من هیچ نمیترسم از حادثهٔ شبها
شبها که سحر گردد از گردش کوکبها
میں راتوں کو رونما ہونے والے حادثات سے نہیں ڈرتا، کیونکہ راتیں آخر کار ستاروں کی گردش کے باعث صبح کے اجالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔
In the accidents of night there is naught can me affright, seeing that the night is borne by the wheeling stars to morn.
نشناخت مقام خویش افتاد به دام خویش
عشقی که نمودی خواست از شورش یاربها
اس نے اپنا مقام نہیں پہچانا ۔ وہ اپنے جال میں خود ہی گرفتار ہو گیا ۔ وہ عشق کہ جس نے مصائب کے باعث یارب یارب کا شور مچا رکھا ہے ۔ وہ عشق ناکام ہے جس میں مصائب برداشت کرنے کی ہمت نہیں ) ۔
Of its station unaware, it has fallen in its own snare, this thy love that did arise from thy supplicating cries.
آهی که ز دل خیزد از بهر جگرسوزی است
در سینه شکن او را آلوده مکن لبها
جو آہ و فغاں تیرے دل سے نکلتی ہے جگر سوزی کے لیے ہے ۔ اس لیے اسے سینہ ہی میں جذب رہنے دے ۔ اپنے ہونٹوں کو اس سے آلودہ مت کر ۔
When the heart gives forth a sigh, ’tis of burning inwardly; let it not thy lips defile; break it in thy breast, and smile!
در میکده باقی نیست از ساقی فطرتخواه
آن می که نمیگنجد در شیشهٔ مشربها
وہ شراب کہ جو مذہب کے مختلف طریقوں کی صراحیوں میں نہیں سماتی اس میکدہ خالی ہو چکا ہے ۔ وہ شراب عشق تجھے خانقاہوں اور مساجد میں نہیں ملے گی ۔ ساقی فطرت خدا سے طلب کر ۔ اسی سے تیری تشنگی دور ہوگی ۔
None remains in tavern now; beg of Nature’s saki thou the rich wine that cannot pass in the drinkers’ narrow glass.
آسوده نمیگردد آن دل که گسست از دوست
با قرأت مسجدها با دانش مکتبها
وہ دل جو دوست محبوب سے جدا ہو گیا ہے اسے مسجدوں میں قرآن کی قراَت یا مدرسہ کی حکمت و دانش سے قرار نہیں ملتا ۔
Not with mosque and chanted verse, not with learning schools rehearse to repose returns the heart when its Darling doth depart.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور