صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 7

غزل شمارهٔ 7

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: وداست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

خرد از ذوق نگه گرم تماشا بود است

این که جوینده و یابندهٔ هر موجود است

عقل اگر کائنات کی حقیقتوں کی تلاش میں سرگرم عمل ہے تو یہ سب سرگرمی اس میں ذوقِ نظر کی وجہ سے ہے ۔ عقل کائنات میں موجود ہر شے کی متلاشی ہے اور حاصل کرنے کی جستجو میں رہتی ہے (ذوق نظر عشق ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے) ۔

2

جلوهٔ پاک طلب از مه و خورشید گذر

زانکه هر جلوه درین دیر نگه آلود است

اے انسان! چاند اور سورج کے جلووَں کو چھوڑ کر خدا کے جلووَں کی طلب شروع کر دے کیونکہ اس دیر میں (جلوہَ خدا) کے علاوہ ہر جلوہ مادیت سے آلود ہے اور جلوہَ خدا صرف باطنی آنکھ سے ہی دیکھا جا سکتا ہے ۔

Mind, that is ever questing, and finding, without resting, fired by the joy of viewing was vision still pursuing. Seek thou pure revelation past sun and moon’s low station, for all things here reported by vision are distorted. \[Translated by Arthur J Arberry\]

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دگر ز ساده دلیهای یار نتوان گفت

نشسته بر سر بالین من ز درمان گفت

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 6

اگلی نظم

غلام زنده دلانم که عاشق سره اند

نه خانقاه نشینان که دل بکس ندهند

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 8

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور