شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
بیا که خاوریان نقش تازهای بستند
دگر مرو به طواف بتی که بشکستند
آ کہ اہلِ مشرق نے نیا تعویذ باندھا ہے (وہ فرنگی جادوگروں کے طلسم کا توڑ تلاش کر چکے ہیں ) ۔ ایسی صورت میں اس بت (فرنگی افکار) کا طواف مت کر جسے توڑا جا چکا ہے) ۔
Come! The Asiatic man has created a new plan: Go not, pilgrimage to make to the idol that he brake.
چه جلوهایست که دلها به لذت نگهی
ز خاک راه مثال شراره برجَستند
یہ کیسا جلوہَ محبوب ہے کہ جس پر نگاہ ڈالنے کی لذت سے دل راستے کی خاک سے چنگاری کی مانند اچھل رہے ہیں ۔
What is this epiphany that men’s hearts, rejoiced to see, from the ashes of the way gladly leap, like sparks at play?
کجاست منزل تورانیان شهرآشوب
که سینههای خود از تیزی نفس خستند
وسط ایشیا کے وہ نورانی مسلمان اب کہاں ہیں جو ہمیشہ شہر آشوب پسند کرتے تھے ۔ اب وہ نورانی جو اپنے سانسوں کی تیزی سے اپنا سینہ زخمی کر لیتے تھے ۔
To attain what far abode strive the Turks upon the road, that their bosom fluttereth with the quickness of their breath?
تو هم به ذوق خودی رس که صاحبان طریق
بریده از همه عالم به خویش پیوستند
تو بھی اپنی خودی کے ذوق تک رسائی حاصل کر کیونکہ مسلکِ عشق پر چلنے والے سارے جہان سے قطع تعلق کر کے خود سے پیوست ہو گئے ہیں ۔
Strive thou, selfhood’s joy to know: They who on this journey go shatter every worldly chain that they may to self attain.
به چشم مردهدلان کائنات زندانی است
دو جام باده کشیدند و از جهان رستند
مردہ لوگوں کے لیے ان کی نظروں میں یہ کائنات ایک قید خانہ ہے ۔ انھوں نے دو جام شراب کے پی کر جہان کے دکھوں اور غموں سے چھٹکارا پا لیا ۔ ذمے داریوں سے فرار حاصل کر لیا ۔ ) ۔
Men whose hearts are dead and cold as a cell this world behold; with two cups to fill their head, from the whole of life they fled.
غلام همت بیدار آن سوارانم
ستاره را به سنان سُفته در گره بستند
میں ان سواروں کی ہمت و جرات بیدا کا غلام ہوں ۔ جنھوں نے ستارے کو نیزے کی انی میں پرو دیا ۔ اور گرہ میں باندھ لیا ۔
I will ever be the slave of those horsemen bold and brave who, with spear uplifted, far ride, to pierce and thread a star.
فرشته را دگر آن فرصت سجود کجاست
که نوریان به تماشای خاکیان مستند
اب فرشتوں کو دوبارہ اس سجدہ کی فرصت کہاں ہے ۔ اب یہ نوری مخلوق، خاکی مخلوق کے کارناموں کے تماشا میں مصروف ہے(اور اسے دادِ تحسین دے رہے ہیں کہ واقعی خالقِ کائنات کا یہ شاہکار ہمارے سجدہ کے لائق ہے) ۔
Angels lack the season now prostrate to their Lord to bow; creatures of pure light, for they rapturous gaze on men of clay!
زمین
سبکروانکه به وحشت میان جان بستند
چو ناله سوخت نفس با نگاه پیوستند
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 1359
گذشتگانکه ز تشویش ما و من رستند
مقیم عالم نازند هر کجا هستند
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 1360
مصوران به هزار انفعال پیوستند
که طرهٔ تو کشیدند و خامه نشکستند
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 1361
درخت غنچه برآورد و بلبلان مستند
جهان جوان شد و یاران به عیش بنشستند
سعدیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 226
فسردگان که طلسم وجود نشکستند
ازین چه سود که چون کف به بحر پیوستند
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 3903
ز فتنه ای دل و جانم به ناله بر دستند
که ناز و عشوه ز تاثیر صحبتش مستند
عرفیغزلیاتغزل شمارهٔ 324
به هوش سیر چمن کن که شاهدان مستند
قرابه بر سر ابر بهار بشکستند
نظیری نیشابوریدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 162
فارسی متن کا ماخذ: گنجور