صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 1

غزل شمارهٔ 1

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: ودامد

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد

این مشت غباری را انجم به سجود آمد

(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔

Rise up, for Adam’s hour of manifestation has come; the stars bow down before this handful of dust.

2

آن راز که پوشیده در سینهٔ هستی بود

از شوخی آب و گل در گفت و شنود آمد

وہ راز جو اس کائنات کے سینے میں پوشیدہ تھا پانی اور مٹی سے تخلیق شدہ انسان کی شوخی گفتار کی وجہ سے منظر پر آ گیا ۔ (آدم کی تخلیقی صلاحیتوں اور تسخیری قوتوں نے کائنات کا راز فاش کر دیا ۔ وہ کائنات جو پہلے ایک سربستہ راز تھی ۔ )

That secret which lay hidden in the breast of Being came into speech and hearing through the playfulness of water and clay.

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

مه و ستاره که در راه شوق هم سفرند

کرشمه سنج و ادا فهم و صاحب نظرند

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 2

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور