صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 44

غزل شمارهٔ 44

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ابیزند

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بر دل بیتاب من ساقی می نابی زند

کیمیا ساز است و اکسیری بسیمابی زند

میرے بے قرار دل پر ساقی عشق کی خالص شراب ڈالتا ہے وہ کیمیا ساز ہے ، پارے پر اکسیر ڈالتا ہے تاکہ سونے میں تبدیل ہو جائے ۔

The Saqi, pouring his pure wine upon my restless heart converts this quicksilver of mine to gold, by magic art.

2

من ندانم نور یا نار است اندر سینه ام

این قدر دانم بیاض او به مهتابی زند

میں یہ تو نہیں جانتا کہ میرے سینے میں نور ہے یا نار ۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ اس کی روشنی چاند کو شرما رہی ہے ۔

I do not know if it be light within my breast, or flame; I only know its radiance white shines with a moonlike gleam.

3

بر دل من فطرت خاموش می آرد هجوم

ساز از ذوق نوا خود را به مضرابی زند

خاموش فطرت نے مجھ پر قبضہ جما لیا ہے اور نوا کے ذوق سے ساز خود کو مضراب پر مار رہا ہے(جب دل واقعی دل بن جاتا ہے تو اسے فطرت کی نہیں بلکہ فطرت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ )

Nature, all hushed, doth suddenly my quiet heart assail; the instrument in ecstasy playeth its own sweet scale.

4

غم مخور نادان که گردون در بیابان کم آب

چشمه ها دارد که شبخونی به سیلابی زند

اے نادان غم کھانے، افسوس کرنے کی ضرورت نہیں ۔ کہ آسمان پانی کے بغیر بیابان میں ایسے پانی کے چشمے رکھتا ہے جو سیلاب پر شب خون مارتے ہیں

Grieve not, thou fool; the starry skies within this desert waste have many founts, that secret rise and to the torrent haste.

5

ایکه نوشم خورده ئی از تیزی نیشم مرنج

نیش هم باید که آدم را رگ خوابی زند

اے کہ تو نے میری شیریں غذا کھائی ہے یا میٹھا پانی پیا ہے ۔ اب میرے ڈنک کی تیزی سے پریشان نہ ہو ۔ کیونکہ آدمی کی سوئی ہوئی حمیت جگانے کے لیے بعض اوقات ڈنک مارنا چاہیے(جہاں تو نے میری شاعری کا لطف اٹھایا ہے وہاں تلخ مضامین سے پریشان مت ہو کیونکہ یہ تجھے میدان عمل میں لانے کے لیے ہیں ) ۔

O thou who didst my sweet wine take, grieve not at my sharp sting; it needs my sting, that I may wake man from his slumbering.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عشق را نازم که بودش را غم نابود نی

کفر او زنار دار حاضر و موجود نی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 43

اگلی نظم

فروغ خاکیان از نوریان افزون شود روزی

زمین از کوکب تقدیر ما گردون شود روزی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 45

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور