چون چراغ لاله سوزم در خیابان شما
ای جوانان عجم جان من و جان شما
میں تمہارے باغ کی روش پر لالہ کے پھول کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں ۔ اے عجم کے نوجوانو مجھے اپنی اور تمہاری جان کی قسم ہے کہ میں ہر وقت تمہارے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں ۔
Like a tulip’s flame I burn in your presence as I turn; by my life, and yours, I swear youth of Persia ever fair!
غوطهها زد در ضمیر زندگی اندیشهام
تا به دست آوردهام افکار پنهان شما
میری سوچ نے زندگی کے ضمیر کے دریا میں بہت غوطے لگائے ہیں تب کہیں جا کر مجھے تمہارے پوشیدہ خیالات (قوم کے نوجوانوں کے مسائل اور ان کا حل ) معلوم ہوئے ہیں ۔
I have dived, and dived again with my thoughts into life’s brain until I prevailed to find every secret of your mind.
مهر و مه دیدم نگاهم برتر از پروین گذشت
ریختم طرح حرم در کافرستان شما
میں نے سورج اور چاند کا مشاہدہ کیا حتیٰ کہ میری نگاہ پرواز پروین سے بھی آگے نکل گئی ۔ میں نے کافی سوچ بچار کے بعد تمہارے کافرستان میں کعبہ کی بنیاد رکھ دی ہے ۔
Sun and moon – I gazed on these far beyond the Pleiades, and rebuilt a sanctuary in your infidelity.
تا سنانش تیز تر گردد فرو پیچیدمش
شعلهای آشفته بود اندر بیابان شما
تا کہ اس کی نوک اور تیز ہو جائے اس لیے میں نے اسے لپیٹ لیا ۔ یعنی اس شعلہ آشفتہ کو ادھر ادھر سے لپیٹ کر اکھٹا کر دیا ۔ وہ شعلہ جو تمہارے بیابان میں اب تک آوارہ تھا ۔ اے عجم کے نوجوانو میں نے تمہارے پراگندہ خیالات کو یکجا کر کے ایک صحیح نقطہ پر مرکوز کر دیا ہے ۔
I have twisted well the blade till its edge was sharper made; pale the gleam and lusterless wasted in your wilderness.
فکر رنگینم کند نذر تهیدستان شرق
پارهٔ لعلی که دارم از بدخشان شما
وہ لعل کا ٹکڑا جو میں نے تمہارے بدخشاں (قدیم اسلامی علوم ) سے حاصل کیا؛ اسے میں نے فکر رنگیں کی صورت خالی ہاتھ مشرقیوں کی نظر کر دیا ہے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
My thought’s images dispense to the Orient’s indigence the bright ruby that I gain from your mines of Badakhshan.
میرسد مردی که زنجیر غلامان بشکند
دیدهام از روزن دیوار زندان شما
وہ مرد آ رہا ہے جو غلاموں کی زنجیریں توڑ کر انہیں آزادی دلائے گا ۔ میں نے تمہارے قید خانہ کی دیوار کے روشن دان سے اسے دیکھا ہے ۔
Comes the man, to free at last slaves confined in fetters fast; through the windows in the wall of your prison I see all.
حلقه گرد من زنید ای پیکران آب و گل
آتشی در سینه دارم از نیاکان شما
اے مٹی اور پانی کے بنے ہوئے لوگو (بے سوز اجسام والو) آوَ اور میرے گرد حلقہ بناوَ ۔ میری صحبت میں آ کر مٹی میں آگ پیدا کرنے کا فن سیکھو ۔ اور اپنے مردہ اجسام میں سوز و گداز پیدا کر کے اسے زندگی عطا کر دو ۔ میں اپنے سینے میں جو آگ رکھتا ہوں وہ میں نے تمہارے اسلاف سے لی ہے ۔
Make a ring about me now; in my breast a fire’s aglow that your forebears lit one day, things of water and of clay.
زمین
ای جگرها داغدار شوق پیکان شما
چاکهای دل نیام تیغ مژگان شما
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 205
شور صد صحرا جنونگرد نمکدان شما
ای قیامت صبحخیز لعل خندان شما
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 206
ای همه آیات قدرت ظاهر از شان شما
کارهای مشکل آفاق آسان شما
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 207
ای فروغِ ماهِ حُسن، از روی رخشان شما
آبِروی خوبی از چاه زَنَخدان شما
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 12
فارسی متن کا ماخذ: گنجور