صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 3

غزل شمارهٔ 3

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اتوانیکرد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

درون لاله گذر چون صبا توانی کرد

بیک نفس گره غنچه وا توانی کرد

لالہ کے پھولوں کے اندر نرم و لطیف ہو اکی طرح گزرا جا سکتا ہے ۔ ایک شگفتہ اور نرم سانس سے غنچہ کھلایا جا سکتا ہے ۔ (اسی طرح غم زدہ دلوں کی مسرتیں بھی تلاش کی جا سکتی ہے) ۔

Thou canst pass, like morning’s breeze, deep into the anemones, with a single breath disclose the locked secrets of the rose.

2

حیات چیست جهان را اسیر جان کردن

تو خود اسیر جهانی کجا توانی کرد

زندگی کی حقیقت کیا ہے یا جہان کو غلام بنانے کا نام ہے یا کہ دنیا کے غلام بننے کا ۔

What is Life? The world, and all, to make Spirit’s captive thrall: Since the world has prisoned thee, how shalt thou bring this to be?

3

مقدر است که مسجود مهر و مه باشی

ولی هنوز ندانی چها توانی کرد

اے انسان! تیری تقدیر یہ ہے کہ چاند اور سورج تجھے سجدہ کرتے رہیں یعنی تیرے حکم کے تابع ہوں ۔ لیکن ابھی تک تو یہ نہیں جانتا کہ تو یہ کام کیسے کر سکتا ہے ۔

‘Twas decreed, long since enow, sun and moon to thee should bow, but as yet thou knowest not how thou canst achieve, and what.

4

اگر ز میکدهٔ من پیاله ئی گیری

ز مشت خاک جهانی بپا توانی کرد

اگرتو میرے شراب خانے سے ایک پیالہ شراب بھی پی لے تو (اے انسان) تو اپنی مٹھی بھر خاک سے ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھ سکتا ہے (ایسی دنیا جو تیرے زیرِ سایہ ہو) ۔

Take thou then a flask of wine from this tavern that is mine, and of one poor clod of earth thou shalt bring a world to birth.

5

چسان به سینه چراغی فروختی اقبال

به خویش آنچه توانی به ما توانی کرد

اے اقبال! (یہ بتا کہ) تو نے اپنے سینے میں یہ چراغ (افکار تازہ) کس طرح روشن کیا ہےجس طرح تو نے اپنے سینے کو نئے افکار سے روشن کیا ہے اسی طرح تو میرے تاریک سینے کو بھی روشن کر سکتا ہے ۔

Iqbal! What bright lamp is it in thy bosom thou bast lit, that the things thyself canst do thou in us canst fashion, too?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مه و ستاره که در راه شوق هم سفرند

کرشمه سنج و ادا فهم و صاحب نظرند

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 2

اگلی نظم

اگر به بحر محبت کرانه می‌خواهی

هزار شعله دهی یک زبانه می‌خواهی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 4

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

اگر دل از غم دنیا جدا توانی کرد

نشاط و عیش به باغ بقا توانی کرد

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 959

اگر وطن به مقام رضا توانی کرد

غبار حادثه را توتیا توانی کرد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3785

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور