با نشئه درویشی در ساز و دمادم زن
چون پخته شوی خود را بر سلطنت جم زن
(بڑی قوتوں سے ٹکرانے کے لیے) تو درویشی کا نشہ (شراب) برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر اور پھر اس نشہ کو مسلسل پینا شروع کر دے ۔ جب یہ نشہ تجھ میں جراَت و ہمت پیدا کر دے تو پھر ایران کے بادشاہ جمشید کی سلطنت سے ٹکر لے (یہ فقیری نشہ کر کے تو وقت کے جابر حکمرانوں سے ٹکرانے کی ہمت حاصل کرے گا) ۔
Like the dervish drunken be quaff the winecup instantly, and, when thou art bolder grown, hurl thyself on Jamshid’s throne.
گفتند جهان ما آیا بتو می سازد
گفتم که نمی سازد گفتند که برهم زن
(قضا و قدر) کے کارکنوں نے مجھ سے کہا کہ کیا ہمارا جہان تمہاری مرضی کے مطابق ہے ۔ میں نے کہا کہ نہیں ایساتو نہیں ، وہ کہنے لگے کہ پھر ان کو الٹ دے ۔
‘This our world’, they asked of me, ‘is’t congenial to thee?’ ‘Nay’, I answered; and they cried, ‘break and strew it far and wide!’
در میکده ها دیدم شایسته حریفی نیست
با رستم دستان زن با مغبچه ها کم زن
میں نے میکدے میں دیکھا کہ کوئی شائستہ میکش ساتھی نہیں ۔ تو دستاں کے بیٹے رستم کی صحبت اختیار کر اور اس کی صحبت میں بیٹھ کر پی اور ذلیل لوگوں کی صحبت اختیار نہ کر ۔
In the taverns I saw none meet to be companion; get thee less with tavern-boys smite with Rustam and rejoice!
ای لاله صحرائی تنها نتوانی سوخت
این داغ جگر تابی بر سینه آدم زن
اے صحرا کی تنہائی میں کھلنے والے لالے کے پھول، ہجر اور تنہائی کے عذاب میں جلا نہیں جا سکتا ۔ جگر کو حرارت دینے والے اس داغ کو آدم کے سینے میں ودیعت کر ۔ یہ سوز عشق دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کر ۔
Tulip in the desert bright, burn thou not in lonely light; let thy heart consuming glow blaze in Adam’s bosom, too.
تو سوز درون او ، تو گرمی خون او
باور نکنی چاکی در پیکر عالم زن
(اے آدم خاکی) تو اس کا اندرونی سوز اور خون کی گرمی ہے (خالق کائنات نے تجھے ہی خون کی گرمی اور سینے کا سوز عطا کیا ہے) کیا تجھے یقین نہیں اگر نہیں تو پھر جہاں کے پیکر میں دراڑ ڈال ( تجھے معلوم ہو جائے گا کہ ہر شے خون کی گرمی او ر سوز عشق سے محروم ہے) ۔
Thou’rt His fiery inward mood, thou the fever of His blood; dost thou not believe? Go; rend this world’s body, end to end.
عقل است چراغ تو در راهگذاری نه
عشق است ایاغ تو با بندهٔ محرم زن
کیا عقل تیرا چراغ ہے اسے کسی راستہ میں رکھ دے(تاکہ ہر کوئی اس سے راستہ تلاش کرے) ۔ کیا عشق تیرا پیالہ ہے اگر ہے تو اسے کسی محرم راز کے ساتھ مل کر پی (عقل عام لوگوں کے لیے ہے اور عشق مخصوص لوگوں کے لیے ) ۔
Is the Mind thy lamp? To-day, set it out upon the war; if thy beaker Love? Drink wine with some trusty mate of thine.
لخت دل پر خونی از دیده فرو ریزم
لعلی ز بدخشانم بردار و بخاتم زن
میں آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت اپنے دل پر خون کے ٹکڑے گرا رہا ہوں، کہ میرے بدخشاں کے یہ لعل اٹھا لے اور انگوٹھی میں جڑ لے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Ah, my heart is all aglow, from mine eves the blood streams flow; see, my ruby offering; take, and wear this in thy ring.
زمین
ای یار مقامردل پیش آ و دمی کم زن
زخمی که زنی بر ما مردانه و محکم زن
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 1875
ای یار مقامر دل پیش آی و دمی کم زن
زخمی که زنی بر ما مردانه و محکم زن
سناییدیوان اشعارقصایدقصیدهٔ شمارهٔ 147
مردانه قماری کن دستی به دو عالم زن
خصلی که نهی پر نه نقشی که زنی کم زن
نظیری نیشابوریدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 477
فارسی متن کا ماخذ: گنجور