شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: اننیزکنند
صنف: غزل/قصیده/قطعه
تکیه بر حجت و اعجاز و بیان نیز کنند
کار حق گاه به شمشیر و سنان نیز کنند
(حق پھیلانے اور اس کی مدافعت کے لیے) کبھی کبھی دلیل اور اعجاز بیان پر بھی بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی حق کا قیام تلوار اور نیزے کی طاقت سے بھی لیا جاتا ہے ۔
Faith depends on arguments and on magic eloquence; yet anon men serve the Lord with the lance and fearless sword.
گاه باشد که ته خرقه زره می پوشند
عاشقان بندهٔ حال اندو چنان نیز کنند
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ خرقہ پوشوں کو تلوار اٹھانا پڑتی ہے اور حق کی راہ میں جان لٹانا پڑتی ہے ۔ اللہ کے عاشقوں کا حال بھی یہی ہے ۔ ضرورت پڑنے پر وہ بھی خانقاہوں سے نکل کر خدا کے دین کے لیے جان قربان کر دیتے ہیں ۔
Oft the dervish robes conceal underneath a coat of steel; lovers, slaves to passion’s mood, with such armour are endued.
چون جهان کهنه شود پاک بسوزند او را
و ز همان آب و گل ایجاد جهان نیز کنند
جب جہان پرانا ہو جاتا ہے (خرابیوں سے بھر جاتا ہے) تو عاشقانِ الہٰی اسے پوری طرح جلا دیتے ہیں اور پھر وہ اسی پانی اور مٹی سے ایک نیا جہان تعمیر کر لیتے ہیں ۔
When the world too old is grown, it is burst and overthrown, then its water and its clay men for new foundation lay.
همه سرمایهٔ خود را به نگاهی بدهند
این چه قومی است که سودا بزیان نیز کنند
(یہ عاشقان الہٰی ) اپنا سارا سرمایہ ایک نگاہ کے بدلے میں دے دیتے ہیں ۔ یہ کیسی قوم ہے کہ گھاٹے کا سودا بھی کر لیتی ہے ۔ (مرد مومن اللہ کی راہ میں اس کی نظر کے ایک اشارے پر اپنا تن من دھن نثا رکر دیتے ہیں ) ۔
Stored and cherished capital, for one glance they yield it all: What a people these, who take profit of the loss they make!
آنچه از موج هوا با پرکاهی کردند
عجبی نیست که با کوه گران نیز کنند
وہ جو انھوں نے (اللہ کے بندوں نے) ہوا کی موج سے ایک تنکے (بے بس انسان) کے ساتھ حسنِ سلوک کیا ۔ اس میں تعجب کی بات نہیں اگر وہ بھاری پہاڑوں (سرکش اور طاقتور لوگوں ) کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ رکھتے ہیں ۔ کیونکہ معاشرے کے دونوں طبقات ان کی نگاہِ مہربان سے فیض یاب ہوتے ہیں ۔
What upon a blade of grass Ether-borne they bring to pass, ‘tis not strange that they can prove, ponderous mountain chains to move.
عشق مانند متاعی است به بازار حیات
گاه ارزان بفروشند و گران نیز کنند
زندگی کے بازار میں عشق ایک دولت کی طرح ہے ۔ اسے (اہل دل) کبھی سستی فروخت کرتے ہیں اور کبھی اس کے دام بڑھ جاتے ہیں (کبھی یہ دولت بغیر کوشش کے حاصل ہو جاتی ہے اور کبھی سرکٹانے سے بھی نہیں ملتی) ۔
Love is as a merchandise; in Life’s marketplace it lies, now at little price is sold, and anon for mighty gold.
تا تو بیدار شوی ناله کشیدم ورنه
عشق کاری است که بی آه و فغان نیز کنند
اے مسلمان! تجھے بیدار کرنے کے لیے میں نے آہ و زاری کی ہے ۔ وگرنہ عشق تو بغیر آہ و زاری کے بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اسی لیے اس نے (شاعر نے) شاعری اپنائی ہے ۔
I have sung lamentingly out of sleep to waken thee, else is Love a labour done sighlessly, without a groan.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور