صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 59

غزل شمارهٔ 59

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: رندهد

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

گذر از آنکه ندیدست و جز خبر ندهد

سخن دراز کند لذت نظر ندهد

ایسی عقل سے کنارہ کشی اختیار کر لے جس میں حقیقت شناسی نہیں اور جو سوائے ظاہری باتوں کے اور کسی چیز کی خبر نہیں دیتی ۔ وہ بات تو طویل کرتی ہے لیکن نظر کی لذت (حقیقی شناسی) پیدا نہیں کرتی ۔

Leave him who never won to sight, and bears report alone; who makes long speech, but the delight of vision gives to none.

2

شنیده ام سخن شاعر و فقیه و حکیم

اگرچه نخل بلند است برگ و بر ندهد

میں نے شاعروں ، حکیموں اور فقیہوں کی بات سنی ہے اور ان کی بات ایسے طویل درختی کی مانند جو پتے نہیں نکالتا اور نہ ہی پھل دیتا ہے ۔ (ان کی باتوں سے روح کو تسکین اور دل کو روحانی غذا نہیں ملتی ۔ )

To bard and scholar listened I, philosopher to boot; although their palm is proud and high, it yields nor leaf nor fruit.

3

تجلئی که برو پیر دیر می نازد

هزار شب دهد و تاب یک سحر ندهد

وہ تجلی جس پر کہ زمانے کا بوڑھا یعنی لاکھوں سال پرانا زمانہ ناز کرتا آ رہا ہے وہ ہزاروں راتیں تو دیتی ہے لیکن ایک صبح کی چمک نہیں دیتی (عقل کی روشنی سے حقیقت تلاش نہیں کی جا سکتی) ۔

The gleam that hoary acolyte so prides himself upon reveals a thousand shades of night, but never glow of dawn.

4

هم از خدا گله دارم که بر زبان نرسد

متاع دل برد و یوسفی به بر ندهد

مجھے تو خدا سے بھی شکایت ہے لیکن زبان تک نہیں آتی ۔ وہ دل کی دولت تو لے جاتا ہے لیکن اس کے بدلے میں یوسف کو پہلو میں نہیں دیتا (اس نے دل کے بدلے اپنا جلوہ ابھی تک نہیں دکھایا) ۔

I have a charge ’gainst God to lay that still I keep concealed; he takes my precious heart away, and Joseph does not yield.

5

نه در حرم نه به بتخانه یابم آن ساقی

که شعله شعله ببخشد شرر شرر ندهد

میں وہ ساقی نہ حرم میں دیکھتا ہوں نہ ہی صنم کدہ میں جو قطرہ قطرہ شراب پلانے کی بجائے دریا کے دریا پلا دے ۔ مطلب یہ کہ مسجد و مندر کہیں بھی فائدے کی بات نہیں ہوتی ۔

Neither in idol-house nor shrine that saki I can find to grant, no ember’s fitful shine, but splendour unconfined.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دم مرا صفت باد فرودین کردند

گیاه را ز سرشکم چو یاسمین کردند

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 58

اگلی نظم

در این صحرا گذر افتاد شاید کاروانی را

پس از مدت شنیدم نغمه های ساربانی را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 60

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور