شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
قافیہ: ودامد
صنف: غزل/قصیده/قطعه
بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد
این مشت غباری را انجم به سجود آمد
(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔
Rise up, for Adam’s hour of manifestation has come; the stars bow down before this handful of dust.
آن راز که پوشیده در سینهٔ هستی بود
از شوخی آب و گل در گفت و شنود آمد
وہ راز جو اس کائنات کے سینے میں پوشیدہ تھا پانی اور مٹی سے تخلیق شدہ انسان کی شوخی گفتار کی وجہ سے منظر پر آ گیا ۔ (آدم کی تخلیقی صلاحیتوں اور تسخیری قوتوں نے کائنات کا راز فاش کر دیا ۔ وہ کائنات جو پہلے ایک سربستہ راز تھی ۔ )
That secret which lay hidden in the breast of Being came into speech and hearing through the playfulness of water and clay.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور