شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: انکش
صنف: غزل/قصیده/قطعه
چو موج مست خودی باش و سر بطوفان کش
ترا که گفت که بنشین و پا بدامان کش
(دریا کی ) موج کی طرح خودی میں مست ہو کر طوفان سے ٹکرانے کی ہمت پیدا کر ۔ تجھے کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ خاموشی سے بیٹھ جا اور دامن میں پاؤں سمیٹ لے (با عمل زندگی بسر کرنا شروع کر دے) ۔
Drunk with self hood like a wave plunge into the stormy lave; who commanded thee to sit with thy skirts about thy feet?
بقصد صید پلنگ از چمن سرا برخیز
بکوه رخت گشا خیمه در بیابان کش
اگر شیر کا ارادہ ہے تو چمن جیسی آرام دہ جگہ چھوڑ کر پہاڑوں میں جا کر اپنا ساز و سامان کھول یعنی پہاڑوں میں قیام کر اور جنگل میں خیمہ نصب کر (آرام کے بجائے ہمت سے کام لے اور اپنی زندگی میں درپیش مسائل کا حل تلاش کر ۔
Let the tiger be thy prey; leave the mead and flowers gay, out toward the mountain press, tent thee in the wilderness.
به مهر و ماه کمند گلو فشار انداز
ستاره ر از فلک گیر و در گریبان کش
سورج اور چاند پر ان کا گلا دبانے والی کمند پھینک (ایسی تدبیر کر کہ وہ تیرے تابع ہو جائیں ) ستارے کو آسمان کی بلندیوں سے لے کر اپنے گریبان میں ڈال دے ۔
Cast thy strangling rope on high, circle sun and moon in sky, seize a star from heaven’s sphere, stitch it on thy sleeve to wear.
گرفتم اینکه شراب خودی بسی تلخ است
بدرد خویش نگر زهر ما بدرمان کش
میں یہ بات مانتا ہوں کہ خودی کی شراب بڑی تلخ ہوتی ہے ۔ لیکن تو اپنے درد کو دیکھ میرا زہر اپنے علاج کے لیے استعمال کر ۔ تیرے ہر درد کا علاج خودی کی شراب پینے میں ہے ۔
Selfhood’s wine, as I have guessed, tart and bitter is to taste, yet regard thy pain within – drain our desperate medicine.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور