صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »مناجات

مناجات

مناجات

Prayer

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

آدمی اندر جهان هفت رنگ

هر زمان گرم فغان مانند چنگ

اس سات رنگوں والی دنیا میں آدمی ہر لمحہ ستار کی طرح فریاد کرتا رہتا ہے ۔

Man, in this world of seven hues, lute-like is ever afire with lamentation;

2

آرزوی هم نفس می سوزدش

ناله های دل نواز آموزدش

محرم راز کی آرزو اسے ہر وقت جلاتی رہتی ہے اور وہی دل کو لبھانے والے نالے اسے سکھاتی رہتی ہے ۔

Yearning for a kindred spirit burns him inwardly; teaching him threnodies to soothe the heart;

3

لیکن این عالم که از آب و گل است

کی توان گفتن که دارای دل است

لیکن یہ عالم جوپانی اور مٹی سے بنا ہوا ہے کے بارے میں کیسے کہیں کہ یہ بھی دل رکھتا ہے یا صاحب دل ہے ۔ (صاحبِ دل ہو تو اس پر انسان کی فریاد کا اثر ہوتا ہے) ۔

And yet this world, that is wrought of water and clay; how can it be said to possess a heart?

4

بحر و دشت و کوه و که خاموش و کر

آسمان و مهر و مه خاموش و کر

یہ سمندر اور بیابان، پہاڑ اور گھاس سبھی گونگے اور بہرے ہیں ۔ کسی کی آہ و فغاں کا اثر ان پر نہیں ہو سکتا ۔

Sea, plain, mountain, grass – all are deaf and dumb, deaf and dumb heaven and sun and moon;

5

گرچه بر گردون هجوم اختر است

هر یکی از دیگری تنها تر است

اگرچہ آسمان پر ستاروں کا ایک ہجوم ہے لیکن ہر ایک دوسرے سے زیادہ تنہا ہے ۔ یعنی سارے ایک دوسرے سے بے خبر ہیں ۔

Though the stars swarm in the selfsame sky, each star is more solitary than the other;

6

هر یکی مانند ما بیچاره ایست

در فضای نیلگون آواره ایست

ا ن میں سے ہر ایک ہماری ہی طرح بے چارہ اور نیلی فضا میں آسمان پر آوارہ بے بس ہے یعنی اس کی گردش بے مقصد ہے ۔

Each one is desperate just as we are, a vagrant lost in an azure wilderness;

7

کاروان برگ سفر ناکرده ساز

بیکران افلاک و شب ها دیر یاز

یہ ایک ایسا قافلہ ہے جس نے سفر کا کوئی سامان تیار نہ کیا ہو، جبکہ سفر کے لیے اس کے سامنے لامحدود آسمان اور لمبی راتیں ہیں ۔

The caravan unprovisioned against the journey, the heavens boundless, the nights interminable.

8

این جهان صید است و صیادیم ما

یا اسیر رفته از یادیم ما

یہ جہان شکار ہے اور ہم سب اس کے شکاری ہیں یا پھر ہم ایسے قیدی ہیں جنہیں قید کے بعد بھلا دیا گیا ہے ۔

Is this world then some prey, and we the huntsmen, or are we prisoners utterly forgotten?

9

زار نالیدم صدائی برنخاست

هم نفس فرزند آدم را کجاست

میں نے بہت آہ و زاری کی لیکن اس کے جواب میں کسی طرف سے کوئی آواز بلند نہ ہوئی نہ سنائی دی کسی شے پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا ۔ فرزند آدم کا ہمراز کہاں ہے یعنی مجھ سے کسی نے بھی ہمدردی کا اظہار نہ کیا ۔

Bitterly I wept, but echo answered never: Where may Adam’s son find a kindred spirit?

10

دیده ام روز جهان چار سوی

آنکه نورش بر فروزد کاخ و کوی

میں نے اس چار طرفوں والے جہان کے دن کو دیکھا ہے جس کا نور محل و کوچے کو روشن کرتا ہے ۔

I have seen that the day of this dimensioned world, whose light illuminates both palace and street.

11

از رم سیاره ئی او را وجود

نیست الا اینکه گوئی رفت و بود

اس کا وجود ایک سیارے کے چلنے سے ہے ۔ یہاں رفت و بود کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ وہ دن سوائے اس کے کہ تو کہے کہ وہ تھا اور چلا گیا ، کچھ نہیں ہے یعنی اس کا وجود سورج نکلنے سے ہے ۔

Came into being from the flight of a planet, is nothing more, you might say, than a moment gone.

12

ای خوش آن روزی که از ایام نیست

صبح او را نیمروز و شام نیست

وہ دن بڑا ہی مبارک ہے جس کا تعلق ایام یعنی سورج کی گردش کے نتیجے میں طلوع ہونے والے دنو ں سے نہیں ہے اس کی صبح کی نہ تو دوپہر ہے اور نہ شام ہی ہے ۔

How fair is the Day that is not of our days, the Day whose dawn has neither noon nor eve!

13

روشن از نورش اگر گردد روان

صوت را چون رنگ دیدن میتوان

اگر انسان کی روح ایسے دن سے منور ، روشن ہو جائے تو آواز کو رنگ کی طرح دیکھا جا سکتا ہے ۔

Let its light illuminate the spirit and sounds become visible even as colours;

14

غیب ها از تاب او گردد حضور

نوبت او لایزال و بی مرور

ہر طرح کا غیب اسکی روشنی کے سبب حضور کی صورت اختیار کر لیتا یا حضوری میں بدل جاتا ہے ۔ وہ ہمیشہ رہتا ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتا ۔

Hidden things become manifest in its splendour, its watch is unending and intransient.

15

ای خدا روزی کن آن روزی مرا

وارهان زین روز بی سوزی مرا

اے خدا تو مجھے ایسا دن نصیب فرما اور اس بے سوز دن سے رہائی دلا دے ۔ مجھے تو اے خدا تو ایسے بے مقصد دن سے بچا کے رکھ ۔

Grant me that Day, Lord, even for a single day; deliver me from this day that has no glow!

16

آیهٔ تسخیر اندر شأن کیست؟

این سپهر نیلگون حیران کیست؟

قرآن مجید میں آیہ تسخیر کس کی شان میں ہے ۔ یہ نیلا آسمان کس کی عظمت پر حیران ہے گویا اللہ تعالیٰ نے یہ عظمت انسان کو بخشی ہے جس کو دیکھ کر آسمان حیرانی کا شکار ہے ۔

Concerning whom was the Verse of Subjection revealed? For whose sake spins the azure sphere so wildly?

17

رازدان علم الاسما که بود

مست آن ساقی و آن صهبا که بود

علم الاسماء کا رازدان کون تھا ۔ اس ساقی اور شراب (الست) کا مست کون تھا ۔ (حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے سب اشیاء کے اسماء بتا دیے تھے جو فرشتے بھی نہ بتا سکے) ۔

Who was it knew the secret of He taught the names? Who was intoxicated with that saki and that wine?

18

برگزیدی از همه عالم کرا؟

کردی از راز درون محرم کرا؟

اے خدا آپ نے سارے جہان میں سے کسے منتخب کیا اور پھر اس کائنات کے اندر کے رازوں سے کسے آگاہ کیا، محرم و واقف بنایا (وہ انسان ہی تھا جسے افضل مخلوقات بنایا گیا اور کائنات کے راز بھی اس پر ظاہر کیے گئے) ۔

Whom didst Thou choose out of all the world? To whom didst Thou confide the innermost secret?

19

ای ترا تیری که ما را سینه سفت

حرف «ادعونی» که گفت و با که گفت؟

آپ کے تیر (ہجر) نے ہمارا سینہ چھید ڈالا ہے ۔ مجھے پکارو میں جواب دوں گا ۔ یہ بات کس نے کہی تھی اور کس سے کہی تھی

O Thou whose arrow transpierced our breast, who uttered the words Call upon me, and to whom?

20

روی تو ایمان من قرآن من

جلوه ئی داری دریغ از جان من

آپ کا چہرہ ہی میرا ایمان اور میرا قرآن ہے یعنی میرے لیے سب کچھ ہے ۔ پھر کیا بات ہے کہ آپ اپنے جلوے سے مجھے محروم رکھ رہے ہیں

Thy countenance is my faith, and my Koran: dost Thou begrudge my soul one manifestation?

21

از زیان صد شعاع آفتاب

کم نمیگردد متاع آفتاب

سورج کی سینکڑوں شعاعوں کے نقصان بکھیرنے سے آفتاب کی روشنی کی متاع تو کم نہیں ہو جاتی وہ اسی طرح چمکتا رہتا ہے ۔

By the loss of a hundred of its rays; the sun’s capital is in no wise diminished.

22

عصر حاضر را خرد زنجیر پاست

جان بیتابی که من دارم کجاست؟

یہ دورِ حاضر کے لیے خرد کے پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہے ۔ میری جیسی بے تاب جان کہاں ہے

Reason is a chain fettering this present age: where is a restless soul such as I possess?

23

عمر ها بر خویش می پیچد وجود

تا یکی بیتاب جان آید فرود

حیات مدتوں پیچ و تاب کھاتی ہے تب کہیں جا کر ایک جانِ بیتاب ظہور میں آتی ہے ۔

For many ages Being must twist on itself that one restless soul may come into being.

24

گر نرنجی این زمین شوره زار

نیست تخم آرزو را سازگار

اگر آپ (اے خدا) ناراض نہ ہوں تو میں یہ عرض کروں گا کہ یہ شورہ زار زمین آرزو کے بیج کے لیے سازگار نہیں ۔ لوگوں کے دلوں میں جذبہ عشق پیدا کرنا محال ہے

Except you fret away at this brackish soil; it is not congenial to the seed of desire.

25

از درون این گل بی حاصلی

بس غنیمت دان اگر روید دلی

اس بنجر مٹی میں سے اگر ایک دل بھی اگ آئے تو اسے غنیمت سمجھ ۔ دل سے مراد دلِ زندہ و بیدار ہے ۔

Count it for gain enough if a single heart grows from the bosom of this unproductive clay!

26

تو مهی اندر شبستانم گذر

یک زمان بی نوری جانم نگر

(اے محبوب حقیقی) آپ تو چاند ہیں ، میری محفل شب کی طرف آئیے اور ذرا میری جان کی تاریکی کو دیکھیے ۔ یعنی میری زندگی کی تاریک رات کو اپنے نور سے منور فرما دیں ۔

Thou art a moon: pass within my dormitory, glance but once on my unenlightened soul.

27

شعله را پرهیز از خاشاک چیست؟

برق را از برفتادن باک چیست؟

شعلے کو بھلا خشک تنکوں کو جلانے سے پرہیز کیوں ہو بجلی کو گرنے سے ڈر کیا ہے ۔ (خود کو خشک تنکے اور حاصل زندگی سے تشبیہ دی ہے جبکہ خدا کے جلوے کو بجلی سے )

Why does the flame shrink away from the stubble? Why is the lightning-flash afraid to strike?

28

زیستم تا زیستم اندر فراق

وانما آنسوی این نیلی رواق

میں جب تک جیا فراق ہی میں زندہ رہا ۔ مجھے دکھائیے کہ اس نیلے آسمان کے پرے کیا ہے ۔ یہ مجھ پر ظاہر کر دیں ۔

So long as I have lived, I have lived in separation: reveal what lies beyond yon azure canopy;

29

بسته در ها را برویم باز کن

خاک را با قدسیان همراز کن

آپ بند دروازے مجھ پر کھول دیں اور مجھ خاکی انسان کو فرشتوں کا ہمراز بنا دیں ۔

Open the doors that have been closed in my face, let earth share the secrets of heaven’s holy ones.

30

آتشی در سینهٔ من برفروز

عود را بگذار و هیزم را بسوز

میرے سینے میں عشق کی آگ روشن کر دیں ۔ عود کو چھوڑ دیں اور ہیزم (ایندھن) کو جلا دیں ۔ (عود عشق کا اور ہیزم عقل کا استعارہ ہے ۔ مطلب یہ کہ میرے سینے میں جذبہ عشق پیدا کر دیں ) ۔

Kindle now a fire within my breast, leave be the aloe, and consume the brushwood;

31

باز بر آتش بنه عود مرا

در جهان آشفته کن دود مرا

پھر میری عود کو آگ پر رکھیئے اور ساری دنیا میں میرا دھواں پھیلا دیں ۔ یعنی مجھے جذبہ عشق سے نواز کر اسے میری شاعری کے ذریعے لوگوں تک پہنچا دیں ۔

Then set my aloe again upon the fire and scatter my smoke through all the world.

32

آتش پیمانهٔ من تیز کن

با تغافل یک نگه آمیز کن

میرے پیمانے کی آگ تیز کر دے اور اپنے تغافل کے ساتھ ایک نگاہ بھی ملا دے ۔

Stir up the fire within my goblet; mingle one glance with this inadvertency.

33

ما ترا جوئیم و تو از دیده دور

نی غلط ، ما کور و تو اندر حضور

ہم آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں اور آپ ہماری آنکھوں سے دور ہیں ۔ نہیں یہ بات نہیں آپ تو ہمارے سامنے ہیں مگر ہم خود اندھے ہیں ۔

We seek Thee, and Thou art far from our sight; no, I have erred-we are blind, and Thou art present.

34

یا گشا این پردهٔ اسرار را

یا بگیر این جان بی دیدار را

یا تو تو ان رازوں کا پردہ ہٹا دے یا پھر تیرے دیدار سے محروم میری جان واپس لے لے ۔

Either draw aside this veil of mysteries, or seize to Thyself this sightless soul!

35

نخل فکرم ناامید از برگ و بر

یا تبر بفرست یا باد سحر

میری فکر کا درخت پتوں اور پھل سے محروم ہے ۔ یا تو اسے کلہاڑی کی نذر کر دے کہ یہ کٹ کر ختم ہو جائے یا پھر صبح کی ہوا سے نوا ز دے تاکہ یہ خوب پھلے پھولے ۔

The date-tree of my thought despairs of leaf and fruit; either despatch the axe, or the breeze of dawn.

36

عقل دادی هم جنونی ده مرا

ره به جذب اندرونی ده مرا

تو نے مجھے عقل دی ہے ۔ تو اب جنون سے بھی مجھے نواز دے مجھے اپنے اندرونی جذب تک کا راستہ بھی عطا فرما دے ۔

Thou gavest me reason, give me madness too, show me the way to inward ecstasy.

37

علم در اندیشه می گیرد مقام

عشق را کاشانه قلب لاینام

علم کا مقام انسانی فکر میں ہے جبکہ عشق کا ٹھکانا ایسے دل میں ہے جو ہمیشہ بیدار رہتا ہے ۔

Knowledge takes up residence in the thought; love’s lodge is the unsleeping heart;

38

علم تا از عشق برخوردار نیست

جز تماشا خانهٔ افکار نیست

جب تک علم عشق سے فیض نہ پائے وہ تماشا خانہ افکار کے سوائے اور کچھ نہیں ۔

So long as knowledge has no portion of love; it is a mere picture-gallery of thoughts.

39

این تماشا خانه سحر سامری است

علم بی روح القدس افسونگری است

علم کا یہ تماشاخانہ محض سامری کا جادو ہے ۔ روح القدس کے بغیر علم شعبدہ بازی یا جادوگری ہے ۔

This peep-show is the Samiri’s conjuring-trick; knowledge without the Holy Ghost is mere spellbinding.

40

بی تجلی مرد دانا ره نبرد

از لکد کوب خیال خویش مرد

مردِ دانا تجلی کے نور کے بغیر راہ نہیں پاتا جبکہ نادان اس تجلی کے بغیر اپنے پریشان خیالوں کی دو لتیوں ہی سے مر جاتا ہے ۔

Without revelation no wise man ever found the way, he died buffetted by his own imaginings;

41

بی تجلی زندگی رنجوری است

عقل مهجوری و دین مجبوری است

تجلی کے بغیر زندگی دکھ درد ہے اور عقل تو حقیقتِ زندگی سے دور لے جاتی ہے اور اس کا دین محض مجبوری بن کر رہ جاتا ہے ۔

Without revelation life is a mortal sickness, reason is banishment, religion constraint.

42

این جهان کوه و دشت و بحر و بر

ما نظر خواهیم و او گوید خبر

پہاڑ، بیابان اور سمندر اور خشکی کی یہ دنیا ہمیں صرف اللہ تعالیٰ کی خبر دیتی ہے مگر ہم اس کے دیدار کے خواہاں ہیں ۔

This world of mountain and plain, ocean and land, we yearn for vision, and it speaks of report.

43

منزلی بخش این دل آواره را

باز ده با ماه این مهپاره را

اے خدا تو میرے اس آوارہ دل کو منزل عطا کر اور چاند کے اس ٹکڑے کو چاند سے پھر ملا دے ۔ (مجھے عشق سے سرشار فرما کر اپنے دیدار یا اپنی تجلی سے نواز دے ۔ )

Grant to this vagrant heart a resting-place, restore to the moon this fragment of the moon.

44

گرچه از خاکم نروید جز کلام

حرف مهجوری نمی گردد تمام

اگرچہ میری خاک سے کلام کے سوا اور کچھ نہیں پیدا ہوتا مگر میرا کلام ہجر کی پوری داستان بیان نہیں کر سکا ۔

Though from my soil nothing grows but words, the language of banishment never comes to an end.

45

زیر گردون خویش را یابم غریب

ز آنسوی گردون بگو «انی قریب»

اپنے آپ کو اس دنیا میں اجنبی سمجھتا ہوں ۔ تو اے خدا آسمان کے اس جانب سے مجھے صدا دے کہ میں قریب ہوں ۔

Under the heavens I feel myself a stranger: from beyond the skies utter the words I am near;

46

تا مثال مهر و مه گردد غروب

این جهات و این شمال و این جنوب

تاکہ جہان کی یہ طرفیں اور یہ شمال اور یہ جنوب سب سورج اور چاند کی طرح نظروں سے اوجھل ہو جائیں ۔ تاکہ میں قیدِ مکان سے آزاد ہو جاؤں ۔

That these dimensions, this north and this south, like to the sun and moon in the end may set;

47

از طلسم دوش و فردا بگذرم

از مه و مهر و ثریا بگذرم

میں گزرے ہوئے کل اور آنے والے کلی ماضی اور مستقل کے جادو سے نکل جاؤں اور چاند اور سورج اور پروین سے گزر جاؤں ۔

I shall transcend the talisman of yesterday and tomorrow, transcend the moon, sun, Pleiades.

48

تو فروغ جاودان ما چون شرار

یک دو دم داریم و آن هم مستعار

اے خدا تو ہمیشہ رہنے والا نور ہے جبکہ ہم چنگاری کی مانند عارضی و فانی ہیں ۔ ہماری زندگی کے دو ایک سانس ہی ہیں اور وہ بھی ادھار ہیں ۔

Thou art eternal splendour; we are like sparks; a breath or two we possess, and that too borrowed.

49

ای تو نشناسی نزاع مرگ و زیست

رشک بر یزدان برد این بنده کیست

اے ذاتِ اقدس تجھے موت اور زندگی کے باہمی نزاع کا پتہ نہیں ہے ۔ یہ ناچیز خدا پر رشک کرنے والا کون ہوتا ہے ۔

You who know naught of the battle of death and life, who is this slave who would emulate even God?

50

بندهٔ آفاق گیر و ناصبور

نی غیاب او را خوش آید نی حضور

خدا پر رشک کرنے والا یہ بندہ کائنات کو مسخر کیے ہوئے ہے لیکن پھر بھی وہ صبر کرنے والا نہیں ہے ۔ نہ تو اسے تجھ سے دوری اچھی لگتی ہے اور نہ تیری حضوری ہی اچھی لگتی ہے ۔وصل میں مرگِ آرزو ہجر میں لذتِ طلب

This slave, impatient, conquering all horizons, finds pleasure neither in absence nor in presence.

51

آنیم من جاودانی کن مرا

از زمینی آسمانی کن مرا

میری زندگی ایک لمحہ کی زندگی ہے اسے جاوداں کر دے ۔ گو میں زمینی ہوں لیکن تو مجھے آسمانی بنا دے ۔

I am a momentary thing: make me eternal, out of my earthiness make me celestial.

52

ضبط در گفتار و کرداری بده

جاده ها پیداست رفتاری بده

مجھے گفتار اور کردار میں ضبط عطا فرما دے ۔ راستے ظاہر ہیں ان پر چلنے کے لیے تو مجھے رفتار عطا فر ما دے ۔

Grant me precision both in speech and action: the ways are clear- give me the strength to walk.

53

آنچه گفتم از جهانی دیگر است

این کتاب از آسمانی دیگر است

میں نے جو کچھ اس کتاب (جاوید نامہ) میں کہا ہے اس کا تعلق کسی اور جہان سے ہے ۔ یہ کتاب کسی اور آسمان سے ہے ۔

What I have said comes from another world; this book descends from another heaven.

54

بحرم و از من کم آشوبی خطاست

آنکه در قعرم فرو آید کجاست

میں ایک سمندر ہوں اور یہ خیال کرنا کہ مجھ میں طوفان نہیں ہے ایک غلط بات ہے ۔ وہ شخص جو میرے افکار کی گہرائی میں اترے کہاں ہے

I am a sea; untumult in me is a fault; where is he who can plunge into my depths?

55

یک جهان بر ساحل من آرمید

از کران غیر از رم موجی ندید

ایک دنیا نے میرے ساحل پر آرام کیا مگر ان بے شمار لوگوں نے ساحل سے سوائے موجوں کے چلنے کے اور کچھ نہ دیکھا ۔ (مطلب یہ کہ لوگوں نے میری شاعری کو عام شاعری کی طرح پڑھا اور اس کی تہ یا گہرائی میں اترنے کی کوشش نہیں کی) ۔

A whole world slumbered upon my shore and saw from the strand naught but the surge of a wave.

56

من که نومیدم ز پیران کهن

دارم از روزی که میآید سخن

میں جو پرانے بوڑھوں سے نا امید ہوں میں آنے والے دور کی بات کہنا چاہتا ہوں (مطلب یہ کہ بوڑھوں نے تومیری شاعری کی طرف توجہ نہیں دی تاہم مجھے آنے والی نوجوان نسل سے توقع ہے کہ وہ اس کی طرف توجہ کریں گے ) ۔

I, who despair of the great sages of old, have a word to say touching the day to come!

57

بر جوانان سهل کن حرف مرا

بهرشان پایاب کن ژرف مرا

اے خدا تو جوانوں کے لیے میری شاعری آسان کر دے ان کے لیے میرے سمندر کو عبور کرنا آسان بنا دے ۔ خدایا آرزو میری یہی ہے میرا نورِ بصیرت عام کر دے

Render my speech easy unto the young, make my abyss for them attainable.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خیال من به تماشای آسمان بود است

بدوش ماه و به آغوش کهکشان بود است

علامہ اقبال»جاویدنامه»دیباچه

اگلی نظم

زندگی از لذت غیب و حضور

بست نقش این جهان نزد و دور

علامہ اقبال»جاویدنامه»تمهید آسمانی: نخستین روز آفرینش نکوهش می‌کند آسمان زمین را

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور