شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: انهمیخواهی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
اگر به بحر محبت کرانه میخواهی
هزار شعله دهی یک زبانه میخواهی
(اے انسان) اگر تو محبت کے سمندر میں رہتے ہوئے ساحل کی تمنا کر رہا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے تو ہزاروں شعلے دے کر ایک چنگاری حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
If you seek a shore in the sea of love, you ask a thousand flames to become one tongue.
مرا ز لذت پرواز آشنا کردند
تو در فضای چمن آشیانه میخواهی
مجھے تو کھلی فضاؤں میں پرواز کی لذت سے آشنا کیا گیا ہے ۔ اور تو صرف چمن کی فضاؤں میں ہی آشیانہ بنانے کی خواہش رکھتا ہے (اپنے ذوق عمل کو ترک کر کے بے عملی کی زندگی بسر کر نا چاہتا ہے) ۔
They made me acquainted with the joy of flight; you seek a nest in the garden air.
یکی به دامن مردان آشنا آویز
ز یار اگر نگه محرمانه میخواهی
تو ایک بار مردان آشنا (معرفت الہٰی سے باخبر لوگوں ) کا دامن تھام لے ۔ اگر تو واقعی اپنے محبوب کی محرمانہ نگاہ چاہتا ہے تو چاہتا ہے کہ محبوب کی نظر کرم تجھ پر ہو جائے (تو مردانِ عشق آشنا) کا دامن تھام لے ۔
Cling to the skirt of men who know, if from the Beloved you seek an intimate glance.
جنون نداری و هویی فکندهای در شهر
سبو شکستی و بزم شبانه میخواهی
تجھ میں عشق کا جنوں تو ہے ہی نہیں ۔ اور تو شہر بھر میں اس کا چرچا کرتا پھرتا ہے ۔ تو نے تو ساغرِ عشق ہی توڑ دیا ہے ۔ اور یہ خواہش کرتا ہے کہ رات کے وقت رندوں کی بزم بھی آراستہ ہو ۔
You have no madness, yet have raised a cry in the city; you have broken the jar and seek a nocturnal assembly.
تو هم به عشوهگری کوش و دلبری آموز
اگر ز ما غزل عاشقانه میخواهی
اگر تو چاہتا ہے کہ بزمِ رند آراستہ ہو تو معشوقانہ ناز و ادا سیکھنے کی کوشش کر ۔ اگر تو ہم عاشقانہ غزل کی طلب رکھتا ہے تو پھر محفل کے آداب بھی سیکھنا پڑیں گے ۔
You too strive at coquetry and learn belovedness, if from us you seek a lover’s ghazal.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور