہ مٹی ایک دن بے سپر ہو جائے گی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ جو سانسیں جا چکی ہیں وہ واپس آئیں گی یا نہیں (مرنے کے بعد کیا ہو گا، میں اس سے بے خبر ہوں ) ۔
Our world is dusty clay trampled upon the way; I do not think our breath returneth out of death.
شبی که گور غریبان نشیمن است او را
مه و ستاره ندارد چسان سحر گردد
وہ رات کہ مرنے کے بعد دوسرے جہان کے مسافروں کی قبر اس کا ٹھکانہ ہے ۔ وہ رات نہ تو چاند رکھتی ہے اور نہ تارے ۔ نہ جانے اس کی صبح کیسی ہو گی(مرنے کے بعد حالات کیا ہونگے، خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا) ۔
This night, whose only home is in the strangers’ tomb; no moon, no stars here burn; to dawn how shall it turn?
دلی که تاب و تب لایزال می طلبد
کرا خبر که شود برق یا شرر گردد
وہ دل جو اس دنیا میں لافانی چاہت اور تڑپ کا طلبگار ہوتا ہے کسے معلوم کہ قبر میں جانے کے بعد وہ برق بن کر دوسروں میں زندگی کی تڑپ پیدا کرے گا یا چنگاری کی طرح بجھ جائے گا ۔
The heart, whose whole desire I quenchless flame and fire, who knows, if it shall grow to lightning flash, or glow?
نگاه شوق و خیال بلند و ذوق وجود
مترس ازین که همه خاک رهگذر گردد
(ان تمام باتوں کے باوجود) اگر تو نگاہِ شوق رکھتا ہے ۔ تیرے خیالات بلند ہیں اور تجھ میں ذوقِ وجود بھی ہے تو اس بات سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ سب کچھ زندگی راستے کی گرد بن کر اڑ جائے گی (وہ مرنے کے بعد بھی فنا نہیں ہو گا) ۔
High fancy, passion’s glance, and life’s exuberance, fear not, for these all three dust of the road shall be.
چنان بزی که اگر مرگ ماست مرگ دوام
خدا ز کردهٔ خود شرمسار تر گردد
تو اس دنیا میں اس طرح زندگی گزار کہ اگر ہماری موت ہمیشہ کی موت ہے تو ہمارا تخلیق کار اپنے کئے پر زیادہ شرمندہ ہو ۔ (یعنی ایسے کام کر جن سے قادر مطلق تجھے اپنا خلیفہ بنانے پر فخر کرسکے ۔ اور ہمیشہ موت دینے پر شرمسار ہو کہ میں نے اس انسان کو ہمیشہ کی نیند کیوں سلا دیا) ۔
So live, that if our death for aye continueth, God shall be shamed, to know what things He wrought below.
زمین
سرم فدات چو تیغ تو گرد سر گردد
دلم نماند که تیر ترا سپر گردد
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 930
دل از سفر ز بد و نیک باخبر گردد
به قدر آبله هر پای دیده ور گردد
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 3676
ز می فروغ لب یار بیشتر گردد
ز آب، آتش یاقوت شعله ور گردد
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 3677
ز درد و داغ، دل تیره دیده ور گردد
زمین سوخته روشن به یک شرر گردد
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 3678
فارسی متن کا ماخذ: گنجور