صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 8

غزل شمارهٔ 8

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 11

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

غلام زنده دلانم که عاشق سره اند

نه خانقاه نشینان که دل بکس ندهند

میں ان زندہ دل لوگوں کا غلام ہوں جو سچے عاشق ہیں ۔ ان خانقاہ نشینوں نام نہاد دنیا دار صوفیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں جو کسی کو دل نہیں دیتے ۔

I am the slave of each living heart whose love is pure, refined; not cloistered monks who dwell apart, their hearts to none resigned.

2

به آن دلی که برنگ آشنا و بیرنگ است

عیار مسجد و میخانه و صنم کده اند

(یہ زندہ دل لوگ) ایسا دل رکھتے ہیں جو دنیا کی رنگینیوں سے آشنا تو ہیں لیکن ان سے قطعی بیگانہ ہیں ۔ وہ مسجد ، میخانہ اور صنم کدہ سب طبقوں کے لیے ایک ہی نظر رکھتے ہیں ۔

With such a heart as knows the hue, yet from all hue is free; in mosque, and inn, and temple, too, the touchstone sure they be.

3

نگاه از مه و پروین بلند تر دارند

که آشیان بگریبان کهکشان ننهند

ان زندہ دل لوگوں کی نظر چاند اور پروین ستارے سے بھی بلند ہے کیونکہ وہ کہکشاں کی وسعتوں سے بھی آشیانہ نہیں بناتے ۔ ان کا مقصدِ حیات تو اس سے بھی پرے ہے ۔

Beyond the moon and Pleiades their gaze is lifted high; the Milky Way contents not these for them to nest thereby.

4

برون ز انجمنی در میان انجمنی

بخلوت اند ولی آنچنان که با همه اند

وہ بزم میں ہوتے ہوئے بھی بزم کی رنگینیوں سے الگ ہوتے ہیں (دنیا میں رہ کر اس کی آلائشوں سے پاک ہوتے ہیں ) وہ تنہائی پسند ہوتے ہیں لیکن ہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں ۔

Within the multitude are they, yet out of it withal; in spirit’s solitude they stay, while dwelling amid all.

5

بچشم کم منگر عاشقان صادق را

که این شکسته بهایان متاع قافله اند

سچے عاشقوں کو حقارت کی نظروں سے مت دیکھو ۔ کیونکہ خستہ حال اور مفلس یہ لوگ ہی تو کاروان حیات کی دولت ہوتے ہیں ۔

Regard not meanly, nor despise the truly loving man; though little worth, ‘tis merchandise fit for Life’s caravan.

6

به بندگان خط آزادگی رقم کردند

چنانکه شیخ و برهمن شبان بی رمه اند

وہ (زندہ دل لوگ) بندگانِ خدا کے نام آزادی کا خط تحریر کرتے ہیں (انہیں بتاتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی غلامی اختیار نہ کرو) اور انہیں یہ سمجھاتے ہیں کہ شیخ و برہمن دو ایسے گڈریے ہیں جن کا کوئی ریوڑ نہیں (ان کی پیروی کرنے کے بجائے اللہ اور اس کے پیغمبروں کی پیرو کرو) ۔

The charter of their liberty is writ for slaves to keep; and now the Sheikh and Brahman be shepherds without their sheep.

7

پیاله گیر که می را حلال می گویند

حدیث اگرچه غریب است راویان ثقه اند

اس لیے پیالہ تھام لے کیونکہ شراب کو حلال کہتے ہیں ۔ بات اگرچہ عجیب سی ہے لیکن اسے بیان کرنے والے انتہائی معتبر لوگ ہیں (یہ معرفتِ الہٰی کی شراب ہے ۔

Take thou the goblet in thy hold; wine lawful is, they tell although the tale be strange, ‘tis told by speakers credibl.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خرد از ذوق نگه گرم تماشا بود است

این که جوینده و یابندهٔ هر موجود است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 7

اگلی نظم

لاله این چمن آلودهٔ رنگ است هنوز

سپر از دست مینداز که جنگ است هنوز

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 9

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

جوان و پیر که در بند مال و فرزندند

نه عاقلند که طفلان ناخردمند

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 950

به بوستان ولایت کهن درخت بلند

که عمرها به سر اهل فقر سایه فکند

جامی»دیوان اشعار»قصاید»شمارهٔ 16 - فی تاریخ وفاتة قدس سره

جز آن که مستی عشقست هیچ مستی نیست

همین بلات بس است، ای به هر بلا خرسند

رودکی»قصاید و قطعات»شمارهٔ 38

بگو به گوش کسانی که نور چشم منند

که باز نوبت آن شد که توبه‌ها شکنند

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 913

فراغتی دهدم عشق تو ز خویشاوند

از آنک عشق تو بنیاد عافیت برکند

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 937

حریف عمر به سر برده در فسق و فجور

به وقت مرگ پشیمان همی خورد سوگند

سعدی»خبیثات و مجالس الهزل»خبیثات»شمارهٔ 21

نیافرید خدایت به خلق حاجتمند

به شکر نعمت حق در به روی خلق مبند

سعدی»مواعظ»مفردات»شمارهٔ 24

حریف عمر به سر برده در فسوق و فجور

به وقت مرگ پشیمان همی خورد سوگند

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 77

در آن مقام که شاهی به هر گدا بخشند

چه دولتی است که مارا همان به ما بخشند

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3921

مرا همیشه دل از وصل یار می شکند

سبوی من به لب جویبار می شکند

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3947

مزید تلاش کریں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور