صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »دیباچه

دیباچه

دیباچہ

Preface

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: انبوداست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

خیال من به تماشای آسمان بود است

بدوش ماه و به آغوش کهکشان بود است

میرا تخیّل آسمانوں کے نظارے کرتا ہے، (کبھی) چاند کے کندھے پر (سوار) اور (کبھی) کہکشاں کی گود میں ہوتا ہے۔

My vision encompasses the heavens; at times it sits on shoulders of moon and at times in the lap of milkay way.

2

گمان مبر که همین خاکدان نشیمن ماست

که هر ستاره جهان است یا جهان بود است

آیسا مت سوچ کہ یہی زمین ہمارا نشیمن ہے، ہر ستارہ ہمارا جہان ہے یا رہ چکا ہے۔

Think not that only this earth is our abode; each star is or has benn our abode.

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

آدمی اندر جهان هفت رنگ

هر زمان گرم فغان مانند چنگ

علامہ اقبال»جاویدنامه»مناجات

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خیال من به تماشای آسمان بود است

بدوش ماه به آغوش کهکشان بود است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 22

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور