صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 20

غزل شمارهٔ 20

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: رگردد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

جهان ما همه خاک است و پی سپر گردد

ندانم اینکه نفسهای رفته بر گردد

ہماری دنیا جو کہ سب کی سب مٹی ہے اور یہ مٹی ایک دن بے سپر ہو جائے گی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ جو سانسیں جا چکی ہیں وہ واپس آئیں گی یا نہیں (مرنے کے بعد کیا ہو گا، میں اس سے بے خبر ہوں ) ۔

Our world is dusty clay trampled upon the way; I do not think our breath returneth out of death.

2

شبی که گور غریبان نشیمن است او را

مه و ستاره ندارد چسان سحر گردد

وہ رات کہ مرنے کے بعد دوسرے جہان کے مسافروں کی قبر اس کا ٹھکانہ ہے ۔ وہ رات نہ تو چاند رکھتی ہے اور نہ تارے ۔ نہ جانے اس کی صبح کیسی ہو گی(مرنے کے بعد حالات کیا ہونگے، خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا) ۔

This night, whose only home is in the strangers’ tomb; no moon, no stars here burn; to dawn how shall it turn?

3

دلی که تاب و تب لایزال می طلبد

کرا خبر که شود برق یا شرر گردد

وہ دل جو اس دنیا میں لافانی چاہت اور تڑپ کا طلبگار ہوتا ہے کسے معلوم کہ قبر میں جانے کے بعد وہ برق بن کر دوسروں میں زندگی کی تڑپ پیدا کرے گا یا چنگاری کی طرح بجھ جائے گا ۔

The heart, whose whole desire I quenchless flame and fire, who knows, if it shall grow to lightning flash, or glow?

4

نگاه شوق و خیال بلند و ذوق وجود

مترس ازین که همه خاک رهگذر گردد

(ان تمام باتوں کے باوجود) اگر تو نگاہِ شوق رکھتا ہے ۔ تیرے خیالات بلند ہیں اور تجھ میں ذوقِ وجود بھی ہے تو اس بات سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ سب کچھ زندگی راستے کی گرد بن کر اڑ جائے گی (وہ مرنے کے بعد بھی فنا نہیں ہو گا) ۔

High fancy, passion’s glance, and life’s exuberance, fear not, for these all three dust of the road shall be.

5

چنان بزی که اگر مرگ ماست مرگ دوام

خدا ز کردهٔ خود شرمسار تر گردد

تو اس دنیا میں اس طرح زندگی گزار کہ اگر ہماری موت ہمیشہ کی موت ہے تو ہمارا تخلیق کار اپنے کئے پر زیادہ شرمندہ ہو ۔ (یعنی ایسے کام کر جن سے قادر مطلق تجھے اپنا خلیفہ بنانے پر فخر کرسکے ۔ اور ہمیشہ موت دینے پر شرمسار ہو کہ میں نے اس انسان کو ہمیشہ کی نیند کیوں سلا دیا) ۔

So live, that if our death for aye continueth, God shall be shamed, to know what things He wrought below.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای غنچهٔ خوابیده، چو نرگس نگران خیز

کاشانهٔ ما رفت به تاراج غمان خیز

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 19

اگلی نظم

باز بر رفته و آینده نظر باید کرد

هله برخیز که اندیشه دگر باید کرد

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 21

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

سرم فدات چو تیغ تو گرد سر گردد

دلم نماند که تیر ترا سپر گردد

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 930

دل از سفر ز بد و نیک باخبر گردد

به قدر آبله هر پای دیده ور گردد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3676

ز می فروغ لب یار بیشتر گردد

ز آب، آتش یاقوت شعله ور گردد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3677

ز درد و داغ، دل تیره دیده ور گردد

زمین سوخته روشن به یک شرر گردد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3678

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور