صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »«شاخ نهال سدره‌ای خار و خس چمن مشو»

«شاخ نهال سدره‌ای خار و خس چمن مشو»

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: نمشو

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

«شاخ نهال سدره‌ای خار و خس چمن مشو»

«منکر او اگر شدی منکر خویشتن مشو»

تم درخت سدرہ کی شاخ ہو ، اپنے آپ کو باغ کے خار و خس نہ بنا؛ اگر اللہ تعالیٰ کے منکر ہو تو کم از کم اپنی عظمت کا تو انکار نہ کر ۔

Branch of the Sidra tree thou art; be not the meadow’s straw and thorn: Though thou deniest Him in thy heart, hold not thy Self in faithless scorn.

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

کجا چشمی که بیند آن تماشائی که من دارم

علامہ اقبال»زبور عجم»حصهٔ دوم (غزلیات)»دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور