صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 46

غزل شمارهٔ 46

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: یق

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

ز رسم و راه شریعت نکرده ام تحقیق

جز اینکه منکر عشق است کافر و زندیق

میں نے اس بارے میں شریعت کی رو سے تحقیق نہیں کی ۔ سوائے اس کے کہ عشق سے انکار کرنے والا کافر اور آتش پرست ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق کے بغیر مسلمان صحیح مسلمان نہیں بن سکتا ۔ صرف عقل پر بھروسہ کر کے سچائی کی پہچان ممکن نہیں ۔ عشق کے بغیر شریعت کی بہت سے باتیں ایک معمہ نظر آتی ہیں ۔

I have never discovered well law’s way, and the wont thereof, but know him an infidel who denieth the power of Love.

2

مقام آدم خاکی نهاد دریا بند

مسافران حرم را خدا دهد توفیق

یہ خاک کے پتلے اگر اپنے مقام سے آگاہ ہو جائیں اور خدا مسافران حرم کو اپنا مقام پہچان لینے کی توفیق بھی عطا کر دے تو ان پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ ایک کعبہ ان کے اندر بھی موجود ہے جو ان کا دل ہے (اس دل کو پاکیزہ کرنے کی ضرورت ہے) ۔

The travellers of the Shrine O may God succour and aid, that they may truly divine man’s rank, who of clay was made.

3

من از طریق نپرسم ، رفیق می جویم

که گفته اند نخستین رفیق و باز طریق

مجھے طریق راہ کی تلاش نہیں ، میں تو اپنا ہمسفر ڈھونڈ رہا ہوں ۔ کیونکہ دانش مندوں نے کیا خوب کہا ہے کہ پہلے ہمسفر اور پھر راستہ ۔ کیونکہ راستے کی مشکلات میں ایک سچا ہمسفر ہی کام آ سکتا ہے) ۔

I do not ask of the Way; the Friend is my only quest, for so I have heard men say, ‘The friend, then the way, that’s best!’

4

کند تلافی ذوق آنچنان حکیم فرنگ

فروغ باده فزون تر کند بجام عقیق

(یورپ کے دانا نے دنیا کو ہر طرح سے گمراہ کیا ہے) اب وہ اس گناہ کی تلافی میں مصروف ہے ۔ اس طرح کی وہ عقیق کے پیالے میں شراب کے جوش اور دلکشی میں زیادہ اضافہ کر رہا ہے (اہلِ یورپ نے اپنی تہذیب کی تباہ کاریوں کو چھپانے کے لیے اس تہذیب میں اور زیادہ دلکشی اور چکاچوند پیدا کر دی ہے تا کہ لوگ اس روشنی میں چھپے اندھیرے کو نہ دیکھ سکیں ۔

Europe’s philosopher so misseth the rapture fine, in the red bowl shines more clear the gleam of the crimson wine.

5

هزار بار نکو تر متاع بی بصری

ز دانشی که دل او را نمی کند تصدیق

ایسی جہالت کی دولت ہزارہا درجے بہتر ہے اس دانش سے جس کی دل تصدیق نہ کرتا ہو ۔

Better a man were blind, better a thousand wise, than knowledge to have in mind that the seeing heart denies.

6

به پیچ و تاب خرد گرچه لذت دگر است

یقین ساده دلان به ز نکته های دقیق

اگر عقل کی بھول بھلیوں میں ایک قسم کا مزا بھی ہے لیکن سادہ دل لوگوں کا ایمان مشکل نکتوں اور رمز کی باتوں سے بہتر ہے ۔

Though intellect’s jugglery peculiar joy impart, better than subtlety is the faith of a simple heart.

7

کلام و فلسفه از لوح دل فروشستم

ضمیر خویش گشادم به نشتر تحقیق

میں نے کلام اور فلسفہ کے حروف دل کی تختی سے دھو ڈالے ہیں اور اپنے ضمیر کو تحقیق کے نشتروں سے کھول دیا ہے ۔ تا کہ میں حقیقت کی منزل پا لوں ۔

I have washed my heart’s tablets clean of the learning that charmed my youth, opened my teeming brain with the lancet of utter truth.

8

ز آستانهٔ سلطان کناره می گیرم

نه کافرم که پرستم خدای بی توفیق

میں بادشاہ کے آستانہ سے الگ یا دور ہو گیا ہوں ۔ میں کافر نہیں ہوں کہ بے اختیار و بے طاقت خدا کی پوجا کرتا رہوں ۔

Far from the threshold now of the Sultan’s gate I have strayed; no infidel I, to bow to a god who can nothing aid.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

فروغ خاکیان از نوریان افزون شود روزی

زمین از کوکب تقدیر ما گردون شود روزی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 45

اگلی نظم

از همه کس کناره گیر صحبت آشنا طلب

هم ز خدا خودی طلب هم ز خودی خدا طلب

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 47

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

مقامِ امن و مِیِ بی‌غَش و رفیقِ شَفیق

گَرَت مُدام میسر شود زِهی توفیق

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 298

فریفت یار شکربار من مرا به طریق

که شعر تازه بگو و بگیر جام عتیق

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1312

به گونه می نپذیرد ز همدگر تفریق

تجلی تو به دل همچو می به جام عقیق

غالب دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 232

رفیق تر نکند در ره تو کام رفیق

تو را دلی ز غم آزاد همچو بیت عتیق

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 392

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور