باز بر رفته و آینده نظر باید کرد
هله برخیز که اندیشه دگر باید کرد
(اے انسان) تجھے از سر نو اپنی گذشتہ زندگی اور آنے والی زندگی پر نظر دوڑانی چاہیے ۔ وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے اٹھ ۔ اور پھر سے سوچ کہہ تجھے کیا کرنا ہے ۔
Sleeper, rise thou up, and fast! Once again upon the past and the future fix thy gaze; Thou must think on other ways.
عشق بر ناقهٔ ایام کشد محمل خویش
عاشقی؟ راحله از شام و سحر باید کرد
عشق زمانے کی اونٹنی پر اپنا محمل قائم کرتا ہے (اہل عشق ہی زمانے کے مالک ہوتے ہیں ) اس لیے تو اگر عاشقِ صادق ہے تو پھر شام و سحر تیرے زیرِ قبضہ ہونے چاہیے (تجھے زمانے کا مالک ہونا چاہیے) ۔
Love hath laid his heavy load on Time’s saddle to the road: Art thou lover? In thy need eve and dawn must be thy steed.
پیر ما گفت جهان بر روشی محکم نیست
از خوش و ناخوش او قطع نظر باید کرد
میرے پیر (مرشد) نے مجھے بتایا کہ یہ جہاں ایک طرز پر قائم نہیں ہے (کبھی یہاں غم ہیں تو کبھی خوشیاں ) ان تمام باتوں سے قطع نظر زندگی بسر کرنی چاہیے (ہر تبدیلی اللہ کی رضا کے مطابق ہوتی ہے) ۔
Elder said, ‘This world below in no certain gait doth go; we must close our eyes, nor care what is foul herein, or fair.
تو اگر ترک جهان کرده سر او داری
پس نخستین ز سر خویش گذر باید کرد
اگر تو اس دنیا کو چھوڑ کر (محبوب سے وصال) کا ارادہ رکھتا ہے کہ پہلے تجھے اپنی زندگی (راہِ وفا) میں قربان کرنا ہو گی ۔
‘If, the world being wholly spurned, unto Him thy mind is turned, first of all the things to do is thy own life to forgo.’
گفتمش در دل من لات و منات است بسی
گفت این بتکده را زیر و زبر باید کرد
میں نے اس (اپنے محبوب سے ) کہا کہ مرے دل میں تو لات و منات نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ اس (محبوب) نے کہا کہ اگر تجھے وصلِ محبوب عزیز ہے تو اپنے دل کے اس بت کو برباد کر دے ۔ (اپنے دل سے افکارِ شیطانی نکال دے پھر تو (جلوہَ محبوب) خدا کی قربت سے فیض ہو جائے گا ۔
‘Ah, within my heart’, said I, ‘yet unbroken idols lie’: ‘Then this temple’, answered he, ‘must be shattered utterly!’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور