شاعر: علامہ اقبال
وزن: مستفعلن فع مستفعلن فع (متقارب مثمن اثلم)
قافیہ: ینی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
بینی جهان را خود را نبینی
تا چند نادان غافل نشینی
تو دنیا کی طرف دیکھتا ہے لیکن اپنی معرفت حاصل نہیں کرتا ۔ اے نادان تو اپنی پہچان سے کب تک غفلت برتتا رہے گا ۔
The world, but not selfhood, thou canst see; how long in thy ignorance wilt thou sit?
نور قدیمی شب را بر افروز
دست کلیمی در آستینی
اے انسان تو ایک قدیم نور ہے ۔ اس نور سے اپنی زندگی کی رات روشن کر ۔ تو اصل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا روشن ہاتھ ہے لیکن یہ ابھی تیری آستین میں پوشیدہ ہے (اپنی حقیقت کی پہچان کر پھر تجھے معلوم ہو جائے گا کہ تو اصل میں کیا ہے) ۔
With thy ancient flame let the night be lit? The hand of Moses is sleeved in thee.
بیرون قدم نه از دور آفاق
تو پیش ازینی تو بیش ازینی
کائنات کے دائرے سے باہر قدم رکھ تیری تخلیق اس کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے کی ہے ۔ تو اس کائنات سے زیادہ وسیع ہے ۔
Set forth thy foot from the circling skies; greater and older than these thou art.
از مرگ ترسی ای زنده جاوید؟
مرگ است صیدی تو در کمینی
اے حیات جاوداں پانے والے! تو موت سے ڈرتا ہےموت تو تیرا شکار ہے اور تو اس کی گھات میں ہے (اگر تو اپنی پہچان کر لے تو پھر تجھے موت کا کوئی ڈر نہیں ہو گا) ۔
Fearest thou death in thy deathless heart? Death’s but a prey that before thee. lies.
جانی که بخشد دیگر نگیرند
آدم بمیرد از بی یقینی
خدا جو زندگی آدمی کو عطا کر دیتا ہے وہ واپس نہیں لیتا ۔ کیونکہ دیا ہو تحفہ کوئی واپس نہیں لیتا ۔ آدمی اگر مرتا ہے تو بے یقینی کے باعث مرتا ہے ۔
Life, once given thee, none can take; ‘Tis for lack of faith men faint and die.
صورت گری را از من بیاموز
شاید که خود را باز آفرینی
صورتیں بنانے کا فن اگر سیکھنا چاہتا ہے تو میری شاگردی اختیار کر ۔ شاید کہ تو اس قابل ہو جائے کہ خود کو ایک نئی صورت میں دوبارہ پیدا کر لے ۔ اس پیدائش کا تعلق معرفت کی پہچان سے ہے ۔
Learn to be sculptor, even as I, and haply anew thy selfhood make!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور