صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 15

غزل شمارهٔ 15

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اریاست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

هوس هنوز تماشا گر جهانداری است

دگر چه فتنه پس پرده های زنگاری است

ہوس ابھی تک اسی فکر میں ہے کہ کسی طرح دنیاوی مال و دولت اکٹھی کی جا سکتی ہے ۔ ہرے رنگ کے پردوں کے پیچھے اور کونسا فتنہ پوشیدہ ہے دنیا میں جتنے بھی فتنے و فساد پیدا ہوئے ان کا سبب ہوس ہی ہے ۔

Greed is acting still his play this world to dominate; what new turbulence, I pray, behind Heaven’s veil doth wait?

2

زمان زمان شکند آنچه می تراشد عقل

بیا که عشق مسلمان و عقل زناری است

عقل جو کچھ تراشتی ہے اسے لمحہ لمحہ توڑتی بھی رہتی ہے (کیونکہ وہ درست نتیجہ اخذ نہیں کر سکتی ) اب عقل کی باتیں چھوڑ کر عشق اختیار کر لے کیونکہ عشق مسلمان ہے ۔ صحیح راستے پر ہے اور عقل برہمن کا زنار ہے (کفر کی راہ چلتی ہے) ۔ عشق معرفت حق کی طرف لے جاتا ہے ۔

Now and now Mind breaketh through what idols it designed; come, for Love believeth true and infidel is Mind.

3

امیر قافله ئی سخت کوش و پیهم کوش

که در قبیلهٔ ما حیدری ز کراری است

قافلے کے سالار کی حیثیت سے قافلے والوں کی رہنمائی تیرا فریضہ ہے اس لیے سخت محنت کر اور لگاتار کر ۔ کیونکہ ہمارے قبیلے میں حیدری و کراری جوش و جذبہ موجود ہے ۔

Thou’rt the Leader of the train; then labour fiercely still; in our tribe, he rule doth gain who hath a warrior’s will.

4

تو چشم بستی و گفتی که این جهان خوٍابست

گشای چشم که این خواب خواب بیداری است

تو نے یہ سوچ کر آنکھ بند کر لی کہ یہ دنیا تو اک خواب کی مانند ہے ۔ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھ کہ یہ خواب بیداری کا خواب ہے (ترکِ دنیا کے بجائے دنیا میں رہ کر اپنی کوشش میں مصروف رہنا چاہیے) ۔

Thou hast closed thine eyes, and said, ‘The world’s a dream, no less’: Ope thine eyes; this dream-abed is all of wakefulness.

5

بخلوت انجمنی آفرین که فطرت عشق

یکی شناس و تماشا پسند بسیاری است

خلوت (تنہائی) میں رہنے کے باوجود اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کر کہ تو تنہا ہو کر بھی ایک انجمن کہلائے کیونکہ عشق کی فطرت ایک (وحدتِ الہٰی) کو پہچاننے والی اور زیادہ کا نظارہ کرنے والی ہے (کثرت کے پردے میں وحدت میں گم رہتی ہے) ۔

In thy solitude, alone, create a company: Love, that’s made to know the One, the many loves to see.

6

تپید یک دم و کردند زیب فتراکش

خوشا نصیب غزالی که زخم او کاری است

وہ (شکار) ایک لمحے کے لیے تڑپا اور شکاری نے اسے فتراک میں باندھ دیا ۔ وہ ہرن بڑا خوش قسمت ہے جسے شکاری نے کاری زخم لگایا (محبوب کے تیرِ نگاہ کا زخمی عمر بھر محبت کے زخم کی لذت اٹھاتا رہتا ہے ۔ )

But an instant quivered be ere to the saddle bound – fortunate gazelle, to he so singled out to wound!

7

بباغ و راغ گهر های نغمه می پاشم

گران متاع و چه ارزان ز کند بازاری است

میں (شاعر) باغوں اور سبزہ زاروں میں اپنی شاعری کے موتی بکھیر رہا ہوں ، شاید کوئی انہیں اٹھا کر اپنے کام میں لے آئے ۔ لیکن کسی کو ان کی قدر وقیمت کا اندازہ ہی نہیں ۔ متاع اگرچہ گراں قدر ہے لیکن افسوس کہ بازار مندا ہونے کے سبب کتنی بے قدری ہے ۔

In the garden and the mead I sow my jeweled air; precious goods, yet cheap indeed when there are none to hear.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

با نشئه درویشی در ساز و دمادم زن

چون پخته شوی خود را بر سلطنت جم زن

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 14

اگلی نظم

فرشته گرچه برون از طلسم افلاک است

نگاه او بتماشای این کف خاک است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 16

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

عمارتی که نگردد خراب، همواری است

گلی که رنگ شکستن ندیده هشیاری است

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1764

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور