صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 6

غزل شمارهٔ 6

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: انگفت

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

دگر ز ساده دلیهای یار نتوان گفت

نشسته بر سر بالین من ز درمان گفت

میں اپنے محبوب کی سادہ دلی سے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر یہ کہتا ہے کہ (میرے غمِ عشق ) کا کوئی علاج نہیں ۔

Of the Friend’s ingenuous wit I can relate no more: By my pillow He did sit, and spoke upon the cure!

2

زبان اگرچه دلیر است و مدعا شیرین

سخن ز عشق چه گویم جز اینکه نتوان گفت

میری زبان اس قدر قوتِ گویائی رکھتی ہے کہ جو مدعا بیان کرنا چاہتی ہے وہ بہت شیریں ہے ۔ میں اس شیریں مقصد کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ عشق کی بات لفظوں میں نہیں بیان کی جا سکتی ۔

Though the tongue is bold enough, the argument right fair, what can I declare of Love, save that none can declare?

3

خوشا کسی که فرو رفت در ضمیر وجود

سخن مثال گهر بر کشید و آسان گفت

اس شخص کی اچھائی کا کیا کہنا، جو وجود کے دل میں اتر کر اس (دل کے سمندر) کہ تہہ سے موتی کی طرح بات نکالی اور بیان کر دی (دل کے سمندر سے حقائق و معارف کے موتی نکال نکال لانے والے خوش نصیب ہوتے ہیں ) ۔

Happy he, who dared to reach deep into Being’s brain and drew forth like jewels speech, and fluent spoke again.

4

خراب لذت آنم که چون شناخت مرا

عتاب زیر لبی کرد و خانه ویران گفت

میں اس شخص کے ذوقِ شناسائی کا دلدادہ ہوں جس نے میری شناخت کر لی اور شناخت کے بعد زیر لب مصنوعی غصے سے مجھے خانہ ویران کہا (عشق میں برباد ہونے کے عمل پر غصہ بھی کیا اور تعریف بھی کی) ۔

Desolate with joy am I that, recognizing me, in reproach He whispered, sly, ‘poor, homeless vagrant, see!’

5

غمین مشو که جهان راز خود برون ندهد

که آنچه گل نتوانست مرغ نالان گفت

(اے دل) اس بات پر اظہار افسوس نہ کر کہ یہ دنیا اپنا راز نہیں اگلتی ۔ ایسا ضرور ہوتا ہے اگر یہ راز گلاب کا پھول (نازک سوچ فلسفی) نہیں کہہ سکتا ۔ تو اسے فریاد کرنے والا پرندہ (سچا عاشق) کہہ دیتا ہے ۔

Grieve not, that this world of ours its secret still conceals; what is speechless to the flowers, the birds’ lament reveals.

6

پیام شوق که من بی حجاب می گویم

به لاله قطره شبنم رسید و پنهان گفت

عشق کا جو پیغام جو میں صاف صاف دے رہا ہوں ۔ یہ وہ راز ہے جسے کہنے کے لیے شبنم کا قطرہ گلِ لالہ پر پہنچا او اسے چپکے سے بتا دیا ۔

Passion’s message that anew I tell unfeignedly, to the tulip spoke the dew, but spoke in secrecy.

7

اگر سخن همه شوریده گفته ام چه عجب

که هر که گفت ز گیسوی او پریشان گفت

اگر میرا یہ سارا بیان بکھرا بکھرا ہے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے (جس محبوب کی میں بات کر رہا ہوں ) اس کے گیسووَں کو ہر کسی نے پریشان ہی کیا ہے ۔

If my speech is all distraught, what wonder were in this? Of His tresses who speaks aught, his tale distressful is.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زمانه قاصد طیار آن دلآرام است

چه قاصدی که وجودش تمام پیغام است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 5

اگلی نظم

خرد از ذوق نگه گرم تماشا بود است

این که جوینده و یابندهٔ هر موجود است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 7

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

شنیده ام که به گل بلبل سحرخوان گفت

که شکر نعمت صبح وصال نتوان گفت

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 121

شنیده‌ام سخنی خوش که پیرِ کنعان گفت

«فِراق یار، نه آن می‌کند که بتوان گفت»

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 88

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور