شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: اکانجا
صنف: غزل/قصیده/قطعه
دیار شوق که درد آشناست خاک آنجا
به ذره ذره توان دیده جان پاک آنجا
شہرِ عشق میں کہ جہاں کی مٹی درد آشنا ہے اس کے ذرے ذرے میں پاک جان انوار الہٰی کو دیکھا جا سکتا ہے (عاشق کے رگ و پے میں سوزِ عشق پایا جاتا ہے) ۔
In the abode of passion, where the dust is fraught with pain, shineth in every atom there pure spirit without stain.
می مغانه ز مغ زادگان نمی گیرند
نگاه می شکند شیشه های تاک آنجا
شراب کشید کرنے والوں کی شراب ان کے بچوں سے نہیں لیا کرتے ۔ وہاں تو انگور کی بیل کی شراب سے بھری صراحیوں کو نگاہ توڑ دیتی ہے ۔ یعنی یہاں نگاہوں سے شراب پی جاتی ہے (عشق آشنا لوگ جام و مینا کے محتاج نہیں ہوتے وہ شرابِ عشق نگاہوں سے پیتے اور پلاتے ہیں ) ۔
No Magian wine from Magian boy the revelers there take; one glance of rapture and of joy each fragile glass doth break.
به ضبط جوش جنون کوش در مقام نیاز
بهوش باش و مرو با قبای چاک آنجا
محبوب کا آستانہ ادب کی جگہ ہے ۔ وہاں جا کر اپنے جنونِ عشق کی جوش کو قابو میں رکھنا اور کہیں بے خبری اور مدہوشی میں ایسی بات منہ سے نہ نکالنا کی محبوب خفا ہو جائے ۔ اس کے آستانے پر جنون کو قابو میں رکھ اور پھٹے ہوئے گریبان یا لباس کے ساتھ وہاں مت جانا ۔
Let madness surge not in thee so when thou dost stand at prayer; keep firm thy reason; do not go with shredded raiment there!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور