صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 54

غزل شمارهٔ 54

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اختمرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

دو دسته تیغم و گردون برهنه ساخت مرا

فسان کشیده بروی زمانه آخت مرا

میں دونوں ہاتھوں سے چلانے والی تلوار ہوں اور آسمان نے مجھے بے نیام کر دیا (قدرت نے باطل کا مقابلہ کرنے کے لیے بے نیام کیا ہے) اور مجھے سان پر چڑھا کر زمانے پر چلا دیا ۔

A double-handled sword am I laid naked by the circling sky; fortune hath sharpened me in Space, and whetted me upon Time’s face.

2

من آن جهان خیالم که فطرت ازلی

جهان بلبل و گل را شکست و ساخت مرا

میں وہ خیالوں کا جہان ہوں کہ فطرت ازلی نے بلبل اور گل کا جہان توڑ کر مجھے تخلیق کیا (مجھ سے نرمی و نزاکت نکل کر مجھے تیز دھار تلوار بنا دیا ہے) ۔

I am the world of fantasy; the genius of eternity the world of nightingale and rose hath shattered, fashioning me for those.

3

می جوان که به پیمانه تو می ریزم

ز راوقی است که جام و سبو گداخت مرا

وہ جوان شراب جو میں تیرے پیالے میں انڈیل رہا ہوں اس شراب کے مٹکے سے ہے جس کی شراب نے میرے لیے پیالے اور مٹکے دونوں کو پگھلا دیا ہے ۔ یہ وہ شراب ہے جو دل عاشق گداز کر دیتی ہے ۔

The youthful wine to cheer the soul that I am pouring in the bowl is from the vat, whereby my jar and glass decanter molten are.

4

نفس به سینه گدازم که طایر حرمم

توان ز گرمی آواز من شناخت مرا

میں اپنے سانس کو اپنے سینے میں گداز کر رہا ہوں (ضبطِ نفس سے کام لے رہا ہوں )کیونکہ میں حرم کا پرندہ ہوں ۔ اور مجھے میری آواز کی گرمی کے ذریعے پہچانا جا سکتا ہے ۔

The breath is burning in my breast; the sanctuary is my nest, and men may recognize my throat by the great ardour of my note.

5

شکست کشتی ادراک مرشدان کهن

خوشا کسی که به دریا سفینه ساخت مرا

قدیم علما کی عقل و خردکی کشتی ٹوٹ گئی ہے ۔ خوش نصیب ہے وہ شخص کہ جس نے اس دریائے حیات میں مجھے اپنی کشتی بنایا ۔ (میرے خیالات و افکار سے استفادہ کیا) ۔

Wrecked is the barque the ancient guide built out of sense, therein to ride; blest is the one who fashioned me to be his vessel on the sea.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

قلندران که به تسخیر آب و گل کوشند

ز شاه باج ستانند و خرقه می پوشند

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 53

اگلی نظم

مثل شرر ذره را تن به تپیدن دهم

تن به تپیدن دهم بال پریدن دهم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 55

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چو تار چنگ، فلک چون نمی نواخت مرا

به حیرتم که چرا این قدر گداخت مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 609

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور