شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
قافیہ: ودنی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
عشق را نازم که بودش را غم نابود نی
کفر او زنار دار حاضر و موجود نی
مجھے عشق پر ناز ہے کہ اس کی ہستی کو زوال نہیں (عشق فانی نہیں ، بلکہ ابدی حقیقت ہے) وہ ایک ایسا کفر ہے جو حاضر و موجود کا زنار پہننے والا نہیں ۔
I boast a love that is not grieved by being of To Be bereaved, whose infidelity doth ne’er the girdle of existence wear.
عشق اگر فرمان دهد از جان شیرین هم گذر
عشق محبوب است و مقصود است و جان مقصود نی
عشق اگر یہ حکم دے کہ اس کی راہ میں جان قربان کر دے تو بلا تکلف اپنی یہ شیریں جان اس پر نثار کر دے ۔ کیونکہ اصل مقصود تو محبوب کی ذات ہے یہ جان نہیں ۔
If Love shall ever so command, let precious life slip from thy hand; Love is thy one beloved and goal; there is no gain in life of soul.
کافری را پخته تر سازدشکست سومنات
گرمی بتخانه بی هنگامهٔ محمود نی
سومنات توڑنے سے کافری اور زیادہ مضبوط ہوتی ہے ۔ بت خانے کی رونق محمود کی یورش بغیر کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ بقا کا خوف ہی قوموں کو مضبوط بناتا ہے ۔
The shattering of the idol-shrine doth infidelity refine; it needs Mahmud’s immortal ire to set the temple-house afire.
مسجد و میخانه و دیر و کلیسا و کنشت
صد فسون از بهر دل بستند و دل خوشنود نی
مسلمان کی مسجد ہو رندوں کا میخانہ ہو، بت پرستوں کا مندر ہو یا آتش پرستوں کا کشت ہو میں نے ہر جگہ دیکھی ان جگہوں پر لوگوں کا دل لبھانے کے لیے سینکڑوں طرح کی جادوگری موجود تھی ۔ لیکن میرا دل خوش نہ ہو سکا کیونکہ وہاں وصل محبوب کا سامان ہی نہیں تھا ۔ یہ عبادت گاہیں تو نفرت کی آماجگاہیں بنی ہوئی ہیں ۔
In Muslim mosque and church of Christ, in incensed temple, tavern spiced, although a hundred charms were tried the heart was never satisfied.
نغمه پردازی ز جوی کوهسار آموختم
در گلستان بوده ام یک ناله درد آلود نی
میں نے نغمہ الاپنے کا فن پہاڑ سے اترنے والی ندی کے گنگناتے ہوئے پانی سیکھا ہے ۔ میں نے چمن دہر میں زندگی گزاری ہے ۔ وہاں تو ایک آہ بھی ایسی نہیں ۔ جس میں درد چھپا ہو ۔
Never in bower sweet with scent I raised a sorrowful lament, but from the mountain cataract I learned this music to enact.
پیش من آئی دم سردی دل گرمی بیار
جنبش اندر تست اندر نغمهٔ داوود نی
میرے پاس آنے کے لیے شرط یہ ہے کہ تو سرد دم ہو اور دل میں عشق کی گرمی ہو ۔ کیونکہ حرکت تو تیرے اپنے باطن میں ہے ۔ حضرت داوَد کے نغمہ میں نہیں ۔
Wouldest thou approach me, here apart? Come cold of breath, and warm of heart; in thee is movement never calm; such verve was not in David’s psalm.
عیب من کم جوی و از جامم عیار خویش گیر
لذت تلخاب من بی جان غم فرسود نی
میرا کلام پڑھنے اور سننے والے کو چاہیے کہ میرے کلام میں عیب تلاش نہ کرے بلکہ میرے پیالے سے اپنے معیار کے مطابق شراب لے لے ۔ میری تلخ شراب کی لذت غم عشق کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ۔
Seek less my faults, but take my bowl to be the measure of thy soul; the pleasure of my bitter brew is never without spirit’s rue.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور