صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 50

غزل شمارهٔ 50

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 18

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

تو کیستی ز کجائی که آسمان کبود

هزار چشم براه تو از ستاره گشود

تو کون ہےتو کہاں سے آیا ہےکہ نیلے آسمان نے تیرے استقبال میں تیری راہ میں ستاروں کی ہزاروں آنکھیں کھول رکھی ہیں (تیری عظمت و نشان یہ ہے کہ ساری کائنات تیرے جلووں کی منتظر ہے) ۔

What man art thou, and where thy home? In the blue skies the stars have opened, to see thee come, a thousand eyes!

2

چه کویمت که چه بودی چه کرده ئی چه شدی

که خون کند جگرم را ایازی محمود

میں کیا کہوں کہ تو کیا تھا ۔ تو نے کیا کیا اور تو کیا تھا اور کیا ہو گیاکہ محمود کی ایازی (اپنے محمود ایاز کی غلامی میرے جگر کا خون کر رہی ہے ( تو نے اپنے اعلیٰ منصب کو چھوڑ کر نفس دنیا کی غلامی اختیار کر لی ہے ۔

Why shall I tell what thou hast done, what thou now art? Mahmud is now with Ayaz one – this breaks my heart!

3

تو آن نئی که مصلی ز کهکشان میکرد

شراب صوفی و شاعر تر از خویش ربود

تو وہی تو نہیں جس کے کہکشاں کو اپنا مصلیٰ بنایا تھا ۔ جاہل صوفیوں اور بے مقصد شاعری کی شراب نے تجھے اپنی معرفت سے بیگانہ کر دیا ہے ۔ کہکشاں پر مصلیٰ بچھانے سے مراد کائنات پر حکمرانی ہے ۔

No Milky Way thou mountest up at prayer to kneel; the Sufi’s and the poet’s cup thy soul doth steal.

4

فرنگ اگرچه ز افکار تو گره بگشاد

به جرعه دگری نشئه ترا افزود

یہ صحیح ہے کہ یورپ نے تیرے افکار کی گرہیں کھول کر اسے جدید علوم سے روشناس کیا ہے ۔ لیکن اس کا شراب کا ایک دوسرا گھونٹ (ملحدانہ افکار) پلا کر تیرے نشہ کو بڑھا کر تجھے مدہوش کر دیا ہے ۔

Though Europe many knots untied that chained thy thought, intoxication magnified her next draught brought.

5

سخن ز نامه و میزان دراز تر گفتی

به حیرتم که نبینی قیامت موجود

تو نے روزِ محشر نامہ اعمال اور انہیں تولنے کے ترازو کی بات تو بڑی طویل کی ہے ۔ مجھے حیرت ہے کہ تو اس قیامت کو نہیں دیکھ رہا جو تیرے سامنے موجود ہے ۔

Much of the Balance and the Scroll I hear thee say; strange, that thou seest not at all this judgement-day!

6

خوشا کسی که حرم را درون سینه شناخت

دمی تپید و گذشت از مقام گفت و شنود

خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے اپنے سینے کے اندر حرم کو پہچان لیا (حرم سے مراد دل ہے جہاں خدا کا گھر ہے ) وہ دل تھوڑی دیر کے لیے تڑپا اور حقیقت پا لینے کے بعد گفت و شنید کی منزل سے گزر گیا ۔ (جسے معرفتِ حق مل گئی اس نے خاموشی اختیار کر لی) ۔

Blessed the man, who in his breast the shrine hath known, fluttered awhile, then from the nest of speech was flown.

7

از آن بمکتب و میخانه اعتبارم نیست

که سجده ئی نبرم بر در جبین فرسود

مدرسے اور مے خانے پر میں اس لیے اعتبار نہیں کرتا کہ آج کل کے مدرسے اور مے خانے (خانقاہوں ) کے علماء اور صوفیا لوگوں کو اللہ کے سامنے جھکانے کے بجائے اپنے سامنے جھکنے کا درس دیتے ہیں ۔ اور میں اسی لیے اس دروازے پر سجدہ نہیں کرتا جس پر کہ ماتھے گھسے ہوئے ہیں (ان مدرسوں اور خانقاہوں کے افکار فرسودہ ہو چکے ہیں ) ۔

No more the tavern and the school I venerate; I do not reckon worshipful the brow-swept gate!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

من هیچ نمی‌ترسم از حادثهٔ شب‌ها

شب‌ها که سحر گردد از گردش کوکب‌ها

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 49

اگلی نظم

دیار شوق که درد آشناست خاک آنجا

به ذره ذره توان دیده جان پاک آنجا

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 51

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ببار باده روشن که صبح روی نمود

که در چنین نفسی بی‌شراب نتوان بود

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1037

ترانه های تحیت سرودهای درود

نثار مجلس سلطان عاقبت محمود

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 157

زهی جمال تو خورشید آسمان شهود

تویی بدیع ترین نقش کارگاه وجود

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 86

کنون که در چمن آمد گُل از عَدَم به وجود

بنفشه در قدمِ او نهاد سر به سجود

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 219

اگرچه عذر بسی بود روزگار نبود

چنان که بود به ناچار خویشتن بخشود

رودکی»قصاید و قطعات»شمارهٔ 44

اگر حریف منی پس بگو که دوش چه بود

میان این دل و آن یار می فروش چه بود

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1013

ز بانگ پست تو ای دل بلند گشت وجود

تو نفخ صوری یا خود قیامت موعود

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 914

رسید ساقی جان ما خمار خواب‌آلود

گرفت ساغر زرین سر سبو بگشود

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 923

ربود عشق تو تسبیح و داد بیت و سرود

بسی بکردم لاحول و توبه دل نشنود

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 940

ز بعد خاک شدن یا زیان بود یا سود

به نقد خاک شوم بنگرم چه خواهد بود

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 941

مزید تلاش کریں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور