صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 52

غزل شمارهٔ 52

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: انچیزینیست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

می دیرینه و معشوق جوان چیزی نیست

پیش صاحب نظران حور و جنان چیزی نیست

پرانی شراب جس میں نشہ زیادہ ہوتا ہے اور جوان معشوق اہل نظر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے (اللہ کے ولیوں کی نظر میں حور اور جنت کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ ان باتوں سے بے نیاز ہوتے ہیں ) ۔

The young beloved, the ancient wine, the maids of Paradise; these joys men reckon rare and fine charm not the truly wise.

2

هرچه از محکم و پاینده شناسی گذرد

کوه و صحرا و بر و بحر و کران چیزی نیست

جس شے کو تو مضبوط ، پائیدار اور لافانی خیال کرتا ہے وہ بالاخر فنا ہو جاتی ہے ۔ اس لیے پہاڑ، صحرا، سمندر اور ساحل کی کوئی حیثیت نہیں ۔ تمام اشیاء فنا ہو جائیں گی ۔ قائم رہنے والی ذات صرف خالق کائنات ہے ۔

Whate’er eternal thou dost deem, mountain, and sea, and shore, land, plain, whate’er assured doth seem, these pass, and are no more.

3

دانش مغربیان فلسفهٔ مشرقیان

همه بتخانه و در طوف بتان چیزی نیست

یورپ کی دانش (علم و حکمت ) اور اہل مشرق کا فلسفہ دونوں ہی بت خانہ ہیں اور بتوں کے طواف سے کوئی فائدہ نہیں ۔ (یورپ کے افکار و خیالات اور سائنسی معلومات سے انسان کائنات شناس تو ہو جاتا ہے لیکن خود شناس اور خدا شناس نہیں ہوتا ۔ خود شناسی کے لیے جذبہَ عشق کی ضرورت ہے) ۔

The learning of the Westerner, the East’s philosophy; all is an idol-house of prayer – and idols nothing be!

4

از خود اندیش و ازین بادیه ترسان مگذر

که تو هستی و وجود دو جهان چیزی نیست

اپنے آپ پر غور کر اور اس زندگی کے بیاباں سے خوفزدہ ہو کر مت گزر ۔ کیونکہ تیری ہستی کی بدولت ہی دو جہاں کا وجود ہے ۔ تو کائنات کے لیے نہیں بلکہ کائنات تیرے لیے ہے ۔

Cross not this desert terrified; fix on thy self thy thought; thou only art, and all beside, yea, all the world, is naught!

5

در طریقی که بنوک مژه کاویدم من

منزل و قافله و ریگ روان چیزی نیست

اس راہِ عشق میں جو میں نے اپنی پلکوں کی نوک سے بنایا ہے ۔ منزل ، قافلہ اور اڑتی ہوئی ریت کی کوئی حیثیت نہیں ۔ وصلِ محبوب کے لیے عاشق جو راستہ بتاتا ہے وہ آسانی سے نہیں بنتا ۔ اس کے لیے پلکوں کی نوک سے راستہ کھودنا پڑتا ہے ۔ حد سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے) ۔

Upon this way mine eyelashes have quarried out of stone, nor stage nor caravan there is, and shifting sands are none.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دیار شوق که درد آشناست خاک آنجا

به ذره ذره توان دیده جان پاک آنجا

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 51

اگلی نظم

قلندران که به تسخیر آب و گل کوشند

ز شاه باج ستانند و خرقه می پوشند

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 53

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به خدا غیر خدا در دو جهان چیزی نیست

بی نشان است همه نام و نشان چیزی نیست

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 104

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور