صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 22

غزل شمارهٔ 22

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: انبوداست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

خیال من به تماشای آسمان بود است

بدوش ماه به آغوش کهکشان بود است

میرا (مردِ مومن) خیال آسمانوں ( میں ہونے والی تبدیلیوں ) کا مشاہدہ کر رہا ہے اور چاند کے شانوں پر اور کہکشاں کی گود میں رہ رہا ہے (زمین کا رہنے والا آسمان سے بھی پرے ہونے والے واقعات کا علم رکھتا ہے) ۔

My mind awhile was gone about the heavens to pace, high on the back of the moon, fast in the stars’ embrace.

2

گمان مبر که همین خاکدان نشیمن ماست

که هر ستاره جهان است یا جهان بود است

ایسا مت سوچ کہ یہ خاکداں (مٹی کا گھر یعنی د نیا) ہی ہمارے رہنے کی جگہ ہے (اصل بات تو یہ ہے) کہ ہر ستارہ ایک جہان ہے یا جہاں رہا ہے (یہ سب ہمارے گھر ہیں اور ہم نہ جانے کن کن جہانوں کی سیر کے بعد اس زمین پر پہنچے ہیں ) ۔

Think not we are enfurled within this globe of clay; each separate star’s a world, or was a world one day.

3

به چشم مور فرومایه آشکار آید

هزار نکته که از چشم ما نهان بود است

ایک حقیر سی چیونٹی کی نظر سے ہزاروں باریک باتیں ظاہر ہو رہی ہیں ۔ وہ باتیں جو ابھی تک ہماری نگاہوں سے اوجھل رہی ہیں (انسان ایک معمولی مخلوق ہونے کے باوجود کائنات کے سربستہ رازوں سے باخبر ہے) ۔

The lowly Emmet sees in vision clear and true a thousand mysteries which we lack sight to view.

4

زمین به پشت خود الوند و بیستون دارد

غبار ماست که بر دوش او گران بود است

یہ زمین اگرچہ اپنی پیٹھ پر الوند اور بیستوں جیسے بڑے پہاڑوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے پھرتی ہے ۔ لیکن ایک ہمارا (انسان کا) جسم خاکی ہے کہ اس کے کاندھوں سے برداشت نہیں ہوتا ۔ (پہاڑوں جیسی بے جان اشیاء تو زمین پر قائم رہتی ہے ۔ لیکن انسان کا بوجھ زمین اٹھانے سے قاصر ہے) ۔

Earth on her back doth bear a many mountain tall; we, for the dust we were lay heaviest of all.

5

ز داغ لالهٔ خونین پیاله می بینم

که این گسسته نفس صاحب فغان بود است

میں لالہ کے پھول کے خون بھرے پیالے کے داغ سے دیکھ رہا ہوں کہ یہ خاموش زباں لالہ کبھی آہ و زاری بھی کرتا رہا ہے ۔ (لالہ کے سینے کا داغ بتا رہا ہے کہ یہ کبھی عشق سے بھرپور تھا اور دوسرے پیالوں میں یعنی دنیا اور اشیاء میں لالے کے رنگ کی جو سرخی نظر آتی ہے وہ اسی داغ کی وجہ سے ہے ۔ کائنات کے ہر ذرہ میں عشق کار فرما ہے) ۔

The panting tulip sighed; how deeply, well I know; her cup with blood is dyed, her heart’s a brand aglow.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

باز بر رفته و آینده نظر باید کرد

هله برخیز که اندیشه دگر باید کرد

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 21

اگلی نظم

از نوا بر من قیامت رفت و کس آگاه نیست

پیش محفل جز بم و زیر و مقام و راه نیست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 23

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خیال من به تماشای آسمان بود است

بدوش ماه و به آغوش کهکشان بود است

علامہ اقبال»جاویدنامه»دیباچه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور