صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »تمهید آسمانی: نخستین روز آفرینش نکوهش می‌کند آسمان زمین را

تمهید آسمانی: نخستین روز آفرینش نکوهش می‌کند آسمان زمین را

تمهید آسمانی: آفرینش (کائنات) کے اوّلین روز آسمان کا زمین کو ملامت کرنا

Prelude in Heaven: On the First Day of Creation Heaven Rebukes Earth

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

زندگی از لذت غیب و حضور

بست نقش این جهان نزد و دور

زندگی نے غیب و حضور کی لذت کی خاطر اس نزدیک اور دور جہان کا نقش پیدا کیا ۔ (غیب ہر لحاظ سے کہ وہ نظر نہیں آتا اور حضور اس لحاظ سے کہ کائنات کے ذرے ذرے میں تو اس کا جلوہ کارفرما ہے) ۔

Life out of the delight of absence and presence fashioned forth this world of near and far;

22

آنچنان تار نفس از هم گسیخت

رنگ حیرت خانهٔ ایام ریخت

حیات نے سانس کے تاروں کو ایک دوسرے سے کچھ اس طرح علیحدہ کر دیا کہ ایام کے حیرت خانہ کی بنیاد رکھ دی ۔

So snapped asunder the thread of the moment and mixed the hues of Time’s house of amazement.

33

هر کجا از ذوق و شوق خود گری

نعرهٔ «من دیگرم ، تو دیگری»

ہر جگہ خودگری کے ذوق و شوق کے باعث میں اور ہوں اور تو اور ہے کا نعرہ سنائی دے رہا ہے ۔ من دیگرم تو دیگری امیر خسرو کے اس شعر سے ماخوذ ہے ۔

On all sides, out of the joyous yearning for habitude, arose the cry: ‘I am one thing, you are another.’

44

ماه و اختر را خرام آموختند

صد چراغ اندر فضا افروختند

قدرت نے چاند اور ستاروں کو گردش کرنا سکھا دیا اور یوں سینکڑوں چراغ روشن کر دیئے گئے (چاند اور ستاروں کے لیے چراغ کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے) ۔

The moon and the stars learned the way to walk; a hundred lamps were kindled in the firmament.

55

بر سپهر نیلگون زد آفتاب

خیمهٔ زر بفت با سیمین طناب

نیلے آسمان پر سورج نے سونے کے تاروں سے بنا ہوا خیمہ نصب کیا جس کی رسیاں چاندی کی طرح سفید تھیں ۔ (رسیوں سے مراد سورج کی کرنیں ہیں ) ۔

In the azure heavens the sun pitched, its gold-cloth tent with its silver ropes;

66

از افق صبح نخستین سر کشید

عالم نو زاده را در بر کشید

افق سے صبح نے سر نکالا اور نئے تخلیق شدہ جہان کو اپنی آغوش میں لے لیا یعنی طلوع و غروب اور صبح و شام کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔

Raised its head over the rim of the first dawn and drew to its breast the new-born world.

77

ملک آدم خاکدانی بود و بس

دشت او بی کاروانی بود و بس

آدم کی دنیا اس وقت محض مٹی کا ایک گھر تھا ۔ اس کا بیابان بغیر کسی کاروان کے تھا ۔ دنیا میں زندگی کی کوئی رونق نہ تھی ۔

Man’s realm was a heap of earth, no more, an empty wilderness, without a caravan;

88

نی به کوهی آب جوئی در ستیز

نی به صحرائی سحابی ریزریز

نہ کسی پہاڑ ہی سے کوئی ندی نبرد آزما تھی (پہاڑ سے کوئی ندی نہیں نکلتی تھی) اور نہ کسی صحرا میں کوئی بادل ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گردش کر رہا تھا ۔

Not a river wrestled in any mountain, not a cloud sprinkled on any desert,

99

نی سرود طایران در شاخسار

نی رم آهو میان مرغزار

نہ شاخوں پر پرندے چہچہا رہے تھے اور نہ سبزہ زار میں ہرن بھاگ دوڑ رہے تھے ۔

No chanting of birds among the branches, no leaping of deer amidst the meadow.

1010

بی تجلی های جان بحر و برش

دود پیچان طیلسان پیکرش

اس کائنات کے بحر و بر میں جان کی تجلیاں نہ تھیں ۔ اس کے جسم کی چادر اٹھتا ہوا دھواں تھا ۔

Sea and land lacked the spirit’s manifestations; a curling vapour was the mantle of earth’s body;

1111

سبزه باد فرودین نادیده ئی

اندر اعماق زمین خوابیده ئی

یہاں کے سبزے نے ابھی موسم بہار کی ہوا نہیں دیکھی اور وہ زمین کی گہرائیوں میں سو رہا تھا ۔ (سبزہ اگنا شروع نہیں ہوا تھا ) ۔

The grasses, never having known the breeze of March, still slumbered within the depths of earth.

1212

طعنه ئی زد چرخ نیلی بر زمین

روزگار کس ندیدم این چنین

نیلے آسمان نے زمین کو طعنہ دیا ۔ میں نے کسی کے حالات ایسے خراب نہیں دیکھے ۔

The azure sky then chided the earth, saying: ‘I never saw anyone pass so miserable a life!

1313

چون تو در پهنای من کوری کجا

جز به قندیلم ترا نوری کجا

میری فضا کی وسعتوں میں تیرے جیسا اندھا کہاں ہے ۔ میری قندیل کے بغیر تیرے پاس روشنی کہاں ہے ۔ اندھا استعارہ ہے تاریکی کا ۔

In all my breadth what creature is so blind as you? What light is yours, save that drawn from my lamp?

1414

خاک اگر الوند شد جز خاک نیست

روشن و پاینده چون افلاک نیست

مٹی اگر الوند پہاڑ بن جائے تو بھی وہ مٹی ہی رہتی ہے ۔ وہ کبھی آسمانوں کی طرح روشن اور جاودانی نہیں ہو سکتی ۔

Be earth high as Alvand, yet it is only earth, it is not bright and eternal as the skies.

1515

یا بزی با ساز و برگ دلبری

یا بمیر از ننگ و عار کمتری

اے زمین تو یا تو دلبری کے سازو سامان یعنی انداز سے زندگی بسر کر یا پھر اپنے کمتر ہونے کی شرم میں مر جا ۔

Either live with the apparatus of a heart-charmer, or die of the shame and misery of worthlessness!’

1616

شد زمین از طعنهٔ گردون خجل

نا امید و دل گران و مضمحل

زمین، آسمان کی اس طعنہ زنی سے شرمسار ہو گئی اور مایوس اور بوجھل دل والی اور مضمحل ہو گئی ۔

Earth felt put to shame by heaven’s reproach, desperate, heavy of heart, utterly annihilated,

1717

پیش حق از درد بی نوری تپید

تا ندائی ز آنسوی گردون رسید

وہ خدا کی بارگاہ میں اپنی بے نوری کے درد سے تڑپی، یہاں تک کہ آسمان کے اس پار سے یہ آواز آئی ۔

Fluttered before God in the agony of unlight. Suddenly a voice echoed from beyond the skies:

1818

ای امینی از امانت بی خبر

غم مخور اندر ضمیر خود نگر

اے امین تو اپنی امانت سے بے خبر ہے ، تو غم نہ کر اپنے ضمیر کے اندر نظر ڈال یعنی تجھ میں آدم آنے والا ہے جو ایک امانت ہے ۔

‘O trusty one, as yet unaware of the trust, be not sorrowful; look within thy own heart.

1919

روز ها روشن ز غوغای حیات

نی از آن نوری که بینی در جهات

تیرے دن زندگی کے ہنگامے سے روشن ہو جائیں گے اور اس روشنی سے نہیں جو تجھے اپنے اطراف میں نظر آ رہی ہے ۔

The days are bright of the tumult of life, not through the light thou seest spread in all quarters.

2020

نور صبح از آفتاب داغ دار

نور جان پاک از غبار روزگار

یہ جو صبح کی روشنی ہے یہ تو داغ دار سورج کی بنا پر ہے جبکہ نورِ جاں زمانے کے گردو غبار سے پاک ہے ۔

Dawn’s light comes from the spotted sun, the soul’s light is unsullied by the dust of time;

2121

نور جان بی جاده ها اندر سفر

از شعاع مهر و مه سیار تر

روح کا نور راستوں کے بغیر ہی سفر میں رہتا ہے ۔ وہ نورِ جاں سورج اور چاند کی شعاعوں سے بھی زیادہ تیز رفتار ہے ۔

The soul’s light is upon a pathless journey, roves farther than the rays of sun, and moon.

2222

شسته ئی از لوح جان نقش امید

نور جان از خاک تو آید پدید

کیا تو (زمین )نے اپنی جان کی تختی سے امید کا نقش دھو ڈالا ہے ۔ نورِ جاں تیری مٹی ہی سے ظاہر ہو گا ۔ مطلب یہ کہ نا امید نہ ہو تیری مٹی ہی سے آدم وجود میں آئے گا ۔

Thou hast washed from the soul’s tablet the image of hope, yet the soul’s light manifests out of thy dust!

2323

عقل آدم بر جهان شبخون زند

عشق او بر لامکان شبخون زند

آدم کی عقل جہان پر شب خون مارے گی ۔ اس کا عشق لامکان پر شب خوں مارے گا ۔ یعنی اس کی عقل جہان کو مسخر کرے گی اور اس کا عشق آسمان کو بھی مسخر کر لے گا ۔

Man’s reason is making assault on the world, but his love makes assault on the Infinite;

2424

راه دان اندیشهٔ او بی دلیل

چشم او بیدار تر از جبرئیل

اس آدم کا فکر کسی راہبر کے بغیر ہی صحیح راستہ جاننے والا ہو گا اور اس کی آنکھ جبرئیل سے بھی زیادہ بیدار ہو گی ۔

His thought knows the way without any guide; his sight is more wakeful than Gabriel.

2525

خاک و در پرواز مانند ملک

یک رباط کهنه در راهش فلک

انسان ہے تو مٹی کا بنا ہوا لیکن پرواز میں وہ فرشتے کی مانند ہے ۔ آسمان اس کے راستے کی ایک پرانی سرائے کی مانند ہے ۔ (اس کے آگے زمان و مکان کی کوئی حیثیت نہیں وہ آگے ہی بڑھتا رہتا ہے) ۔

Earthy, yet in flight he is like an angel; heaven is but an ancient inn upon his way;

2626

می خلد اندر وجود آسمان

مثل نوک سوزن اندر پرنیان

وہ (انسان) آسمان کے وجود میں اس طرح کھٹکتا ہے جس طرح سوئی کی نوک پر ریشمی کپڑے میں چبھی ہوئی ہوتی ہے ۔

He pricks into the very depths of the heavns like the point of a needle into silk;

2727

داغها شوید ز دامان وجود

بی نگاه او جهان کور و کبود

وہ وجود کے دامن سے داغ دھبے دھوتا ہے ۔ اس کی نگاہ کے بغیر یہ جہان اندھا اور تاریک ہے ۔

He washes the stains from the skirt of Being, and without his glance, the world is blank and blind.

2828

گرچه کم تسبیح و خونریز است او

روزگاران را چو مهمیز است او

اگرچہ وہ تسبیح نہیں کرتا یا کم کرتا ہے ۔ اور ایک دوسرے کا خون بہاتا ہے (ملاءکہ نے کہا تھا کہ ہم تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور آدم جھگڑالو اور خونریز ہے ) لیکن زمانوں کے لیے وہ مہمیز کا کام کرتا ہے (زمانے کی ترقی اس کی بدولت ہو گی ) ۔

Though few his magnificats, and much blood he sheds, yet he is as a spur in the flanks of doom.

2929

چشم او روشن شود از کائنات

تا ببیند ذات را اندر صفات

اس کی آنکھ کائنات سے روشن ہو گی تا کہ وہ اس ذاتِ حق کو اس کی صفات کے اندر دیکھے گا ۔

His sight becomes keen through observing phenomena so that he sees the Essence within the attributes.

3030

«هر که عاشق شد جمال ذات را

اوست سید جمله موجودات را»

جو کوئی بھی اس ذاتِ حق کے جمال کا عاشق ہو گیا وہ ساری موجودات کا سردار ہو گیا ۔ (یہ شعر مولانا رومی کا ہے

Whoever falls in love with the beauty of Essence, he is the master of all existing things.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آدمی اندر جهان هفت رنگ

هر زمان گرم فغان مانند چنگ

علامہ اقبال»جاویدنامه»مناجات

اگلی نظم

فروغ مشت خاک از نوریان افزون شود روزی

زمین ازکوکب تقدیر او گردون شود روزی

علامہ اقبال»جاویدنامه»نغمهٔ ملائک

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور