شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعولن فعولن فعولن فعولن (متقارب مثمن سالم)
قافیہ: هی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
ز سلطان کنم آرزوی نگاهی
مسلمانم از گل نسازم الهی
میں تو (صرف حقیقی مالک) سلطا ن سے نگاہِ کرم کی امید رکھتا ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچا مسلمان ہوں اور مسلمان کبھی مٹی کے معبود نہیں بناتا(مٹی کے معبودوں کی پوجا نہیں کرتا) ۔
Of the Sultan I would take one gaze, if so I may; Muslim I; I do not make a god of clay.
دل بی نیازی که در سینه دارم
گدا را دهد شیوهٔ پادشاهی
وہ (دنیا سے) بے نیاز دل جو میں اپنے سینے میں رکھتا ہوں ۔ گدا (فقیر ) کو بادشاہی کے طریقے سکھا دیتا ہے ۔
See, the independent heart that in my breast I bear to the beggar doth impart a regal air.
ز گردون فتد آنچه بر لالهٔ من
فرو ریزم او را به برگ گیاهی
آسمان سے جو کچھ بھی میرے لالہ یعنی دل میں نازل ہوتا ہے (جو افکار و خیالات نازل ہوتے ہیں ) انہیں گھاس کی پتیوں پر گرا دیتا ہوں ۔ (اشعار کی شکل میں عام لوگوں تک پہنچا دیتا ہوں ) ۔
What doth on the tulip fall out of the starry sky, o’er the verdant herbage all now scatter I.
چو پروین فرو ناید اندیشهٔ من
به دریوزهٔ پرتو مهر و ماهی
میری (پروازِ فکر) پروین (ستاروں کے جھرمٹ) سے نیچے نہیں آتی ۔ میں چاند اور سورج کی روشنی کی بھیک طلب نہیں کرتا ( میں دنیا کے جا ہ و جلال سے بے نیاز ہوں ) ۔
Ranging through the Infinite my thought begs never boon, as the Pleiades crave light from sun and moon.
اگر آفتابی سوی من خرامد
به شوخی بگردانم او را ز راهی
اگر سورج اپنی روشنی کی بھیک دینے کے لیے میری طرف آتا ہے تو میں شوخی سے (بے نیازی سے) راستہ ہی میں روک کر اسے واپس کر دیتا ہوں ۔
But if any wandering sun toward my path should stray, with a smile I make it run far from the way.
به آن آب و تابی که فطرت ببخشد
درخشم چو برقی به ابر سیاهی
میں فطرت کی عطا کی ہوئی آب و تاب سے سیاہ بادلوں پر بجلی کی طرح چمکتا ہوں (میرے افکار و خیالات بجلی کی طرح لوگوں کے اذہان منور کر دیتے ہیں ) ۔
With the lustre and the flame that Nature hath endowed like a lightning-flash I gleam in a dark cloud.
ره و رسم فرمانروایان شناسم
خران بر سر بام و یوسف به چاهی
میں حکمرانوں کی راہ و رسم (طور طریقے) اچھی طرح سمجھتا ہوں (ان کی غلط بخشیوں اور فکر کج انداز ) کے باعث گدھے (بے حیثیت لوگ )اعلیٰ مقام پر ہیں اور یوسف (بلند فکر) لوگ ذلیل ہو رہے ہیں ۔
Well I know the wont and way of them that rule, aloof Joseph’s in the well, and they asses on roof!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور