صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ غزل/قصیده/قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میرے بے قابو دل نے (جس کا ایمان پختہ نہیں تھا) نورِ ایمان کے ساتھ ارتکاب کفر کیا ہے ۔ اسی وجہ سے میری حالت یہ ہے کہ میں سجدہ ریز تو خدا کے حضور ہوں لیکن غلامی بتوں کی کر رہا ہوں ۔ میرا دل خدا پر ایمان لانے کے باوجود دنیا کی آلائشوں سے پاک نہیں ہے ۔
Against the light, an infidel, my heart, unfettered, doth rebel; it bows before God’s sanctuary and idols serves, indifferently.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 26
میں نے اپنی شاعری میں (روایت سے ہٹ کر) باتیں کی ہیں ۔ کوئی بھی یہ باتیں پسند نہیں کرتا ۔ میرے جلوے یعنی مضامین کا خون بہہ گیا اور ایک بھی نگاہ اس کے نظارے کے لیے نہ پہنچی ( میں نے ایسے ایسے نئے مضامین پیدا کئے ہیں جنھیں لوگ پڑھنا گوارا نہیں کرتے) ۔
I uttered a new word, but there was none that heard; vision to rapture grew, but glance was none to view.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 26
اے خدا! تو حشر کے روز مجھ سے نالہَ مستانہ کی خواہش کیوں رکھتا ہے ۔ جبکہ اس دن تو ساری بزم ہی تیرے ہنگامے سے بھری ہو گی ۔ پھر تو مجھ سے یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس ہنگامے میں اپنی شاعری کے ذریعے اور تیزی پیدا کروں ۔
Why in the concourse dost Thou seek the poet’s wild, ecstatic shriek, or lookest for another’s riot, whose heart is troubled and unquiet?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 27
اسے عاشق نہیں کہتے جو اپنے لبوں سے نالہ و شیون کرتا ہے ۔ بلکہ عاشق تو وہ ہے جو دونوں جہان اپنی ہتھیلی پر رکھتا ہے (سچا عاشق نالہ و فریاد نہیں کرتا بلکہ وہ تو اپنے عشق سے دنیا پر حکمرانی کرتا ہے) ۔
Never lover true is he who lamenteth dolefully; lover he, who in his bold hath the double world controlled.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 27
میری حالت یہ ہے کہ نہ تو میرے اندر کفر اور ایمان کی جنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی اپنی جان جنت کے باغ کی آرزو میں غموں کے حوالے کرتا ہوں ۔
Faith and infidelity fight not for the mind of me; no delights of Paradise do my stricken soul entice.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 28
اس چمن میں رہنے والے پرندوں کا دل لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے ۔ پرندہ اگر شاخ پر بیٹھا ہو تو اس کا دل اور ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے گھونسلے میں ہو تو پھر دل اور ہوتا ہے ۔ اہلِ دنیا کے دل حرص و ہوس کے تابع ہوتے ہیں جبکہ مردانِ حق اللہ کے طالب ہوتے ہیں ) ۔
In the heart of the birds, that range this garden, is ever change; ‘Tis one with the rose at breast, an other within the nest.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 28
(اے ربِ کائنات) ایک خوش الحان پرندہ ہو یا شکار کرنے والا ایک باز ۔ دونوں تیری ہی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ اس زندگی میں نو ر اور نار کے جو راستے نظر آتے ہیں وہ بھی تیری ہی تخلیق ہیں (ہر چیز میں تیرے ہی جلوے نمایاں ہیں ) ۔
Thine is the hawk upon the wing and thine the thrush sweet-carolling, thine is the light and joy of life and thine its fire and baneful strife.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 29
ہم خدا کے پاس سے گم ہو چکے ہیں ۔ اور وہ ہماری تلاش میں ہے ۔ ہماری طرح وہ بھی ملنے کا نیازمند ہے ۔ اور خواہشوں کا قیدی ہے ۔
We are gone astray from God; he is searching upon the road, for like us, He is need entire and the prisoner of desire.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 29
ہزار ہا قسم کی نیکی اور پارسائی سے عاشقی کے راستے پر ایک قدم رکھنا بہتر ہے ۔
One step on friendship’s road fairer I see than the moat pressing load of piety.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 30
سرمایہ دار مزدوروں کی سخت محنت سے خالص ہیرا بنا رہا ہے (مزدور کا خون چوس چوس کر دولت مند ہوتا جا رہا ہے ) گاؤں کے خداؤں کے جبر سے کسانوں کے کھیت اُجڑ گئے ہیں (وہ خود وڈیرے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ) اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
Of the hirelings’s blood outpoured, lustrous rubies makes the lord; tyrant squire to swell his wealth desolates the peasant’s tillth.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 30
میرے دل کی جہان پر اس کی حملہ آوری کے انداز تو دیکھو ۔ اور مجھے مارنے اور جلانے کے بعد مجھے بنانے اور سنوارنے کا عمل بھی دیکھو ۔ مطلب یہ کہ اس کا مارنا اور جلانا میری بہتری کے لیے ہے ۔
In my heart’s empire, see how He rides spitefully, rides with imperious will to ravage, and to kill!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 31
اگرچہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو (اے محبوب) ایک روز بے نقاب میرے سامنے آ جائے گا ۔ لیکن تو یہ نہ سمجھ کہ اس طرح میری جان اضطراب و بے چینی سے نجات حاصل کر لے گی ۔ (کیونکہ عشق میں ہجر و وصال دونوں ہی بے قراری کا سبب بنے رہتے ہیں ) ۔
Although the soul, I know, one day unveiled shall be, think not it shall be so by writhing endlessly.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 31
ابھی تک راہِ طلب میں میرا بوجھ کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے ۔ مطلب یہ کہ دل میں طلب تو ہے لیکن سامانِ سفر موجود نہیں ۔ کیونکہ میں تو کارواں ، سامانِ سفر اور منزل کے تصورات میں ہی الجھا ہوا ہوں ۔ حالانکہ منزلِ عشق کے لیے مادی اسباب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔
Upon the road of high desire my load yet lieth in the mire, because my heart would still engage with trappings, caravan, and stage.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 32
اس دنیا کی خوشی اور خاموشی کی پرواہ کیے بغیر زندہ دلی سے وقت گزارے (زندگی کی تکالیف خندہ پیشانی سے برداشت کرے) اور تیرے راستے میں جو چیز بھی آئے اس سے مسکراتے ہوئے گزر جا ۔
Whether the world be foul or fair, with a smile fare on; forth from the nest, the cage, the snare, the bower, be gone!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 32
موسم سرما ختم ہو گیا ہے اور درختوں کی شاخوں پر نئے گیت زندہ ہو گئے ہیں ۔
The days are ended of winter long; the branches quiver with living song.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 33
زندگی کا فلسفہ اپنی سیپ کے اندر موتی بنانا ہے ۔ شعلہ کے دل میں اتر جانا ہے اور اس آگ عشق میں پگھلنا نہیں (بلکہ اس مٹی کو کندن بنانا ہے) ۔
What is this life? A pearl in thy own shell to bear, in the flame’s heart to hurl thyself, nor melt to air.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 33
مجھے گھر کی آرزو ہے اور نہ منزل کی ۔ میں تو ہر شہر میں ایک اجنبی کی طرح گزرتا ہوں اور راستے میں بھٹک رہا ہوں (اہل عشق کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا) ۔
At home to loiter never did me please, A rover I, stranger in every land.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 34
میں نے اس بند دروازے کے گنبد میں ایک راستہ ڈھونڈ لیا ہے ۔ کیونکہ میری صبح صادق کی آہ میرے خیال سے بھی زیادہ بلند پرواز ہے ۔
Beyond heaven’s shuttered dome I have found a way to come where swifter than thought may fly the breath of a morning sigh.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 34
میں تو ساقی میکدہ کی مست آنکھوں سے شراب پی کر مست ہو گیا ہوں میں (ظاہری) شراب پئے بغیر ہی نشہ میں چور ہوں ۔ نشہ میں چور ہوں ۔
By the Saki’s eye heart-enflamed I lie; drunk without wine – O delight divine!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 35
میں گناہگار تو ہوں لیکن غیور ہوں ۔ محنت کے بغیر مزدوری لینا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ میرے سینے میں اس بات کا داغ ہے کہ قدرت نے اس کی (ابلیس) کی تقدیر سے میری تقصیر وابستہ کر دی ہے (آدمی گناہ کرنے کے بعد اسے ابلیس کی کارستانی قرار دیتا ہے اور خود جنت کا حقدار بن جاتا ہے) ۔
A sinner proud am I; no need I take, except I work for it; I rage, because men say He writ predestinate my wilful deed.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 35
اے میرے محبوب! تو نے اپنے رخ روشن سے میری رات کو صبح میں بدل دیا ہے ۔ چونکہ تو آفتابی چہرہ رکھتا ہے اور آفتاب کا کام دنیا کو روشنی عطا کرنا ہے ۔ اس لیے تو بھی میرے سامنے بے حجاب ہو کر آ ۔
Thou didst turn my night to dawning; O Thou sun of presence bright, like the sun Thou art in brightness, light unveiled, most worthy light!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 36
یہ جہان اندھا ہے اور دل کے آئینے کی صفائی سے غفلت میں پڑا ہوا ہے (اس دل کے آئینے میں نہ صرف خارجی جہاں کا عکس موجود ہے بلکہ معرفت حق بھی جلوہ گر ہو سکتی ہے) لیکن جہان کی توجہ تو خارجی اسباب پر ہے اور جو آنکھ کہ باطن کو دیکھنے والی بن گئی اسے معلوم ہو گیا کہ دل کیا چیز ہے ۔
The world had lost its sight and the glass of the heart forsook, but an eye now sees the light that into the heart can look.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 36
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا؛ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
None other in this tavern is, Saki, to share my mysteries; am I the first (O who can tell) conceived in heaven, on earth to dwell?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 37
تو اس دنیا میں اپنے سوا کوئی ایسا دوست نہیں پائے گا جو تیرے دل کی ناز برداری کرنا جانتا ہو ۔ اس لیے تو اپنے آپ میں گم ہو کر بازی عشق کے ناموس کی رکھوالی کر ۔
No friend in the world entire thou wilt find sincere in solicitude go, lose thyself in thy self, and mind the honour of loverhood.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 37
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا۔ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
Tell me this: what is Thy share in this world of pain and care? Knowest Thou the spirit’s smart? Hast Thou an uneaseful heart?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 38
جو علم تو سیکھ رہا ہے وہ نگاہِ باطن کا شیدائی نہیں ۔ وہ راہ میں تھکن سے چور ہو کر بیٹھ جانے والا ہے راستہ طے نہیں کر سکتا ۔ اس علم میں خود کو یا خدا کو پہچاننے والی آنکھ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔
The fine science thou dost learn after vision does not yearn; ‘tis no wanderer far astray, but a straggler on the way.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 38
اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔
If a sight causes loss of self, it is better hidden from view: I do not accept the deal, Your price is too high.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 39
صبح کے سورج کی مانند نگاہِ حق شناس پیدا کی جا سکتی ہے اور اسی جسم خاکی کو محبوب کی جلوہ گاہ بنایا جا سکتا ہے ۔ نگاہِ حق شناس جب جسم خاکی میں پیدا ہو جائے تو اس کے نور سے دنیا کو بھی منور کیا جا سکتا ہے ۔
Vision can be won as of morning sun, making this dark clay radiant as day.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 39
اے انسان تیرے نور کے جلووَں سے ہر شے وجود میں آئی ہے ۔ تیرے نور کے ان جلووَں کے باعث کائنات کے اسرار و رموز کا پتہ چلا ہے ۔ دریا ہو، جنگل ہو ، آبادی ہو، سورج ہو یا چاند ہو سب کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے اور فطرت کے تمام پوشیدہ اسرار پر سے پردہ ہٹا دیا ہے ۔
Thy light defineth all things one by one: black, white, sea, mountain, valley, moon and sun;
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 40
تو نے اے مسلمان غیروں کی صحبت اختیار کر کے ان کے افکار و خیالات کی متواتر شراب پی ہے ۔ تو نے غیروں کے نور سے مسلسل اپنے دل کے پیالے کو روشن کیا ہے ۔ غیروں کے افکار چھوڑ کر اپنے دین کی طرف لوٹ جا ۔
Too oft was thy light with strangers to take wine, to suffer others’ light within the bowl to shine.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 40
اے خدا مجھے ایسا دل عطا کر دے کہ جس کی مستی اس کی اپنی ہی شراب ہو ۔ مجھ سے وہ دل واپس لے لے کہ جو مدہوش بے خبر اور اپنی بجائے غیروں کے بارے میں سوچتا ہو ۔
Give me the heart whose rapture fine flames from a draught of its own wine, and take the heart that, self-effaced, by alien fancy is embraced.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 41
عشق جستجو کرتا رہا اور اس کی اس جستجو کا حاصل آدم ہے ۔ اس لیے عشق نے اپنا جلوہ آب و گل یعنی جسم خاکی کے پردے سے ظاہر کیا ۔
Love went searching thro’ the earth until Adam came to birth; out of water, out of clay manifested his display.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 41
اے محبوب میرا کل سازوسامان تو مٹھی بھر خاک ہے ۔ اور میں اسے اس امید پر راہوں میں بکھیر رہا ہوں کہ ایک نہ ایک دن میں اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دوں گا ۔ یعنی محبوب کی راہ میں فنا ہو کر زندگی کا اعلیٰ مقصد حاصل کر لوں گا ۔
A hand of dust is all I own; I scatter it upon the way, because I hope that on a day it shall ascend to heaven’s throne.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 42
آ کہ اہلِ مشرق نے نیا تعویذ باندھا ہے (وہ فرنگی جادوگروں کے طلسم کا توڑ تلاش کر چکے ہیں ) ۔ ایسی صورت میں اس بت (فرنگی افکار) کا طواف مت کر جسے توڑا جا چکا ہے) ۔
Come! The Asiatic man has created a new plan: Go not, pilgrimage to make to the idol that he brake.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 42
اے خدا یہ دل جو تو نے مجھے عطا کیا ہے یہ ایمان سے ہمیشہ بھرا رہے اور میرا یہ جام جس میں تمام جہان کو دیکھ سکتا ہوں اس دل سے بھی زیادہ روشن رہے ۔
Let this heart Thou gavest me overflow with certainty, and my world-beholding glass all its radiance surpass.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 43
مجھے عشق پر ناز ہے کہ اس کی ہستی کو زوال نہیں (عشق فانی نہیں ، بلکہ ابدی حقیقت ہے) وہ ایک ایسا کفر ہے جو حاضر و موجود کا زنار پہننے والا نہیں ۔
I boast a love that is not grieved by being of To Be bereaved, whose infidelity doth ne’er the girdle of existence wear.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 43
اے خدا! تیرے عشق کا بھید ہوس کے مارے ہوئے لوگوں کے سامنے نہیں کھولا جا سکتا ۔ شعلہ میں تڑپ کی بات گھاس کے تنکے سے کہنا فضول ہے ۔ کیونکہ وہ اس تڑپ سے ہی نا آشنا ۔ جب تک شعلہ کی تڑپ تنکے تک نہیں پہنچے گی ۔ اسے اس جلن اور تڑپ کا احساس کب ہو گا اس لیے اہل ہوس کو بھی عشق کی رمز سے کوئی سروکار نہیں ۔
To passion’s slaves let no man e’er the mystery of Thy love declare: It is not meet for straws to hear talk of the blazing brazier.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 44
میرے بے قرار دل پر ساقی عشق کی خالص شراب ڈالتا ہے وہ کیمیا ساز ہے ، پارے پر اکسیر ڈالتا ہے تاکہ سونے میں تبدیل ہو جائے ۔
The Saqi, pouring his pure wine upon my restless heart converts this quicksilver of mine to gold, by magic art.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 44
مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں بزم طرب میں رباب اور بانسری کی لے کے ساتھ رنگ رنگ کی شرابیں پیا کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب شراب کا جام میرے ہاتھوں میں اور صراحی (ساقی) کے ہاتھوں میں ہوتی تھی ۔
Ah, the wine, the lute, the piping, the dear memories of old, when I held the brimming beaker and my friend a bowl of gold.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 45
ایک دن ایسا آئے گا کہ خاک کے بنے ہوئے آدمیوں کی روشنی فرشتوں سے بڑھ جائے گی اور یہ زمین ہماری قسمت کے ستارے سے آسمان بن جائے گی ۔ انسان دنیاوی اور روحانی ترقی میں فرشتوں سے آگے نکل جائے گا ۔ )
Brighter shall shine men’s clay than angels’ light, one day; earth through our Destiny turn to a starry sky.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 45
میری اس اشکوں سے بھری آنکھوں نے رو رو کر میرے دامن میں ستارے گرا دیئے ہیں ۔ ان قیمتی اشکوں کی وجہ سے مجھ میں ایسا ذوق نظر پیدا ہوا کہ اس نے مجھے آسمانوں کے اس پار پھینک دیا ۔
Stars on my bosom shine wept from these eyes of mine: Lo, beyond heaven’s height; cast me the joy of sight;
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 46
میں نے اس بارے میں شریعت کی رو سے تحقیق نہیں کی ۔ سوائے اس کے کہ عشق سے انکار کرنے والا کافر اور آتش پرست ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق کے بغیر مسلمان صحیح مسلمان نہیں بن سکتا ۔ صرف عقل پر بھروسہ کر کے سچائی کی پہچان ممکن نہیں ۔ عشق کے بغیر شریعت کی بہت سے باتیں ایک معمہ نظر آتی ہیں ۔
I have never discovered well law’s way, and the wont thereof, but know him an infidel who denieth the power of Love.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 46
ہر کسی کی دوستی سے علیحدگی اختیار کر لے اور صرف آشنائے خدا کی صحبت اختیار کر ۔ کیونکہ اس کے سوا تیرا کوئی دوست نہیں ہو سکتا ۔ خدا سے خودی طلب کر اور خودی کے ذریعے خدا طلب کر ۔
Far, far from every other go with the One Friend upon the road; seek thou of God thy self to know, and seek in selfhood for thy God.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 47
(اے میرے محبوب) میرے اس بے چین دل کو (اپنے حسن کے جلووَں ) کی کشمکش سے ذرا بھی فراغت نہ دے ۔ اور اپنی ان پیچیدہ زلفوں میں ایک دو شکن پیدا کر دے تاکہ میں ان زلفوں کے پیچ و خم سے باہر نہ آ سکوں ۔
Leave no quarter to resist to this restless heart of mine give Thy curls another twist, let Thy tresses intertwine.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 48
تو دنیا کی طرف دیکھتا ہے لیکن اپنی معرفت حاصل نہیں کرتا ۔ اے نادان تو اپنی پہچان سے کب تک غفلت برتتا رہے گا ۔
The world, but not selfhood, thou canst see; how long in thy ignorance wilt thou sit?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 48
میری جان کائنات (زمان و مکان) سے بالکل اسی طرح متضاد ہے جس طرح پہاڑی سلسلے میں بہتی ہوئی ندی کا پانی (پتھروں سے ٹکرانے کے بعد ) شور کرتا ہے ۔
My soul, embattled with fortune ever, weeps like a river among the mountains.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 49
میں راتوں کو رونما ہونے والے حادثات سے نہیں ڈرتا، کیونکہ راتیں آخر کار ستاروں کی گردش کے باعث صبح کے اجالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔
In the accidents of night there is naught can me affright, seeing that the night is borne by the wheeling stars to morn.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 49
(اے چاراگر) میرے بے چین دل کو جو تسلی تو نے دی ہے اس سے بھی اس کی بے چینی و بے قراری میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ اس لیے میں اپنے اس بے قرار دل کو پھر سے تیرے سپرد کر رہا ہوں ۔ تاکہ تو اس کی بے قراری کا کوئی موزوں علاج تلاش کرے) ۔
In Thy hands I now deliver once again my restless heart; it will never cease from labour for the ease.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 50
تو کون ہےتو کہاں سے آیا ہےکہ نیلے آسمان نے تیرے استقبال میں تیری راہ میں ستاروں کی ہزاروں آنکھیں کھول رکھی ہیں (تیری عظمت و نشان یہ ہے کہ ساری کائنات تیرے جلووں کی منتظر ہے) ۔
What man art thou, and where thy home? In the blue skies the stars have opened, to see thee come, a thousand eyes!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 50
اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔
A single word sufficeth well the passion of a world to tell: The joy to view thee night to me moved me to this long history.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 51