صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 58

غزل شمارهٔ 58

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ینکردند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

دم مرا صفت باد فرودین کردند

گیاه را ز سرشکم چو یاسمین کردند

قدرت نے میری سانسوں کی بہار کی ہوا کی مانند کر دیا ہے اور میرے اشکوں سے گھاس کو یاسمین کے پھولوں کی مانند کر دیا ۔ (میرے کلام کی تاثیر نے قارئین کے قلب و نظر میں انقلاب برپا کر دیا ہے) ۔

Soft my breath doth pass soft as April airs; Jasmine-sweet the grass springeth from my tears.

2

نمود لالهٔ صحرا نشین ز خونابم

چنانکه بادهٔ لعلی به ساتگین کردند

صحرا کے گل لالہ کی نمود میرے خالص خون کی آبیاری سے ہوئی ہے کیونکہ میری صراحی میں لعل کی مانند عمدہ افکار کی سرخ شراب ڈالی گئی ہے ۔

Desert tulip glows with the blood I shed as in beaker shews wine all ruby-red.

3

بلند بال چنانم که بر سپهر برین

هزار بار مرا نوریان کمین کردند

میری پرواز اتنی بلند ہے کہ آسمان کی وسعتوں میں فرشتوں نے مجھے پکڑنے کے لیے ہزار گھات لگائی ہے (لیکن میری سوچ کی بلندی کے باعث فرشتے مجھ سے پیچھے رہ گئے) ۔

Soareth so my flight o’er the highest sphere that the souls of light seek to trap me there.

4

فروغ آدم خاکی ز تازه کاریهاست

مه و ستاره کنند آنچه پیش ازین کردند

آدم خاکی کی آب و تاب اس کے نئے نئے کام کرنے اور نئی ایجادات کے باعث ہے ۔ جبکہ چاند اور ستارے اپنی پرانی روش پر چل رہے ہیں ۔ وہی کر رہے ہیں جو کاتب تقدیر نے ازل سے ان کی تقدیر میں لکھ دیا ہے ۔

Labours ever new make man’s dust to glow; moon and star still do as long time ago.

5

چراغ خویش بر افروختم که دست کلیم

درین زمانه نهان زیر آستین کردند

میں نے اب اپنے اسلاف کے افکار کے احیا کے لیے اپنا چراغ روشن کیا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے ہاتھ کو جو ان کی آستین سے نکلتا تھا ۔ قدرت نے اسے موجودہ دور میں آستین میں چھپا دیا ہے ۔

My self’s lamp I lit, now that Moses’ hand men have hidden it ’neath the wristlet-band.

6

درآ به سجده و یاری ز خسروان مطلب

که روز فقر نیاکان ما چنین کردند

اپنی حاجات روائی کے لیے خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو جا ۔ اسی سے مدد طلب کر اور بادشاہوں کی دوستی سے کوئی مطلب نہ رکھ ۔ کیونکہ ہمارے اسلاف نے اپنی حاجت روائی کے لیے ہمیشہ خدا ہی سے رجوع کیا ہے ۔

Come, O come to prayer; court no prince’s door: so our fathers were when the world was poor.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چون چراغ لاله سوزم در خیابان شما

ای جوانان عجم جان من و جان شما

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 57

اگلی نظم

گذر از آنکه ندیدست و جز خبر ندهد

سخن دراز کند لذت نظر ندهد

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 59

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خطاب طلعت تو نامه زمین کردند

فرشتگان همه بر رویت آفرین کردند

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 946

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور