صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 16

غزل شمارهٔ 16

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اکاست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

فرشته گرچه برون از طلسم افلاک است

نگاه او بتماشای این کف خاک است

فرشتہ اگرچہ (انسانوں کی طرح) آسمانوں کے جادو (قوانینِ فطرت) سے آزاد ہے اس کے باوجود اس کی نظر مٹھی بھر خاک کے پتلے پر ہے ۔ یعنی وہ انسان کی رفعت کی طرف دیکھتا ہے جو اسے عشق کے سوز و گداز کی بدولت حاصل ہے ۔

Although the Angel dwells beyond the talisman of the skies, yet on this hand of dust in fond affection rest his eyes.

2

گمان مبر که بیک شیوه عشق می بازند

قبا بدوش گل و لاله بی جنون چاک است

اس خیال میں نہ رہ کہ بازی عشق ایک ہی طرز پر کھیلتے ہیں (عشق کی بازی محبوب کے ایک اشارے پر ہار جاتے ہیں ) کیا تو نہیں دیکھتا کہ گلاب اور گلِ لالہ کی قبائیں جنوں کے بغیر ہی چاک ہیں (وہ جنون عشق کے بغیر ہی بازی ہار گئے ہیں ) ۔

Think not upon one fashion goes the game of lore forlorn; sane are the tulip and the rose and yet their robe is torn.

3

حدیث شوق ادا میتوان بخلوت دوست

به ناله ئی که ز آلایش نفس پاک است

دوست سے گوشہ تنہائی میں قصہ شوق بیان کیا جا سکتا ہے (اس میں الفاظ کی ضرورت نہیں پڑتی) بلکہ اس آہ و فغاں کے ذریعے جو نفس کی آلائش سے پاک ہو ۔

The tale of passion told may be where the Friend sojourneth alone, with a lament that’s free of all defiling breath.

4

توان گرفت ز چشم ستاره مردم را

خرد بدست تو شاهین تند و چالاک است

ستارے سے (عقل ) کے ذریعے اس کی پتلی کو چھینا جا سکتا ہے کیونکہ انسانی عقل ایک تیز اور ہوشیار شاہین کی مانند ہے ۔ (جس طرح شاہین فضا میں اڑتے ہوئے پرندوں کی آنکھیں نکال سکتا ہے اسی طرح انسان بھی اپنی عقل سے فطرت کے عناصر کو مسخر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے) ۔

So from a star a man may clutch the apple of its eye; mind is a falcon at his touch eager and swift to fly.

5

گشای چهره که آنکس که لن ترانی گفت

هنوز منتظر جلوهٔ کف خاک است

اے انسان اپنا چہرہ بے نقاب کر دے کہ جس ہستی (خدا) نے تیرے اس مطالبہ پر کہ (رب ارنی) اے رب مجھے اپنا دیدار کرا (لن ترانی) تو مجھے نہیں دیکھ سکتا کہا تھا ۔ وہ خود اس خاک کی تخلیق کے دیدار کی آرزو رکھتا ہے ۔

Unveil thy face; for He who spoke, ‘Thou shalt not gaze on Me’ a hand of dust in view to take still waiteth patiently.

6

درین چمن که سرود است و این نوا ز کجاست

که غنچه سر بگریبان و گل عرقناک است

اس چمن میں ایسا کون گا رہا ہے اور یہ نوا (فریاد) کہاں سے آ رہی ہے ۔ جسے سن کر غنچہ حالت تفکر اور پھول پسینہ پسینہ ہو جاتا ہے ۔ مطلب یہ کہ کائنات میں جو اشیاء بھی موجود ہیں ان میں وہی محبوب جلوہ گر ہے جس کا ہر کوئی تماشائی ہے ۔

Who sang within the flowery mead? Say, whence his anthem came that lo! The rosebud hides her head, the roses blush for shame.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هوس هنوز تماشا گر جهانداری است

دگر چه فتنه پس پرده های زنگاری است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 15

اگلی نظم

عرب که باز دهد محفل شبانه کجاست

عجم که زنده کند رود عاشقانه کجاست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 17

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

حذر ز راه محبت که پر خطرناک است

تو مشت خار ضعیفی و شعله بی‌باک است

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 503

میی‌که شوخی رنگش جنون افلاک است

به خاتم قدح ما نگین ادراک است

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 504

گمان مبر که به پایان رسید کار مغان

هزار بادهٔ ناخورده در رگ تاک است

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 8 - حیات جاوید

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور