شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفتعلن فاعلن مفتعلن فاعلن (منسرح مطوی مکشوف)
قافیہ: یدندهم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
مثل شرر ذره را تن به تپیدن دهم
تن به تپیدن دهم بال پریدن دهم
میں ذرے کو چنگاری کی طرح تن گرم کرنے کا طریقہ دیتا ہوں ۔ اور اس بہانے میں دراصل اسے اڑنے والے پر عطا کرتا ہوں ۔ میرے کلام میں بے سوز شخص میں گرمیَ عشق پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور گرمیَ عشق اسے آسمان کی بلندیوں کی طرف جا نے کے طریقے بتاتی ہے ۔
Each atom’s body like a spark I set a quivering, each atom quivers through the dark and soars as on a wing.
سوز نوایم نگر ریزهٔ الماس را
قطرهٔ شبنم کنم خوی چکیدن دهم
میری نوا میں ایسا سوز ہے کہ جس سے الماس کے ٹکڑے شبنم کے قطروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں ٹپکنے کی عاد ت ہو جاتی ہے ۔
List to my music burning new! Each diamantine grain I fashion like a drop of dew to trickle soft as rain.
چون ز مقام نمود نغمهٔ شیرین زنم
نیم شبان صبح را میل دمیدن دهم
چونکہ میں مقام نمود سے میٹھا میٹھا نغمہ چھیڑ رہا ہوں ۔ اس لیے میں آدھی راتوں میں ہی صبح کو نمودار ہونے کی ترتیب دے دیتا ہوں ( میں اپنی شاعری میں زمانہَ تخلیق کی باتیں کر رہا ہوں جس طرح وجود باری تعالیٰ نے کائنات کو وجود بخش کر اسے نمود عطا کی اسی طرح میری شاعری سن کر ہر شخص میں فوری جذبہ عمل پیدا ہو رہا ہے ۔
From manifesting’s stage when break my soft, sweet melodies, even in the dead of night I make the dawn desire to rise.
یوسف گم گشته را باز گشودم نقاب
تا به تنک مایگان ذوق خریدن دهم
گم شدہ یوسف کا میں نے پھر سے نقاب ہٹایا ہے تا کہ کم حوصلہ لوگوں میں اسے خریدنے کا شوق پید اکروں ۔ جو لوگ مقصد حیات بھلا بیٹھے ہیں میں اپنی شاعری کے ذریعے مقصد کے حصول لیے لذت عمل کا سامان پیدا کر رہا ہوں ۔
Joseph, concealed from sight so long, I have revealed anew, that I may fire the needy throng his beauty to pursue.
عشق شکیب آزما خاک ز خود رفته را
چشم تری داد و من لذت دیدن دهم
صبر آزما عشق نے اپنے مقصد سے بے خبر آدمی کو آنسو دیئے ہیں اور آنسووَں سے بھیگی ہوئی آنکھوں میں محبوب کے دیدار کی لذت پیدا کی ہے ۔
Dear love that doth man’s patience try, to dust in ecstasy hath given eyes to weep, and I the wondrous joy to see.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور