صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 9

غزل شمارهٔ 9

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: نگاستهنوز

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

لاله این چمن آلودهٔ رنگ است هنوز

سپر از دست مینداز که جنگ است هنوز

اس چمن کے لالہ کا پھول (مسلمان) ابھی زنگ آلودہ ہے ۔ (ابھی مسلمان دنیا کی آلائشوں میں پھنسا ہوا ہے) اس لیے اپنے ہاتھ سے ابھی ڈھال مت رکھ کہ جنگ ابھی جاری ہے (اہل ایمان کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی) ۔

The tulip of this meadowland is yet all flecked with hue; cast not the shield out of thy hand, for battle flares anew.

2

فتنه ئی را که دو صد فتنه به آغوشش بود

دختری هست که در مهد فرنگ است هنوز

(لادینیت) ایک ایسا فتنہ ہے جس کی آغوش میں د و فتنے پرورش پاتے ہیں ۔ یہ فتنہ ایک ایسی بچی کی مانند ہے جو ابھی یورپ کے پنگھوڑے میں ہے ۔ جب یہ جوان ہو گی تو سینکڑوں فتنے اٹھ کھڑے ہونگے (یہاں روس میں ابھرنے والی تحریک اشتراکیت کی طرف اشارہ ہے) ۔

A tumult, in whose swelling breast two hundred tumults wait that maiden is who dwells caressed in Europe’s cradle yet.

3

ای که آسوده نشینی لب ساحل بر خیز

که ترا کار بگرداب و نهنگ است هنوز

اے مسلم تو ساحل کے کنارے آرام سے بیٹھا ہوا ہے ۔ یہ آرام کا موقع نہیں کیونکہ بھنور اور مگرمچھوں سے مقابلے کا مرحلہ ابھی باقی ہے ۔

O thou who sittest at thy ease beside the shore, arise! The whirlpool roars across the seas, the shark in menace lies.

4

از سر تیشه گذشتن ز خردمندی نیست

ای بسا لعل که اندر دل سنگ است هنوز

تیشہ (اپنی صلاحیتوں ) کو کام میں نہ لانا عقل مندی نہیں (اسے تیشے سے) پتھروں کے دل میں سے تو لعل نکال سکتا ہے ۔ بے عملی اچھی چیز نہیں ۔

No part of wisdom ’tis, I trow, the trusty axe to shun; within the rock’s heart, even now, are rubies to be won.

5

باش تا پرده گشایم ز مقام دگری

چه دهم شرح نواها که بچنگ است هنوز

ٹھہر! تا کہ میں ایک اور مقام سے پردہ اٹھاؤں ۔ میں ان فریادوں کی تشریح کیسے بیان کروں جو ابھی تک رباب کے تاروں سے پوشیدہ ہیں (مستقبل کے حالات) ۔

Await! And I will raise the veil, that other songs may thrill; what should I of such music tell the lute concealeth still?

6

نقش پرداز جهان چون بجنونم نگریست

گفت ویرانه بسودای تو تنگ است هنوز

جب دنیا کے تخلیق کار نے میرے جنون کو دیکھا تو اس نے کہا، یہ ویرانہ تیرے اس جنون کے لیے ابھی بہت تنگ ہے ۔

When the world’s wondrous Artist viewed the madness in my brain, he cried, ‘Too mighty swells thy mood, this ruin to contain!’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

غلام زنده دلانم که عاشق سره اند

نه خانقاه نشینان که دل بکس ندهند

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 8

اگلی نظم

تکیه بر حجت و اعجاز و بیان نیز کنند

کار حق گاه به شمشیر و سنان نیز کنند

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 10

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور