از نوا بر من قیامت رفت و کس آگاه نیست
پیش محفل جز بم و زیر و مقام و راه نیست
میری نوا سے تو مجھ پر قیامت کا سماں گزر گیا ہے ۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ( میں نے اپنے نغمات خون جگر سے تحریر کیے ہیں ۔ اور انہیں عشق کی موسیقی سے سجایا ہے ۔ لیکن اہل بزم ان نغمات کے ظاہری پہلووَں سے تو با خبر ہیں لیکن انہیں ان نغمات میں پوشیدہ پیغام کی خبر نہیں ہے) ۔
A melody swept me through and through and nobody knew; the air and the note is all they know: The high and low.
در نهادم عشق با فکر بلند آمیختند
ناتمام جاودانم کار من چون ماه نیست
(کارکنانِ قضا و قدر) نے میری فطرت میں عشق کو بلند فکر سے ملایا ہے (میرا عشق صاحب عقل بھی ہے) ۔ میرا کام تو ہمیشہ نامکمل ہی رہتا ہے ۔ یہ چاند کی طرح نہیں جو کبھی بڑھ جاتا ہے اور کبھی کم ہو جاتا ہے ۔ عشق ہمیشہ بڑھتا ہی رہتا ہے ۔
Love in my heart was made to chime with thought sublime; not like the moon I wax and wane; I never attain.
لب فروبند از فغان در ساز با درد فراق
عشق تا آهی کشد از جذب خویش آگاه نیست
فریاد نہ کر، اپنے ہونٹ بند کر لے اور ہجر کا درد برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر ۔ کیونکہ عشق جب آہ و فریاد کرتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ اسے اپنے جنوں کی خبر نہیں (عشق میں تو رضائے محبوب ہی کو اہمیت حاصل ہے) ۔
Weep no more, but with brave heart take disunion’s ache; Love, till it sigheth, scarce can guess its attractiveness.
شعله ئی میباش و خاشاکی که پیش آید بسوز
خاکیان را در حریم زندگانی راه نیست
شعلہ بن کر جو تنکا راستے میں آئے اسے جلا کر راکھ کر دے ۔ کیونکہ خاکی انسانوں کے لیے زندگی کے گھر میں داخل ہونے کا اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے ۔
Be thou a torch, and set afire the bush and briar; men of clay have no right to be in life’s sanctuary.
جره شاهینی بمرغان سرا صحبت مگیر
خیز و بال و پر گشا پرواز تو کوتاه نیست
تو ایک نر شاہین ہے گھر کے پالتو پرندوں کے ساتھ میل جول اختیار کرنا تیرے لیے اچھا نہیں ۔ اٹھ اپنے بازو اور پر کھول ۔ کیونکہ تیری پرواز کم بلند نہیں ہے ۔ تو سب پرندوں سے اونچی پرواز کا مالک ہے) ۔
A falcon thou art; yield not thy soul to domestic fowl; rise, spread thy wing and pinion, and soar both high and far.
کرم شب تاب است شاعر در شبستان وجود
در پر و بالش فروغی گاه هست و گاه نیست
شاعر محفل وجود میں جگنو کی مانند چمک رہا ہے ۔ اس کے بازووَں اور پروں میں کبھی روشنی ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی ۔ (شاعری کا وجدان کبھی طاری ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا) ۔
The poet’s a glow that giveth light in life’s dark night; a radiance shines in his wings anon, and sometimes none.
در غزل اقبال احوال خودی را فاش گفت
زانکه این نو کافر از آئین دیر آگاه نیست
اقبال نے اس غزل میں خودی کے احوال کو ظاہر کیا ہے ۔ کیونکہ یہ نیا نیا کافر ہے اسے مندر کے دستور عبادت سے آگاہ نہیں ہے (نئے کافر سے مراد یہ ہے کہ اقبال بزم صوفیاء میں نیا نیا وارد ہوا ہے ۔ اسے صوفیوں کے طور طریقوں کی خبر نہیں ) ۔
Iqbal in his song his Self has bared and truth declared; this new-unbeliever knoweth naught of cloister rote.
زمین
نالهها داریم و کس زین انجمن آگاه نیست
آنچه دل می خواهد از اظهار مطلب آه نیست
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 704
زاهِدِ ظاهِرپَرَست از حالِ ما، آگاه نیست
دَر حَقِ ما، هَرچِه گوید، جایِ هیچ اِکْراه نیست
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 71
هیچ لب زیر فلک بی ناله جانکاه نیست
تار و پود عالم امکان به غیر از آه نیست
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1307
دلبر از دل نیست غافل، دل اگر آگاه نیست
شاه با تخت است دایم، تخت اگر با شاه نیست
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1308
روی هفتاد و دو ملت جز در آن درگاه نیست
عالمی سرگشته اند و هیچ کس گمراه نیست
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1309
داند اخلاص مرا وز حال من آگاه نیست
در دلش ره دارم و بر آستانم راه نیست
نظیری نیشابوریدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 128
فارسی متن کا ماخذ: گنجور