شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
قافیہ: ابیزند
صنف: غزل/قصیده/قطعه
بر دل بیتاب من ساقی می نابی زند
کیمیا ساز است و اکسیری بسیمابی زند
میرے بے قرار دل پر ساقی عشق کی خالص شراب ڈالتا ہے وہ کیمیا ساز ہے ، پارے پر اکسیر ڈالتا ہے تاکہ سونے میں تبدیل ہو جائے ۔
The Saqi, pouring his pure wine upon my restless heart converts this quicksilver of mine to gold, by magic art.
من ندانم نور یا نار است اندر سینه ام
این قدر دانم بیاض او به مهتابی زند
میں یہ تو نہیں جانتا کہ میرے سینے میں نور ہے یا نار ۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ اس کی روشنی چاند کو شرما رہی ہے ۔
I do not know if it be light within my breast, or flame; I only know its radiance white shines with a moonlike gleam.
بر دل من فطرت خاموش می آرد هجوم
ساز از ذوق نوا خود را به مضرابی زند
خاموش فطرت نے مجھ پر قبضہ جما لیا ہے اور نوا کے ذوق سے ساز خود کو مضراب پر مار رہا ہے(جب دل واقعی دل بن جاتا ہے تو اسے فطرت کی نہیں بلکہ فطرت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ )
Nature, all hushed, doth suddenly my quiet heart assail; the instrument in ecstasy playeth its own sweet scale.
غم مخور نادان که گردون در بیابان کم آب
چشمه ها دارد که شبخونی به سیلابی زند
اے نادان غم کھانے، افسوس کرنے کی ضرورت نہیں ۔ کہ آسمان پانی کے بغیر بیابان میں ایسے پانی کے چشمے رکھتا ہے جو سیلاب پر شب خون مارتے ہیں
Grieve not, thou fool; the starry skies within this desert waste have many founts, that secret rise and to the torrent haste.
ایکه نوشم خورده ئی از تیزی نیشم مرنج
نیش هم باید که آدم را رگ خوابی زند
اے کہ تو نے میری شیریں غذا کھائی ہے یا میٹھا پانی پیا ہے ۔ اب میرے ڈنک کی تیزی سے پریشان نہ ہو ۔ کیونکہ آدمی کی سوئی ہوئی حمیت جگانے کے لیے بعض اوقات ڈنک مارنا چاہیے(جہاں تو نے میری شاعری کا لطف اٹھایا ہے وہاں تلخ مضامین سے پریشان مت ہو کیونکہ یہ تجھے میدان عمل میں لانے کے لیے ہیں ) ۔
O thou who didst my sweet wine take, grieve not at my sharp sting; it needs my sting, that I may wake man from his slumbering.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور