صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 49

غزل شمارهٔ 49

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: بها

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

من هیچ نمی‌ترسم از حادثهٔ شب‌ها

شب‌ها که سحر گردد از گردش کوکب‌ها

میں راتوں کو رونما ہونے والے حادثات سے نہیں ڈرتا، کیونکہ راتیں آخر کار ستاروں کی گردش کے باعث صبح کے اجالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔

In the accidents of night there is naught can me affright, seeing that the night is borne by the wheeling stars to morn.

2

نشناخت مقام خویش افتاد به دام خویش

عشقی که نمودی خواست از شورش یارب‌ها

اس نے اپنا مقام نہیں پہچانا ۔ وہ اپنے جال میں خود ہی گرفتار ہو گیا ۔ وہ عشق کہ جس نے مصائب کے باعث یارب یارب کا شور مچا رکھا ہے ۔ وہ عشق ناکام ہے جس میں مصائب برداشت کرنے کی ہمت نہیں ) ۔

Of its station unaware, it has fallen in its own snare, this thy love that did arise from thy supplicating cries.

3

آهی که ز دل خیزد از بهر جگرسوزی است

در سینه شکن او را آلوده مکن لب‌ها

جو آہ و فغاں تیرے دل سے نکلتی ہے جگر سوزی کے لیے ہے ۔ اس لیے اسے سینہ ہی میں جذب رہنے دے ۔ اپنے ہونٹوں کو اس سے آلودہ مت کر ۔

When the heart gives forth a sigh, ’tis of burning inwardly; let it not thy lips defile; break it in thy breast, and smile!

4

در میکده باقی نیست از ساقی فطرت‌خواه

آن می که نمی‌گنجد در شیشهٔ مشرب‌ها

وہ شراب کہ جو مذہب کے مختلف طریقوں کی صراحیوں میں نہیں سماتی اس میکدہ خالی ہو چکا ہے ۔ وہ شراب عشق تجھے خانقاہوں اور مساجد میں نہیں ملے گی ۔ ساقی فطرت خدا سے طلب کر ۔ اسی سے تیری تشنگی دور ہوگی ۔

None remains in tavern now; beg of Nature’s saki thou the rich wine that cannot pass in the drinkers’ narrow glass.

5

آسوده نمی‌گردد آن دل که گسست از دوست

با قرأت مسجد‌ها با دانش مکتب‌ها

وہ دل جو دوست محبوب سے جدا ہو گیا ہے اسے مسجدوں میں قرآن کی قراَت یا مدرسہ کی حکمت و دانش سے قرار نہیں ملتا ۔

Not with mosque and chanted verse, not with learning schools rehearse to repose returns the heart when its Darling doth depart.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بینی جهان را خود را نبینی

تا چند نادان غافل نشینی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 48

اگلی نظم

تو کیستی ز کجائی که آسمان کبود

هزار چشم براه تو از ستاره گشود

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 50

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ریزم ز مژه کوکب بی‌ماه‌رخت شب‌ها

تاریک شبی دارم با این همه کوکب‌ها

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 15

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور