قلندران که به تسخیر آب و گل کوشند
ز شاه باج ستانند و خرقه می پوشند
قلندر جو کہ اپنے خاکی جسم اور مادی جہان کی تسخیر میں مصروف رہتے ہیں وہ اگرچہ بوریا نشین ہوتے ہیں پھر بھی بادشاہوں سے خراج وصول کرتے ہیں ۔ بادشاہوں کے تخت ان کے خوف سے کانپتے ہیں ۔
Qalandars, who to their sway water strive to win and clay, from the monarch tribute bear though the beggar’s robe they wear.
به جلوت اند و کمندی به مهر و مه پیچند
به خلوت اند و زمان و مکان در آغوشند
جب وہ قلندر بزم آرا ہوتے ہیں تو چاند اور سورج پر کمند پھینکتے ہیں (عوام الناس کے کام سنوارتے ہیں ) اور جب بزم تنہائی سجاتے ہیں تو زمان و مکان ان کی آغوش میں ہوتے (وہ خدا کی محبت میں غرق ہو جاتے ہیں ) ۔
They appear, and round the sun and the moon their rope is spun; they retire, and in their breast time and Space repose at rest.
بروز بزم سراپا چو پرنیان و حریر
بروز رزم خود آگاه و تن فراموشند
جس دن وہ بزم آراء ہوتے ہیں تو وہ حریر وپرنیاں جیسے ریشمی کپڑوں کی مانند نرم و گداز ہوتے ہیں (ہر دوست اور دشمن سے یکساں سلوک کرتے ہیں ) لیکن جب وہ میدان جنگ میں ہوتے ہیں وہ خود فراموشی کے عالم میں راہ ِ خدا میں اپنی جان قربان کر دیتے ہیں (آرزوئے شہادت میں وہ خود کو فراموش کر دیتے ہیں ) ۔
When the revel rules the day bright as shimmering silks are they; yet when battle is toward for the sacrifice prepared.
نظام تازه بچرخ دو رنگ می بخشند
ستاره های کهن را جنازه بر دوشند
قلندر دو رنگی گردش کرنے والے آسمان (جس سے دنیا میں انقلابات اور انسانی زندگی میں تغیرات آتے ہیں ) کو ایک نیا نظام دیتے ہیں ۔ اور یہ لوگ پرانے ستاروں کے جنازے کندھوں پر اٹھائے ہوئے رہتے ہیں ۔
A new order they devise for the broad and dappled skies, bear the ancient stars and all on their backs to funeral.
زمانه از رخ فردا گشود بند نقاب
معاشران همه سر مست بادهٔ دوشند
زمانے کی جدید ایجادات نے مستقبل کے چہرے سے پردہ ہٹا دیا ہے ۔ ترقی کے نئے راستے کھل رہے ہیں لیکن میرے ساتھ امت مسلمہ کے سب لوگ پرانی شراب میں مست و بے خود ہیں ۔
Time hath from her face untied morrow’s veil, to lay aside; yet to-day men still delight in the wine of yesternight.
بلب رسید مرا آن سخن که نتوان گفت
بحیرتم که فقیهان شهر خاموشند
میرے ہونٹوں تک وہ بات آ ہی گئی جو کہ نہیں کہی جا سکتی ۔ مجھے حیرت ہے کہ شہر کے علماء خاموش ہیں ۔ ( میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس دور کے علماء کس حال میں ہیں انہیں کیا ہو گیا ہے ۔ وہ قوم کو خوابِ غفلت سے جگانے کا فریضہ انجام کیوں نہیں دیتے)
Hovers on my lip the word that must never be declared; strange, the learned of the town silent are, nor even frown!
زمین
فارسی متن کا ماخذ: گنجور