صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »تمهید آسمانی: نخستین روز آفرینش نکوهش می‌کند آسمان زمین را

تمهید آسمانی: نخستین روز آفرینش نکوهش می‌کند آسمان زمین را

تمهید آسمانی: آفرینش (کائنات) کے اوّلین روز آسمان کا زمین کو ملامت کرنا

Prelude in Heaven: On the First Day of Creation Heaven Rebukes Earth

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

زندگی از لذت غیب و حضور

بست نقش این جهان نزد و دور

زندگی نے غیب و حضور کی لذت کی خاطر اس نزدیک اور دور جہان کا نقش پیدا کیا ۔ (غیب ہر لحاظ سے کہ وہ نظر نہیں آتا اور حضور اس لحاظ سے کہ کائنات کے ذرے ذرے میں تو اس کا جلوہ کارفرما ہے) ۔

Life out of the delight of absence and presence fashioned forth this world of near and far;

2

آنچنان تار نفس از هم گسیخت

رنگ حیرت خانهٔ ایام ریخت

حیات نے سانس کے تاروں کو ایک دوسرے سے کچھ اس طرح علیحدہ کر دیا کہ ایام کے حیرت خانہ کی بنیاد رکھ دی ۔

So snapped asunder the thread of the moment and mixed the hues of Time’s house of amazement.

3

هر کجا از ذوق و شوق خود گری

نعرهٔ «من دیگرم ، تو دیگری»

ہر جگہ خودگری کے ذوق و شوق کے باعث میں اور ہوں اور تو اور ہے کا نعرہ سنائی دے رہا ہے ۔ من دیگرم تو دیگری امیر خسرو کے اس شعر سے ماخوذ ہے ۔

On all sides, out of the joyous yearning for habitude, arose the cry: ‘I am one thing, you are another.’

4

ماه و اختر را خرام آموختند

صد چراغ اندر فضا افروختند

قدرت نے چاند اور ستاروں کو گردش کرنا سکھا دیا اور یوں سینکڑوں چراغ روشن کر دیئے گئے (چاند اور ستاروں کے لیے چراغ کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے) ۔

The moon and the stars learned the way to walk; a hundred lamps were kindled in the firmament.

5

بر سپهر نیلگون زد آفتاب

خیمهٔ زر بفت با سیمین طناب

نیلے آسمان پر سورج نے سونے کے تاروں سے بنا ہوا خیمہ نصب کیا جس کی رسیاں چاندی کی طرح سفید تھیں ۔ (رسیوں سے مراد سورج کی کرنیں ہیں ) ۔

In the azure heavens the sun pitched, its gold-cloth tent with its silver ropes;

6

از افق صبح نخستین سر کشید

عالم نو زاده را در بر کشید

افق سے صبح نے سر نکالا اور نئے تخلیق شدہ جہان کو اپنی آغوش میں لے لیا یعنی طلوع و غروب اور صبح و شام کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔

Raised its head over the rim of the first dawn and drew to its breast the new-born world.

7

ملک آدم خاکدانی بود و بس

دشت او بی کاروانی بود و بس

آدم کی دنیا اس وقت محض مٹی کا ایک گھر تھا ۔ اس کا بیابان بغیر کسی کاروان کے تھا ۔ دنیا میں زندگی کی کوئی رونق نہ تھی ۔

Man’s realm was a heap of earth, no more, an empty wilderness, without a caravan;

8

نی به کوهی آب جوئی در ستیز

نی به صحرائی سحابی ریزریز

نہ کسی پہاڑ ہی سے کوئی ندی نبرد آزما تھی (پہاڑ سے کوئی ندی نہیں نکلتی تھی) اور نہ کسی صحرا میں کوئی بادل ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گردش کر رہا تھا ۔

Not a river wrestled in any mountain, not a cloud sprinkled on any desert,

9

نی سرود طایران در شاخسار

نی رم آهو میان مرغزار

نہ شاخوں پر پرندے چہچہا رہے تھے اور نہ سبزہ زار میں ہرن بھاگ دوڑ رہے تھے ۔

No chanting of birds among the branches, no leaping of deer amidst the meadow.

10

بی تجلی های جان بحر و برش

دود پیچان طیلسان پیکرش

اس کائنات کے بحر و بر میں جان کی تجلیاں نہ تھیں ۔ اس کے جسم کی چادر اٹھتا ہوا دھواں تھا ۔

Sea and land lacked the spirit’s manifestations; a curling vapour was the mantle of earth’s body;

11

سبزه باد فرودین نادیده ئی

اندر اعماق زمین خوابیده ئی

یہاں کے سبزے نے ابھی موسم بہار کی ہوا نہیں دیکھی اور وہ زمین کی گہرائیوں میں سو رہا تھا ۔ (سبزہ اگنا شروع نہیں ہوا تھا ) ۔

The grasses, never having known the breeze of March, still slumbered within the depths of earth.

12

طعنه ئی زد چرخ نیلی بر زمین

روزگار کس ندیدم این چنین

نیلے آسمان نے زمین کو طعنہ دیا ۔ میں نے کسی کے حالات ایسے خراب نہیں دیکھے ۔

The azure sky then chided the earth, saying: ‘I never saw anyone pass so miserable a life!

13

چون تو در پهنای من کوری کجا

جز به قندیلم ترا نوری کجا

میری فضا کی وسعتوں میں تیرے جیسا اندھا کہاں ہے ۔ میری قندیل کے بغیر تیرے پاس روشنی کہاں ہے ۔ اندھا استعارہ ہے تاریکی کا ۔

In all my breadth what creature is so blind as you? What light is yours, save that drawn from my lamp?

14

خاک اگر الوند شد جز خاک نیست

روشن و پاینده چون افلاک نیست

مٹی اگر الوند پہاڑ بن جائے تو بھی وہ مٹی ہی رہتی ہے ۔ وہ کبھی آسمانوں کی طرح روشن اور جاودانی نہیں ہو سکتی ۔

Be earth high as Alvand, yet it is only earth, it is not bright and eternal as the skies.

15

یا بزی با ساز و برگ دلبری

یا بمیر از ننگ و عار کمتری

اے زمین تو یا تو دلبری کے سازو سامان یعنی انداز سے زندگی بسر کر یا پھر اپنے کمتر ہونے کی شرم میں مر جا ۔

Either live with the apparatus of a heart-charmer, or die of the shame and misery of worthlessness!’

16

شد زمین از طعنهٔ گردون خجل

نا امید و دل گران و مضمحل

زمین، آسمان کی اس طعنہ زنی سے شرمسار ہو گئی اور مایوس اور بوجھل دل والی اور مضمحل ہو گئی ۔

Earth felt put to shame by heaven’s reproach, desperate, heavy of heart, utterly annihilated,

17

پیش حق از درد بی نوری تپید

تا ندائی ز آنسوی گردون رسید

وہ خدا کی بارگاہ میں اپنی بے نوری کے درد سے تڑپی، یہاں تک کہ آسمان کے اس پار سے یہ آواز آئی ۔

Fluttered before God in the agony of unlight. Suddenly a voice echoed from beyond the skies:

18

ای امینی از امانت بی خبر

غم مخور اندر ضمیر خود نگر

اے امین تو اپنی امانت سے بے خبر ہے ، تو غم نہ کر اپنے ضمیر کے اندر نظر ڈال یعنی تجھ میں آدم آنے والا ہے جو ایک امانت ہے ۔

‘O trusty one, as yet unaware of the trust, be not sorrowful; look within thy own heart.

19

روز ها روشن ز غوغای حیات

نی از آن نوری که بینی در جهات

تیرے دن زندگی کے ہنگامے سے روشن ہو جائیں گے اور اس روشنی سے نہیں جو تجھے اپنے اطراف میں نظر آ رہی ہے ۔

The days are bright of the tumult of life, not through the light thou seest spread in all quarters.

20

نور صبح از آفتاب داغ دار

نور جان پاک از غبار روزگار

یہ جو صبح کی روشنی ہے یہ تو داغ دار سورج کی بنا پر ہے جبکہ نورِ جاں زمانے کے گردو غبار سے پاک ہے ۔

Dawn’s light comes from the spotted sun, the soul’s light is unsullied by the dust of time;

21

نور جان بی جاده ها اندر سفر

از شعاع مهر و مه سیار تر

روح کا نور راستوں کے بغیر ہی سفر میں رہتا ہے ۔ وہ نورِ جاں سورج اور چاند کی شعاعوں سے بھی زیادہ تیز رفتار ہے ۔

The soul’s light is upon a pathless journey, roves farther than the rays of sun, and moon.

22

شسته ئی از لوح جان نقش امید

نور جان از خاک تو آید پدید

کیا تو (زمین )نے اپنی جان کی تختی سے امید کا نقش دھو ڈالا ہے ۔ نورِ جاں تیری مٹی ہی سے ظاہر ہو گا ۔ مطلب یہ کہ نا امید نہ ہو تیری مٹی ہی سے آدم وجود میں آئے گا ۔

Thou hast washed from the soul’s tablet the image of hope, yet the soul’s light manifests out of thy dust!

23

عقل آدم بر جهان شبخون زند

عشق او بر لامکان شبخون زند

آدم کی عقل جہان پر شب خون مارے گی ۔ اس کا عشق لامکان پر شب خوں مارے گا ۔ یعنی اس کی عقل جہان کو مسخر کرے گی اور اس کا عشق آسمان کو بھی مسخر کر لے گا ۔

Man’s reason is making assault on the world, but his love makes assault on the Infinite;

24

راه دان اندیشهٔ او بی دلیل

چشم او بیدار تر از جبرئیل

اس آدم کا فکر کسی راہبر کے بغیر ہی صحیح راستہ جاننے والا ہو گا اور اس کی آنکھ جبرئیل سے بھی زیادہ بیدار ہو گی ۔

His thought knows the way without any guide; his sight is more wakeful than Gabriel.

25

خاک و در پرواز مانند ملک

یک رباط کهنه در راهش فلک

انسان ہے تو مٹی کا بنا ہوا لیکن پرواز میں وہ فرشتے کی مانند ہے ۔ آسمان اس کے راستے کی ایک پرانی سرائے کی مانند ہے ۔ (اس کے آگے زمان و مکان کی کوئی حیثیت نہیں وہ آگے ہی بڑھتا رہتا ہے) ۔

Earthy, yet in flight he is like an angel; heaven is but an ancient inn upon his way;

26

می خلد اندر وجود آسمان

مثل نوک سوزن اندر پرنیان

وہ (انسان) آسمان کے وجود میں اس طرح کھٹکتا ہے جس طرح سوئی کی نوک پر ریشمی کپڑے میں چبھی ہوئی ہوتی ہے ۔

He pricks into the very depths of the heavns like the point of a needle into silk;

27

داغها شوید ز دامان وجود

بی نگاه او جهان کور و کبود

وہ وجود کے دامن سے داغ دھبے دھوتا ہے ۔ اس کی نگاہ کے بغیر یہ جہان اندھا اور تاریک ہے ۔

He washes the stains from the skirt of Being, and without his glance, the world is blank and blind.

28

گرچه کم تسبیح و خونریز است او

روزگاران را چو مهمیز است او

اگرچہ وہ تسبیح نہیں کرتا یا کم کرتا ہے ۔ اور ایک دوسرے کا خون بہاتا ہے (ملاءکہ نے کہا تھا کہ ہم تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور آدم جھگڑالو اور خونریز ہے ) لیکن زمانوں کے لیے وہ مہمیز کا کام کرتا ہے (زمانے کی ترقی اس کی بدولت ہو گی ) ۔

Though few his magnificats, and much blood he sheds, yet he is as a spur in the flanks of doom.

29

چشم او روشن شود از کائنات

تا ببیند ذات را اندر صفات

اس کی آنکھ کائنات سے روشن ہو گی تا کہ وہ اس ذاتِ حق کو اس کی صفات کے اندر دیکھے گا ۔

His sight becomes keen through observing phenomena so that he sees the Essence within the attributes.

30

«هر که عاشق شد جمال ذات را

اوست سید جمله موجودات را»

جو کوئی بھی اس ذاتِ حق کے جمال کا عاشق ہو گیا وہ ساری موجودات کا سردار ہو گیا ۔ (یہ شعر مولانا رومی کا ہے

Whoever falls in love with the beauty of Essence, he is the master of all existing things.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آدمی اندر جهان هفت رنگ

هر زمان گرم فغان مانند چنگ

علامہ اقبال»جاویدنامه»مناجات

اگلی نظم

فروغ مشت خاک از نوریان افزون شود روزی

زمین ازکوکب تقدیر او گردون شود روزی

علامہ اقبال»جاویدنامه»نغمهٔ ملائک

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور