دم مرا صفت باد فرودین کردند
گیاه را ز سرشکم چو یاسمین کردند
قدرت نے میری سانسوں کی بہار کی ہوا کی مانند کر دیا ہے اور میرے اشکوں سے گھاس کو یاسمین کے پھولوں کی مانند کر دیا ۔ (میرے کلام کی تاثیر نے قارئین کے قلب و نظر میں انقلاب برپا کر دیا ہے) ۔
Soft my breath doth pass soft as April airs; Jasmine-sweet the grass springeth from my tears.
نمود لالهٔ صحرا نشین ز خونابم
چنانکه بادهٔ لعلی به ساتگین کردند
صحرا کے گل لالہ کی نمود میرے خالص خون کی آبیاری سے ہوئی ہے کیونکہ میری صراحی میں لعل کی مانند عمدہ افکار کی سرخ شراب ڈالی گئی ہے ۔
Desert tulip glows with the blood I shed as in beaker shews wine all ruby-red.
بلند بال چنانم که بر سپهر برین
هزار بار مرا نوریان کمین کردند
میری پرواز اتنی بلند ہے کہ آسمان کی وسعتوں میں فرشتوں نے مجھے پکڑنے کے لیے ہزار گھات لگائی ہے (لیکن میری سوچ کی بلندی کے باعث فرشتے مجھ سے پیچھے رہ گئے) ۔
Soareth so my flight o’er the highest sphere that the souls of light seek to trap me there.
فروغ آدم خاکی ز تازه کاریهاست
مه و ستاره کنند آنچه پیش ازین کردند
آدم خاکی کی آب و تاب اس کے نئے نئے کام کرنے اور نئی ایجادات کے باعث ہے ۔ جبکہ چاند اور ستارے اپنی پرانی روش پر چل رہے ہیں ۔ وہی کر رہے ہیں جو کاتب تقدیر نے ازل سے ان کی تقدیر میں لکھ دیا ہے ۔
Labours ever new make man’s dust to glow; moon and star still do as long time ago.
چراغ خویش بر افروختم که دست کلیم
درین زمانه نهان زیر آستین کردند
میں نے اب اپنے اسلاف کے افکار کے احیا کے لیے اپنا چراغ روشن کیا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے ہاتھ کو جو ان کی آستین سے نکلتا تھا ۔ قدرت نے اسے موجودہ دور میں آستین میں چھپا دیا ہے ۔
My self’s lamp I lit, now that Moses’ hand men have hidden it ’neath the wristlet-band.
درآ به سجده و یاری ز خسروان مطلب
که روز فقر نیاکان ما چنین کردند
اپنی حاجات روائی کے لیے خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو جا ۔ اسی سے مدد طلب کر اور بادشاہوں کی دوستی سے کوئی مطلب نہ رکھ ۔ کیونکہ ہمارے اسلاف نے اپنی حاجت روائی کے لیے ہمیشہ خدا ہی سے رجوع کیا ہے ۔
Come, O come to prayer; court no prince’s door: so our fathers were when the world was poor.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور