صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 2

غزل شمارهٔ 2

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: رند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

مه و ستاره که در راه شوق هم سفرند

کرشمه سنج و ادا فهم و صاحب نظرند

چاند اور ستارے جو راہِ شوق (عشق) میں اکھٹے محوِ سفر ہیں وہ (حسن) کی اشارہ بازیوں کو پرکھنے ، اس کی دلفریب اداؤں کو سمجھنے اور حقیقت شناس نظر رکھنے والے ہیں (چاند اور ستارے منشاے فطرت کے مطابق مصروف سفر ہیں ) ۔

Moon and star, travelling together on the road of desire, are measuring graces and understanding gestures and are possessed of insight.

2

چه جلوه هاست که دیدند در کف خاکی

قفا بجانب افلاک سوی ما نگرند

اپنی (روشنی) اور (دوسری صفات) کے باوجود انھوں نے اس خاک کے پتلے میں ایسی کونسی خوبی دیکھی ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے ان کی پیٹھ تو آسمانوں کی طرف ہے اور ان کی نظریں آدمی کی طرف ہیں (جو کہ رب کائنات کا نائب، اور کائنات کی ہر شے پر بھاری ہے) ۔

What manifestations they have seen in this handful of dust, that they turn their backs on the heavens and look toward us.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد

این مشت غباری را انجم به سجود آمد

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 1

اگلی نظم

درون لاله گذر چون صبا توانی کرد

بیک نفس گره غنچه وا توانی کرد

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 3

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

سمنبران که به لب آبدار چون گهرند

به چهره از جگر عاشقان برشته ترند

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3910

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور