شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)
قافیہ: اطلب
صنف: غزل/قصیده/قطعه
از همه کس کناره گیر صحبت آشنا طلب
هم ز خدا خودی طلب هم ز خودی خدا طلب
ہر کسی کی دوستی سے علیحدگی اختیار کر لے اور صرف آشنائے خدا کی صحبت اختیار کر ۔ کیونکہ اس کے سوا تیرا کوئی دوست نہیں ہو سکتا ۔ خدا سے خودی طلب کر اور خودی کے ذریعے خدا طلب کر ۔
Far, far from every other go with the One Friend upon the road; seek thou of God thy self to know, and seek in selfhood for thy God.
از خلش کرشمه ئی کار نمی شود تمام
عقل و دل و نگاه را جلوه جدا جدا طلب
صرف ابرو اور آنکھوں کے اشارے کوئی کرشمہ نہیں دکھاتے ۔ عقل، دل اور نگاہ کے لیے علیحدہ علیحدہ جلوے طلب کر ۔
One piercing glance can ne’er impart the consummation of it all: The gaze, the intellect, the heart, each needs its vision several.
عشق بسر کشیدن است شیشه کائنات را
جام جهان نما مجو دست جهان گشا طلب
عشق کائنات کی صراحی پی جانے کا نام ہے (پوری کائنات زیر کر لینے کا مسلک ہے) جام جہاں نما تلاش نہ کر بلکہ جہاں کو فتح کرنے والا ہاتھ طلب کر ۔
Love is at Being’s board to sup, to drain its glass, till all is gone; seek not the world-revealing cup, seek the world-conquering hand alone!
راهروانبرهنه پا راه تمام خار زار
تا به مقام خود رسی راحله از رضا طلب
مسافروں کے پاؤں ننگے ہیں اور راستہ پر خار ہے ۔ اپنے مقام پر بخیر و عافیت پہنچنے کے لیے خدا کی تسلیم و رضا کی سواری طلب کر ۔
Naked of foot the travellers are, thorny the way, and hard indeed; till thou shalt reach thy selfhood far, take acquiescence for thy steed.
چون بکمال میرسد فقر دلیل خسروی است
مسند کیقباد را در ته بوریا طلب
جب فقر اوج کمال تک پہنچ جاتا ہے وہ شہنشاہی کے لیے راہنما بن جاتا ہے ۔ اس لیے ایران کے مشہور بادشاہ قیقباد کا تخت فقر کے بوریے کے نیچے طلب کر ۔ وہ شہنشاہی طلب کر جو فقیری میں حاصل ہوتی ہے ۔
Only in perfect poverty the proof of kingship is displayed; beneath the rushes seek, to see the royal throne of Kaikobad.
پیش نگر که زندگی راه بعالمی
از سر آنچه بود و رفت در گذر انتها طلب
آگے غور کر کہ زندگی کسی عالم کی طرف رواں دواں ہے جو کچھ ہو چکا ہے اس کا خیال ترک کر دے اور تیری جو انتہا ہے اسے طلب کر ۔
Look onward; life is but a way that to another world doth wend; from what has been, and passed away. Depart, and ever seek the end.
ضربت روزگار اگر ناله چو نی دهد تو را
بادهٔ من ز کف بنه چاره ز مومیا طلب
اگر زمانے کے آلام و مصائب تجھ میں بانسری کی طرح فریاد پیدا کر رہے ہیں تو میری شراب کے پیالے کو ہاتھ سے گرا دے اور مومیا سے علاج طلب کر ۔ (تیرے آلام و مصائب کا حل قرآن مجید میں موجود ہے ، مومیا سے مراد قرآن مجید ہے) ۔
But if Fate’s buffet maketh thee like the lamenting reed to moon, lay down the wine thou took’st from me; seek liniment to mend thy bone!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور