صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: اییکهمندارم

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری، مستنصر میر
Toggle stanza 1
1

دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

کجا چشمی که بیند آن تماشائی که من دارم

میرے پاس جو شراب ہے اس سے دونوں جہانوں کی حقیقت سمجھی جا سکتی ہے ۔ جو تماشا میرے اشعار میں موجود ہے ایسی (بصیرت) کی آنکھ کہاں ہے جو اسے دیکھ لے ۔

Both worlds may be seen in the wine-pitches I have! Where is the eye to view the sights I see?

Translation: مستنصر میر

2

دگر دیوانه ئی آید که در شهر افکند هوئی

دو صد هنگامهٔ خیزد ز سودائی که من دارم

(میری شخصیت کی صورت میں ) ایک اور دیوانہ اس شہر میں آیا ہے جو اللہ والوں کی بات کرتا ہے ۔ جو سودا (عشق کا جنون) میں رکھتا ہوں اس سے دو ہنگامے برپا ہوتے ہیں ( میں اپنے کلام کے ذریعے لوگوں میں زندگی کی تڑپ پیدا کر سکتا ہوں ) ۔

There will come another man, possessed, who will shout ‘hu’ in the city; two hundred commotions will arise from the obsession I have.

Translation: مستنصر میر

3

مخور نادان غم از تاریکی شبها که میآید

که چون انجم درخشد داغ سیمائی که من دارم

اے نادان راتوں کے اندھیرے جو تیری راہ میں حائل ہیں ان کا غم کھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جو داغ میں اپنی پیشانی میں رکھتا ہوں وہ ستارے کی مانند چمکتا ہے (میرے افکار کی روشنی تجھے راستہ دکھائے گی) ۔

Do not worry, ignorant one, at the approaching darkness of nights; for the scar of my forehead sparkles like stars.

4

ندیم خویش میسازی مرا لیکن از آن ترسم

نداری تاب آن آشوب و غوغائی که من دارم

تو مجھے اپنا دوست بنا رہا ہے لیکن مجھے اس بات سے ڈر لگ رہا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ تو میرے اس ہنگامے اور طوفان کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا (میرے ساتھ تو وہی رفیق سفر ہو سکتا ہے جو باہمت اور دلیر ہو تاکہ میرے پیغام پر عمل کیا جا سکے) ۔

You take me as your companion, but I am afraid that you are not up to the tumult and uproar I have raised.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

«شاخ نهال سدره‌ای خار و خس چمن مشو»

«منکر او اگر شدی منکر خویشتن مشو»

علامہ اقبال»زبور عجم»حصهٔ دوم (غزلیات)»«شاخ نهال سدره‌ای خار و خس چمن مشو»

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور