صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 23

غزل شمارهٔ 23

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: اهنیست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 6

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

از نوا بر من قیامت رفت و کس آگاه نیست

پیش محفل جز بم و زیر و مقام و راه نیست

میری نوا سے تو مجھ پر قیامت کا سماں گزر گیا ہے ۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ( میں نے اپنے نغمات خون جگر سے تحریر کیے ہیں ۔ اور انہیں عشق کی موسیقی سے سجایا ہے ۔ لیکن اہل بزم ان نغمات کے ظاہری پہلووَں سے تو با خبر ہیں لیکن انہیں ان نغمات میں پوشیدہ پیغام کی خبر نہیں ہے) ۔

A melody swept me through and through and nobody knew; the air and the note is all they know: The high and low.

2

در نهادم عشق با فکر بلند آمیختند

ناتمام جاودانم کار من چون ماه نیست

(کارکنانِ قضا و قدر) نے میری فطرت میں عشق کو بلند فکر سے ملایا ہے (میرا عشق صاحب عقل بھی ہے) ۔ میرا کام تو ہمیشہ نامکمل ہی رہتا ہے ۔ یہ چاند کی طرح نہیں جو کبھی بڑھ جاتا ہے اور کبھی کم ہو جاتا ہے ۔ عشق ہمیشہ بڑھتا ہی رہتا ہے ۔

Love in my heart was made to chime with thought sublime; not like the moon I wax and wane; I never attain.

3

لب فروبند از فغان در ساز با درد فراق

عشق تا آهی کشد از جذب خویش آگاه نیست

فریاد نہ کر، اپنے ہونٹ بند کر لے اور ہجر کا درد برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر ۔ کیونکہ عشق جب آہ و فریاد کرتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ اسے اپنے جنوں کی خبر نہیں (عشق میں تو رضائے محبوب ہی کو اہمیت حاصل ہے) ۔

Weep no more, but with brave heart take disunion’s ache; Love, till it sigheth, scarce can guess its attractiveness.

4

شعله ئی میباش و خاشاکی که پیش آید بسوز

خاکیان را در حریم زندگانی راه نیست

شعلہ بن کر جو تنکا راستے میں آئے اسے جلا کر راکھ کر دے ۔ کیونکہ خاکی انسانوں کے لیے زندگی کے گھر میں داخل ہونے کا اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے ۔

Be thou a torch, and set afire the bush and briar; men of clay have no right to be in life’s sanctuary.

5

جره شاهینی بمرغان سرا صحبت مگیر

خیز و بال و پر گشا پرواز تو کوتاه نیست

تو ایک نر شاہین ہے گھر کے پالتو پرندوں کے ساتھ میل جول اختیار کرنا تیرے لیے اچھا نہیں ۔ اٹھ اپنے بازو اور پر کھول ۔ کیونکہ تیری پرواز کم بلند نہیں ہے ۔ تو سب پرندوں سے اونچی پرواز کا مالک ہے) ۔

A falcon thou art; yield not thy soul to domestic fowl; rise, spread thy wing and pinion, and soar both high and far.

6

کرم شب تاب است شاعر در شبستان وجود

در پر و بالش فروغی گاه هست و گاه نیست

شاعر محفل وجود میں جگنو کی مانند چمک رہا ہے ۔ اس کے بازووَں اور پروں میں کبھی روشنی ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی ۔ (شاعری کا وجدان کبھی طاری ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا) ۔

The poet’s a glow that giveth light in life’s dark night; a radiance shines in his wings anon, and sometimes none.

7

در غزل اقبال احوال خودی را فاش گفت

زانکه این نو کافر از آئین دیر آگاه نیست

اقبال نے اس غزل میں خودی کے احوال کو ظاہر کیا ہے ۔ کیونکہ یہ نیا نیا کافر ہے اسے مندر کے دستور عبادت سے آگاہ نہیں ہے (نئے کافر سے مراد یہ ہے کہ اقبال بزم صوفیاء میں نیا نیا وارد ہوا ہے ۔ اسے صوفیوں کے طور طریقوں کی خبر نہیں ) ۔

Iqbal in his song his Self has bared and truth declared; this new-unbeliever knoweth naught of cloister rote.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خیال من به تماشای آسمان بود است

بدوش ماه به آغوش کهکشان بود است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 22

اگلی نظم

شراب میکدهٔ من نه یادگار جم است

فشردهٔ جگر من به شیشهٔ عجم است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 24

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ناله‌ها داریم و کس زین انجمن آگاه نیست

آنچه دل می خواهد از اظهار مطلب آه نیست

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 704

زاهِدِ ظاهِرپَرَست از حالِ ما، آگاه نیست

دَر حَقِ ما، هَرچِه گوید، جایِ هیچ اِکْراه نیست

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 71

هیچ لب زیر فلک بی ناله جانکاه نیست

تار و پود عالم امکان به غیر از آه نیست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1307

دلبر از دل نیست غافل، دل اگر آگاه نیست

شاه با تخت است دایم، تخت اگر با شاه نیست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1308

روی هفتاد و دو ملت جز در آن درگاه نیست

عالمی سرگشته اند و هیچ کس گمراه نیست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1309

داند اخلاص مرا وز حال من آگاه نیست

در دلش ره دارم و بر آستانم راه نیست

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 128

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور