صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 21

غزل شمارهٔ 21

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ربایدکرد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

باز بر رفته و آینده نظر باید کرد

هله برخیز که اندیشه دگر باید کرد

(اے انسان) تجھے از سر نو اپنی گذشتہ زندگی اور آنے والی زندگی پر نظر دوڑانی چاہیے ۔ وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے اٹھ ۔ اور پھر سے سوچ کہہ تجھے کیا کرنا ہے ۔

Sleeper, rise thou up, and fast! Once again upon the past and the future fix thy gaze; Thou must think on other ways.

2

عشق بر ناقهٔ ایام کشد محمل خویش

عاشقی؟ راحله از شام و سحر باید کرد

عشق زمانے کی اونٹنی پر اپنا محمل قائم کرتا ہے (اہل عشق ہی زمانے کے مالک ہوتے ہیں ) اس لیے تو اگر عاشقِ صادق ہے تو پھر شام و سحر تیرے زیرِ قبضہ ہونے چاہیے (تجھے زمانے کا مالک ہونا چاہیے) ۔

Love hath laid his heavy load on Time’s saddle to the road: Art thou lover? In thy need eve and dawn must be thy steed.

3

پیر ما گفت جهان بر روشی محکم نیست

از خوش و ناخوش او قطع نظر باید کرد

میرے پیر (مرشد) نے مجھے بتایا کہ یہ جہاں ایک طرز پر قائم نہیں ہے (کبھی یہاں غم ہیں تو کبھی خوشیاں ) ان تمام باتوں سے قطع نظر زندگی بسر کرنی چاہیے (ہر تبدیلی اللہ کی رضا کے مطابق ہوتی ہے) ۔

Elder said, ‘This world below in no certain gait doth go; we must close our eyes, nor care what is foul herein, or fair.

4

تو اگر ترک جهان کرده سر او داری

پس نخستین ز سر خویش گذر باید کرد

اگر تو اس دنیا کو چھوڑ کر (محبوب سے وصال) کا ارادہ رکھتا ہے کہ پہلے تجھے اپنی زندگی (راہِ وفا) میں قربان کرنا ہو گی ۔

‘If, the world being wholly spurned, unto Him thy mind is turned, first of all the things to do is thy own life to forgo.’

5

گفتمش در دل من لات و منات است بسی

گفت این بتکده را زیر و زبر باید کرد

میں نے اس (اپنے محبوب سے ) کہا کہ مرے دل میں تو لات و منات نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ اس (محبوب) نے کہا کہ اگر تجھے وصلِ محبوب عزیز ہے تو اپنے دل کے اس بت کو برباد کر دے ۔ (اپنے دل سے افکارِ شیطانی نکال دے پھر تو (جلوہَ محبوب) خدا کی قربت سے فیض ہو جائے گا ۔

‘Ah, within my heart’, said I, ‘yet unbroken idols lie’: ‘Then this temple’, answered he, ‘must be shattered utterly!’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

جهان ما همه خاک است و پی سپر گردد

ندانم اینکه نفسهای رفته بر گردد

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 20

اگلی نظم

خیال من به تماشای آسمان بود است

بدوش ماه به آغوش کهکشان بود است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 22

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خویش را پیشتر از مرگ خبر باید کرد

در حضر فکر سرانجام سفر باید کرد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3346

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور