شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: رندهد
صنف: غزل/قصیده/قطعه
گذر از آنکه ندیدست و جز خبر ندهد
سخن دراز کند لذت نظر ندهد
ایسی عقل سے کنارہ کشی اختیار کر لے جس میں حقیقت شناسی نہیں اور جو سوائے ظاہری باتوں کے اور کسی چیز کی خبر نہیں دیتی ۔ وہ بات تو طویل کرتی ہے لیکن نظر کی لذت (حقیقی شناسی) پیدا نہیں کرتی ۔
Leave him who never won to sight, and bears report alone; who makes long speech, but the delight of vision gives to none.
شنیده ام سخن شاعر و فقیه و حکیم
اگرچه نخل بلند است برگ و بر ندهد
میں نے شاعروں ، حکیموں اور فقیہوں کی بات سنی ہے اور ان کی بات ایسے طویل درختی کی مانند جو پتے نہیں نکالتا اور نہ ہی پھل دیتا ہے ۔ (ان کی باتوں سے روح کو تسکین اور دل کو روحانی غذا نہیں ملتی ۔ )
To bard and scholar listened I, philosopher to boot; although their palm is proud and high, it yields nor leaf nor fruit.
تجلئی که برو پیر دیر می نازد
هزار شب دهد و تاب یک سحر ندهد
وہ تجلی جس پر کہ زمانے کا بوڑھا یعنی لاکھوں سال پرانا زمانہ ناز کرتا آ رہا ہے وہ ہزاروں راتیں تو دیتی ہے لیکن ایک صبح کی چمک نہیں دیتی (عقل کی روشنی سے حقیقت تلاش نہیں کی جا سکتی) ۔
The gleam that hoary acolyte so prides himself upon reveals a thousand shades of night, but never glow of dawn.
هم از خدا گله دارم که بر زبان نرسد
متاع دل برد و یوسفی به بر ندهد
مجھے تو خدا سے بھی شکایت ہے لیکن زبان تک نہیں آتی ۔ وہ دل کی دولت تو لے جاتا ہے لیکن اس کے بدلے میں یوسف کو پہلو میں نہیں دیتا (اس نے دل کے بدلے اپنا جلوہ ابھی تک نہیں دکھایا) ۔
I have a charge ’gainst God to lay that still I keep concealed; he takes my precious heart away, and Joseph does not yield.
نه در حرم نه به بتخانه یابم آن ساقی
که شعله شعله ببخشد شرر شرر ندهد
میں وہ ساقی نہ حرم میں دیکھتا ہوں نہ ہی صنم کدہ میں جو قطرہ قطرہ شراب پلانے کی بجائے دریا کے دریا پلا دے ۔ مطلب یہ کہ مسجد و مندر کہیں بھی فائدے کی بات نہیں ہوتی ۔
Neither in idol-house nor shrine that saki I can find to grant, no ember’s fitful shine, but splendour unconfined.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور