تو کیستی ز کجائی که آسمان کبود
هزار چشم براه تو از ستاره گشود
تو کون ہےتو کہاں سے آیا ہےکہ نیلے آسمان نے تیرے استقبال میں تیری راہ میں ستاروں کی ہزاروں آنکھیں کھول رکھی ہیں (تیری عظمت و نشان یہ ہے کہ ساری کائنات تیرے جلووں کی منتظر ہے) ۔
What man art thou, and where thy home? In the blue skies the stars have opened, to see thee come, a thousand eyes!
چه کویمت که چه بودی چه کرده ئی چه شدی
که خون کند جگرم را ایازی محمود
میں کیا کہوں کہ تو کیا تھا ۔ تو نے کیا کیا اور تو کیا تھا اور کیا ہو گیاکہ محمود کی ایازی (اپنے محمود ایاز کی غلامی میرے جگر کا خون کر رہی ہے ( تو نے اپنے اعلیٰ منصب کو چھوڑ کر نفس دنیا کی غلامی اختیار کر لی ہے ۔
Why shall I tell what thou hast done, what thou now art? Mahmud is now with Ayaz one – this breaks my heart!
تو آن نئی که مصلی ز کهکشان میکرد
شراب صوفی و شاعر تر از خویش ربود
تو وہی تو نہیں جس کے کہکشاں کو اپنا مصلیٰ بنایا تھا ۔ جاہل صوفیوں اور بے مقصد شاعری کی شراب نے تجھے اپنی معرفت سے بیگانہ کر دیا ہے ۔ کہکشاں پر مصلیٰ بچھانے سے مراد کائنات پر حکمرانی ہے ۔
No Milky Way thou mountest up at prayer to kneel; the Sufi’s and the poet’s cup thy soul doth steal.
فرنگ اگرچه ز افکار تو گره بگشاد
به جرعه دگری نشئه ترا افزود
یہ صحیح ہے کہ یورپ نے تیرے افکار کی گرہیں کھول کر اسے جدید علوم سے روشناس کیا ہے ۔ لیکن اس کا شراب کا ایک دوسرا گھونٹ (ملحدانہ افکار) پلا کر تیرے نشہ کو بڑھا کر تجھے مدہوش کر دیا ہے ۔
Though Europe many knots untied that chained thy thought, intoxication magnified her next draught brought.
سخن ز نامه و میزان دراز تر گفتی
به حیرتم که نبینی قیامت موجود
تو نے روزِ محشر نامہ اعمال اور انہیں تولنے کے ترازو کی بات تو بڑی طویل کی ہے ۔ مجھے حیرت ہے کہ تو اس قیامت کو نہیں دیکھ رہا جو تیرے سامنے موجود ہے ۔
Much of the Balance and the Scroll I hear thee say; strange, that thou seest not at all this judgement-day!
خوشا کسی که حرم را درون سینه شناخت
دمی تپید و گذشت از مقام گفت و شنود
خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے اپنے سینے کے اندر حرم کو پہچان لیا (حرم سے مراد دل ہے جہاں خدا کا گھر ہے ) وہ دل تھوڑی دیر کے لیے تڑپا اور حقیقت پا لینے کے بعد گفت و شنید کی منزل سے گزر گیا ۔ (جسے معرفتِ حق مل گئی اس نے خاموشی اختیار کر لی) ۔
Blessed the man, who in his breast the shrine hath known, fluttered awhile, then from the nest of speech was flown.
از آن بمکتب و میخانه اعتبارم نیست
که سجده ئی نبرم بر در جبین فرسود
مدرسے اور مے خانے پر میں اس لیے اعتبار نہیں کرتا کہ آج کل کے مدرسے اور مے خانے (خانقاہوں ) کے علماء اور صوفیا لوگوں کو اللہ کے سامنے جھکانے کے بجائے اپنے سامنے جھکنے کا درس دیتے ہیں ۔ اور میں اسی لیے اس دروازے پر سجدہ نہیں کرتا جس پر کہ ماتھے گھسے ہوئے ہیں (ان مدرسوں اور خانقاہوں کے افکار فرسودہ ہو چکے ہیں ) ۔
No more the tavern and the school I venerate; I do not reckon worshipful the brow-swept gate!
زمین
ببار باده روشن که صبح روی نمود
که در چنین نفسی بیشراب نتوان بود
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1037
ترانه های تحیت سرودهای درود
نثار مجلس سلطان عاقبت محمود
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 157
زهی جمال تو خورشید آسمان شهود
تویی بدیع ترین نقش کارگاه وجود
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 86
کنون که در چمن آمد گُل از عَدَم به وجود
بنفشه در قدمِ او نهاد سر به سجود
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 219
اگرچه عذر بسی بود روزگار نبود
چنان که بود به ناچار خویشتن بخشود
رودکیقصاید و قطعاتشمارهٔ 44
اگر حریف منی پس بگو که دوش چه بود
میان این دل و آن یار می فروش چه بود
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 1013
ز بانگ پست تو ای دل بلند گشت وجود
تو نفخ صوری یا خود قیامت موعود
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 914
رسید ساقی جان ما خمار خوابآلود
گرفت ساغر زرین سر سبو بگشود
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 923
ربود عشق تو تسبیح و داد بیت و سرود
بسی بکردم لاحول و توبه دل نشنود
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 940
ز بعد خاک شدن یا زیان بود یا سود
به نقد خاک شوم بنگرم چه خواهد بود
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 941
فارسی متن کا ماخذ: گنجور