صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 42

غزل شمارهٔ 42

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ستند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بیا که خاوریان نقش تازه‌ای بستند

دگر مرو به طواف بتی که بشکستند

آ کہ اہلِ مشرق نے نیا تعویذ باندھا ہے (وہ فرنگی جادوگروں کے طلسم کا توڑ تلاش کر چکے ہیں ) ۔ ایسی صورت میں اس بت (فرنگی افکار) کا طواف مت کر جسے توڑا جا چکا ہے) ۔

Come! The Asiatic man has created a new plan: Go not, pilgrimage to make to the idol that he brake.

2

چه جلوه‌ای‌ست که دل‌ها به لذت نگهی

ز خاک راه مثال شراره برجَستند

یہ کیسا جلوہَ محبوب ہے کہ جس پر نگاہ ڈالنے کی لذت سے دل راستے کی خاک سے چنگاری کی مانند اچھل رہے ہیں ۔

What is this epiphany that men’s hearts, rejoiced to see, from the ashes of the way gladly leap, like sparks at play?

3

کجاست منزل تورانیان شهرآشوب

که سینه‌های خود از تیزی نفس خستند

وسط ایشیا کے وہ نورانی مسلمان اب کہاں ہیں جو ہمیشہ شہر آشوب پسند کرتے تھے ۔ اب وہ نورانی جو اپنے سانسوں کی تیزی سے اپنا سینہ زخمی کر لیتے تھے ۔

To attain what far abode strive the Turks upon the road, that their bosom fluttereth with the quickness of their breath?

4

تو هم به ذوق خودی رس که صاحبان طریق

بریده از همه عالم به خویش پیوستند

تو بھی اپنی خودی کے ذوق تک رسائی حاصل کر کیونکہ مسلکِ عشق پر چلنے والے سارے جہان سے قطع تعلق کر کے خود سے پیوست ہو گئے ہیں ۔

Strive thou, selfhood’s joy to know: They who on this journey go shatter every worldly chain that they may to self attain.

5

به چشم مرده‌دلان کائنات زندانی است

دو جام باده کشیدند و از جهان رستند

مردہ لوگوں کے لیے ان کی نظروں میں یہ کائنات ایک قید خانہ ہے ۔ انھوں نے دو جام شراب کے پی کر جہان کے دکھوں اور غموں سے چھٹکارا پا لیا ۔ ذمے داریوں سے فرار حاصل کر لیا ۔ ) ۔

Men whose hearts are dead and cold as a cell this world behold; with two cups to fill their head, from the whole of life they fled.

6

غلام همت بیدار آن سوارانم

ستاره را به سنان سُفته در گره بستند

میں ان سواروں کی ہمت و جرات بیدا کا غلام ہوں ۔ جنھوں نے ستارے کو نیزے کی انی میں پرو دیا ۔ اور گرہ میں باندھ لیا ۔

I will ever be the slave of those horsemen bold and brave who, with spear uplifted, far ride, to pierce and thread a star.

7

فرشته را دگر آن فرصت سجود کجاست

که نوریان به تماشای خاکیان مستند

اب فرشتوں کو دوبارہ اس سجدہ کی فرصت کہاں ہے ۔ اب یہ نوری مخلوق، خاکی مخلوق کے کارناموں کے تماشا میں مصروف ہے(اور اسے دادِ تحسین دے رہے ہیں کہ واقعی خالقِ کائنات کا یہ شاہکار ہمارے سجدہ کے لائق ہے) ۔

Angels lack the season now prostrate to their Lord to bow; creatures of pure light, for they rapturous gaze on men of clay!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عشق اندر جستجو افتاد آدم حاصل است

جلوهٔ او آشکار از پردهٔ آب و گل است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 41

اگلی نظم

عشق را نازم که بودش را غم نابود نی

کفر او زنار دار حاضر و موجود نی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 43

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

سبکروان‌که به وحشت میان جان بستند

چو ناله سوخت نفس با نگاه پیوستند

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 1359

گذشتگان‌که ز تشویش ما و من رستند

مقیم عالم نازند هر کجا هستند

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 1360

مصوران به هزار انفعال پیوستند

که طرهٔ تو کشیدند و خامه نشکستند

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 1361

درخت غنچه برآورد و بلبلان مستند

جهان جوان شد و یاران به عیش بنشستند

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 226

فسردگان که طلسم وجود نشکستند

ازین چه سود که چون کف به بحر پیوستند

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3903

ز فتنه ای دل و جانم به ناله بر دستند

که ناز و عشوه ز تاثیر صحبتش مستند

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 324

به هوش سیر چمن کن که شاهدان مستند

قرابه بر سر ابر بهار بشکستند

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 162

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور