صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 56

غزل شمارهٔ 56

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: اییها

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

خودی را مردم‌آمیزی دلیل نارسایی‌ها

تو ای درد آشنا بیگانه شو از آشنایی‌ها

خود کو پہچان لینے والے شخص کا عام لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا اس کی منزل مقصود تک نہ پہنچنے کی دلیل ہے ۔ اے درد آشنا تو آشنائی کی عادت چھوڑ دے (خودی کو پا لینے والا شخص خدا آشنا بھی ہو جاتا ہے اور وہ ہجومِ آدم میں گم نہیں ہوتا بلکہ بروقت یاد خدا میں مصروف نظر آتا ہے) ۔

Ever to be about with men proveth the self doth not attain; to friends be thou a stranger, then, who art familiar with pain.

2

به درگاه سلاطین تا کجا این چهره‌سایی‌ها

بیاموز از خدای خویش ناز کبریایی‌ها

تو بادشاہوں کے درباروں میں کب تک ذلیل و خوار ہوتا رہے گا ۔ ان کی چوکھٹ پر کب تک ماتھا رگڑتا رہے گا ۔ آ اور اپنے خدا سے کبریائی کا ناز سیکھ ۔

How long before the palace gate of princes wilt thou bow thy face? From God, Who did thy soul create, learn thou the pride of matchless grace.

3

محبت از جوانمردی به جایی می‌رسد روزی

که افتد از نگاهش کاروبار دلربایی‌ها

ایک دن ایسا آئے گا کہ محبت اپنی جواں مردی کے باعث اپنے صحیح مقام پر پہنچ جائے گی ۔ اور دلربائی کا کاروبار اس کی نگاہوں میں گر جائے گا ۔

The warrior’s love will come one day to such a point of excellence that notice he will no more pay to mortal beauty’s blandishments.

4

چنان پیش حریم او کشیدم نغمهٔ دردی

که دادم محرمان را لذت سوز جدایی‌ها

میں نے اس محبوب کے گھر کے سامنے اس طرح درد کے گیت گائے کہ میں نے محرموں کو جدائی کی مختلف صورتوں کی لذت عطا کر دی ۔ جدائی میں جو درد بھرے گیت میں نے گائے انہیں سن کر اہل عشق کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ وصل محبوب سے ہجر کی لذت زیادہ ہے ۔

I sang before the sanctuary so sad a song of heart’s desire, that each initiate learned from me the joy of separation’s fire.

5

از آن بر خویش می‌بالم که چشم مشتری کور است

متاع عشق نافرسوده ماند از کم‌روایی‌ها

مجھے اپنے آپ پر اس لیے فخر ہے کہ گاہک کی آنکھ اندھی ہے ۔ متاع عشق اس کے عام عمل دخل کی بدولت بے آبرو نہ ہوئی (عشق کا ہر کوئی خریدار نہیں ہو سکتا) ۔

Unseeing are the buyers’ eyes, and I rejoice and jubilate because Love’s precious merchandise remaineth still immaculate.

6

بیا بر لاله پا کوبیم و بی‌باکانه می نوشیم

که عاشق را بحل کردند خون پارسایی‌ها

آ کہ لالہ کے پھول پر رقص کریں اور دنیا سے بے پرواہ ہو کر شراب عشق پئیں ۔ کیونکہ پارسائی کا خون کرنا عاشقوں پر حلال ہے ۔

Come, let us on the tulip tread and drink the wine-cup fearlessly; lawful it is, if lovers shed the blood of ancient piety.

7

برون آ از مسلمانان گریز اندر مسلمانی

مسلمانان روا دارند کافر ماجرایی‌ها

نام نہاد مسلمانوں کے گروہ سے باہر آ جا ۔ اور اصل مسلمانی اختیار کر لے کیونکہ موجودہ دور کے مسلمانوں نے تو اسلام کو چھوڑ کر کافری طریقے اپنا رکھے ہیں ۔ (ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ) ۔

Go forth from Muslim company, and in Islam thy refuge take; for Muslims count as equity the measures infidel they make.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مثل شرر ذره را تن به تپیدن دهم

تن به تپیدن دهم بال پریدن دهم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 55

اگلی نظم

چون چراغ لاله سوزم در خیابان شما

ای جوانان عجم جان من و جان شما

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 57

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به داغ غربتم واسوخت آخر خودنمایی‌ها

برآورد از دلم چون ناله اظهار رسایی‌ها

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 323

پس از عمری که فرسودم به مشق پارسایی‌ها

گدا گفت و به من تن درنداد از خودنمایی‌ها

غالب دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 43

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور