شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
قافیہ: ازایدبرون
صنف: غزل/قصیده/قطعه
خضر وقت از خلوت دشت حجاز آید برون
کاروان زین وادی دور و دراز آید برون
سر زمینِ حجاز کے صحرا سے زمانے کا خضر ظہور کر رہا ہے اس دور دراز وادی سے کوئی قافلہ سفر پر روانہ ہو رہا ہے (احیائے اسلام کی کوئی تحریک پیدا ہونے والی ہے) ۔
Out of Hijaz and the lonely plain the Guide of the Time is come, back from the far, far vale again the Caravan hastens home.
من به سیمای غلامان فر سلطان دیده ام
شعلهٔ محمود از خاک ایاز آید برون
میں نے غلاموں کی پیشانیوں میں بادشاہوں جیسی شان و شوکت دیکھی ہے ۔ ایاز (سلطان محمود کا غلام) کی خاک سے سلطان محمود کی شاہانہ کر و فر کا شعلہ بلند ہو ر ہا ہے(دنیا میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں اور غلاموں کی آزادی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ) ۔
Lo, on the brow of the slaves I see the Sultan’s splendour bright, the dust of Ayaz shines radiantly with Mahmud’s torch alight.
عمر ها در کعبه و بتخانه می نالد حیات
تا ز بزم عشق یک دانای راز آید برون
زندگی طویل عرصے تک کعبہ اور بت خانہ میں گریہ زاری کرتی رہی ہے ۔ تب کہیں جا کر بزمِ عشق سے ایک دانائے راز پیدا ہوتا ہے (قوموں میں شعورِ آزادی بیدار کرنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں ) ۔
In Ka‘bah and Temple long, long years the deep lament arose, till from Love’s banquet now appearsء one Man who the Secret knows.
طرح نو می افکند اندر ضمیر کائنات
ناله ها کز سینهٔ اهل نیاز آید برون
(یہ دانائے راز لوگ ) کائنات کے ضمیر میں ایک نئی بنیاد ڈالتے ہیں ۔ اہلِ دنیا (اللہ کے برگزیدہ بندوں ) کے سینوں سے نکلنے والے نالہ و شیون سے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔
The sighs that out of the bosom break of a people at earnest prayer a brave and new foundation make in Life’s mind everywhere.
چنگ را گیرید از دستم که کار از دست رفت
نغمه ام خون گشت و از رگهای ساز آید برون
رباب میرے ہاتھ سے پکڑ لو ۔ کہ میرا کام میرے ہاتھ سے جا رہا ہے ۔ میرا نغمہ خون بن کر ساز کی رگوں سے باہر نکل رہا ہے ۔ میں نے اپنی شاعری کے ذریعے پیغامِ عشق پہنچانے کی ہر ممکن سعی کی ہے ۔ حتیٰ کہ اپنا خونِ جگر بھی اشعار میں شامل کر دیا ہے ۔ اس سے زیادہ اب میں اور کیا کر سکتا تھا ۔
O take the trembling lute from me, for my hand can play no more; in streams of blood my melody from the heart of the harp doth pour.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور