صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 5

غزل شمارهٔ 5

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اماست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

زمانه قاصد طیار آن دلآرام است

چه قاصدی که وجودش تمام پیغام است

یہ جہاں اس دل کو قرار پہنچانے والے محبوب (خالق کائنات) کا ایسا پیغام رساں ہے جو کبھی ایک جگہ ٹھہرتا نہیں ۔ ہر وقت سرگرمِ سفر رہتا ہے ۔ یہ جہاں کیسا زبردست قاصد ہے کہ جو سر تا پا پیغام ہی پیغام ہے (زمانہ ہر لمحہ نئے پیغامات لے کر آتا ہے) ۔

Time is the winged messenger of the Heart’s Desire; wondrous herald! Tidings fair is his life entire.

2

گمان مبر که نصیب تو نیست جلوهٔ دوست

درون سینه هنوز آرزوی تو خام است

(اے انسان) یہ بات کبھی نہ سوچ کہ جلوہَ دوست تیری قسمت میں نہیں ہے ۔ اس مقصد کے لیے تو آرزو کا سچا ہونا ضروری ہے (عشق کی سچی لگن تجھے دوست کے جلووں سے شناسا کر دے گی) لیکن تیرے سینے میں جو آرزو ہے وہ بھی خام ہے ۔

Think not, thou shalt never win the Beloved to view: The desire thy breast within still is raw, and new!

3

گرفتم این که چو شاهین بلند پروازی

بهوش باش که صیاد ما کهن دام است

میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ تو شاہین کی طرح بلند پرواز ہے ۔ اور تجھے شکار کرنا آسان نہیں ۔ لیکن تو عقل کے پروں سے محو پرواز ہے ۔ اس لیے تجھے عشق کا شکاری، شکار کر سکتا ہے عشق کے آگے عقل بے کار ہے ۔ اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ تو اپنی عقل کے بل بوتے پر کسی کے قابو میں نہیں آئے گا تو یہ تیری غلط فہمی ہے ۔ اب بھی وقت ہے ہوش سے کام لے کیونکہ عشق اپنا جال بچھانے والا ہے جو بڑا تجربہ کار ہے اور عقل شکاری ہے ۔

Well I know that thou dost soar hawk-like high in air; yet beware the Fowler, for ancient is his snare.

4

به اوج مشت غباری کجا رسد جبریل

بلند نامی او از بلندی بام است

جہاں تک اس مشتِ خاک کی رسائی ہے جبرئیل فرشتہ وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اس کا بلند نام اس وجہ سے ہے کہ وہ آسمان کی چھت پر رہتا ہے (ورنہ وہ اہلِ زمین سے کم تر مقام کا مالک ہے ۔ یہ بات واقعہ معراج سے بھی ثابت ہے جب جبرئیل سدرہ سے آگے نہ جا سکا تھا) ۔

How may Gabriel aspire where Man’s dust shall fly? If his present fame is higher: ‘Tis his roof that’s high!

5

تو از شمار نفس زنده ئی نمیدانی

که زندگی به شکست طلسم ایام است

اے انسان! تو سالوں کے شمار کی قید میں ہے اور اسی لیے بقا کے جوہر سے خالی ہے ۔ تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ زندگی زمانے کے جادوکو توڑنے سے بقا حاصل کرے گی ۔ جس نے زمانے کے طلسم کو توڑ دیا وہ امر ہو گیا ۔

All thy life is breath to take, knowing not, frail man, that true living is to break the days’ talisman.

6

ز علم و دانش مغرب همین قدر گویم

خوش است آه و فغان تا نگاه ناکام است

مغرب کے علم و دانش کے بارے میں میری رائے یہی ہے کہ اس کی آہ و فریاد میں لذت تو ہے لیکن وہ فکری نگاہ سے محروم ہے ۔ اس لیے اس کا حقیقت تک پہنچنا ممکن نہیں ۔

Of the science of the West this much I will speak: Sweet are sighs and tears expressed while the gaze is weak.

7

من از هلال و چلیپا دگر نیندیشم

که فتنهٔ دگری در ضمیر ایام است

مجھے ہلال (مسلمان) اور صلیب (عیسائیوں ) کی آویزش سے اس کے سوا اور کوئی خدشہ نہیں کہ ان دونوں کی چپقلش سے کہیں دنیا میں کوئی نیا فتنہ نمودار نہ ہو جائے ۔ اگر یہ دونوں قو میں آپس میں دست و گریبان رہیں گی تو دنیا میں بے و تہی یا اشتراکیت کی صورت میں نئی قوت ابھر سکتی ہے جو دونوں کے لیے نقصان دہ ہو ۔

O’er the Crescent and the Cross I am raised sublime; other tumult now doth toss in the brain of Time. \

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

اگر به بحر محبت کرانه می‌خواهی

هزار شعله دهی یک زبانه می‌خواهی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 4

اگلی نظم

دگر ز ساده دلیهای یار نتوان گفت

نشسته بر سر بالین من ز درمان گفت

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 6

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

مرا به سوی تو پیوند دوستی خام است

به آفتاب ز ذره چه جای پیغام است

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 344

فراغ بال طمع کردن از فلک خام است

که فلس ماهی این بحر حلقه دام است

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1713

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور