غلام زنده دلانم که عاشق سره اند
نه خانقاه نشینان که دل بکس ندهند
میں ان زندہ دل لوگوں کا غلام ہوں جو سچے عاشق ہیں ۔ ان خانقاہ نشینوں نام نہاد دنیا دار صوفیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں جو کسی کو دل نہیں دیتے ۔
I am the slave of each living heart whose love is pure, refined; not cloistered monks who dwell apart, their hearts to none resigned.
به آن دلی که برنگ آشنا و بیرنگ است
عیار مسجد و میخانه و صنم کده اند
(یہ زندہ دل لوگ) ایسا دل رکھتے ہیں جو دنیا کی رنگینیوں سے آشنا تو ہیں لیکن ان سے قطعی بیگانہ ہیں ۔ وہ مسجد ، میخانہ اور صنم کدہ سب طبقوں کے لیے ایک ہی نظر رکھتے ہیں ۔
With such a heart as knows the hue, yet from all hue is free; in mosque, and inn, and temple, too, the touchstone sure they be.
نگاه از مه و پروین بلند تر دارند
که آشیان بگریبان کهکشان ننهند
ان زندہ دل لوگوں کی نظر چاند اور پروین ستارے سے بھی بلند ہے کیونکہ وہ کہکشاں کی وسعتوں سے بھی آشیانہ نہیں بناتے ۔ ان کا مقصدِ حیات تو اس سے بھی پرے ہے ۔
Beyond the moon and Pleiades their gaze is lifted high; the Milky Way contents not these for them to nest thereby.
برون ز انجمنی در میان انجمنی
بخلوت اند ولی آنچنان که با همه اند
وہ بزم میں ہوتے ہوئے بھی بزم کی رنگینیوں سے الگ ہوتے ہیں (دنیا میں رہ کر اس کی آلائشوں سے پاک ہوتے ہیں ) وہ تنہائی پسند ہوتے ہیں لیکن ہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں ۔
Within the multitude are they, yet out of it withal; in spirit’s solitude they stay, while dwelling amid all.
بچشم کم منگر عاشقان صادق را
که این شکسته بهایان متاع قافله اند
سچے عاشقوں کو حقارت کی نظروں سے مت دیکھو ۔ کیونکہ خستہ حال اور مفلس یہ لوگ ہی تو کاروان حیات کی دولت ہوتے ہیں ۔
Regard not meanly, nor despise the truly loving man; though little worth, ‘tis merchandise fit for Life’s caravan.
به بندگان خط آزادگی رقم کردند
چنانکه شیخ و برهمن شبان بی رمه اند
وہ (زندہ دل لوگ) بندگانِ خدا کے نام آزادی کا خط تحریر کرتے ہیں (انہیں بتاتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی غلامی اختیار نہ کرو) اور انہیں یہ سمجھاتے ہیں کہ شیخ و برہمن دو ایسے گڈریے ہیں جن کا کوئی ریوڑ نہیں (ان کی پیروی کرنے کے بجائے اللہ اور اس کے پیغمبروں کی پیرو کرو) ۔
The charter of their liberty is writ for slaves to keep; and now the Sheikh and Brahman be shepherds without their sheep.
پیاله گیر که می را حلال می گویند
حدیث اگرچه غریب است راویان ثقه اند
اس لیے پیالہ تھام لے کیونکہ شراب کو حلال کہتے ہیں ۔ بات اگرچہ عجیب سی ہے لیکن اسے بیان کرنے والے انتہائی معتبر لوگ ہیں (یہ معرفتِ الہٰی کی شراب ہے ۔
Take thou the goblet in thy hold; wine lawful is, they tell although the tale be strange, ‘tis told by speakers credibl.
زمین
جوان و پیر که در بند مال و فرزندند
نه عاقلند که طفلان ناخردمند
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 950
به بوستان ولایت کهن درخت بلند
که عمرها به سر اهل فقر سایه فکند
جامیدیوان اشعارقصایدشمارهٔ 16 - فی تاریخ وفاتة قدس سره
جز آن که مستی عشقست هیچ مستی نیست
همین بلات بس است، ای به هر بلا خرسند
رودکیقصاید و قطعاتشمارهٔ 38
بگو به گوش کسانی که نور چشم منند
که باز نوبت آن شد که توبهها شکنند
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 913
فراغتی دهدم عشق تو ز خویشاوند
از آنک عشق تو بنیاد عافیت برکند
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 937
حریف عمر به سر برده در فسق و فجور
به وقت مرگ پشیمان همی خورد سوگند
سعدیخبیثات و مجالس الهزلخبیثاتشمارهٔ 21
نیافرید خدایت به خلق حاجتمند
به شکر نعمت حق در به روی خلق مبند
سعدیمواعظمفرداتشمارهٔ 24
حریف عمر به سر برده در فسوق و فجور
به وقت مرگ پشیمان همی خورد سوگند
سعدیمواعظقطعاتشمارهٔ 77
در آن مقام که شاهی به هر گدا بخشند
چه دولتی است که مارا همان به ما بخشند
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 3921
مرا همیشه دل از وصل یار می شکند
سبوی من به لب جویبار می شکند
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 3947
فارسی متن کا ماخذ: گنجور